Daily Mashriq

اے این پی اور ایم کیو ایم کا ممکنہ اتحاد

اے این پی اور ایم کیو ایم کا ممکنہ اتحاد

کہتے ہیں سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں ہوتی، آج کے مخالف کل کے حمایتی اور کل کے حلیف آج کے حریف کا روپ دھار لیتے ہیں، پاکستان کی چھوٹی سیاسی جماعتوں کی تو کسی حد تک مجبوری ہے کہ جب تک وہ بڑی سیاسی جماعتوں کیساتھ اتحاد نہ کریں ان کی اپنی سیاسی ساکھ ختم ہونے کا خدشہ رہتا ہے لیکن کبھی حالات ایسی صورت اختیار کر لیتے ہیں کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی چھوٹی جماعتوں کیساتھ الحاق پر مجبور ہوتی ہیں جیسا کہ آج کل مسلم لیگ ن کو عدالتوں میں احتسابی عمل کا سامنا ہے، اس دوران مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف عدالت سے نااہل ہوئے، اس کے بعد پارٹی کے سینئر رہنماء اور وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی نااہل ہوئے، ان حالات میں مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف منتخب ہوئے تو انہوں نے میاں نواز شریف کے برعکس مخاصمت کی سیاست کے بجائے مفاہمت کی سیاست کا آغاز کیا، اداروں کیساتھ ٹکراؤ کے بجائے احترام کی فضا قائم کرنے کا تاثر دیا، ایسے ہی انہوں نے پارٹی کے اندر روٹھے ہوئے رہنماؤں کو منانے کی سرتوڑ کوشش کی اور پارٹی سے باہر وہ لوگ جو مسلم لیگ ن کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے ان کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جیسا کہ میاں شہباز شریف کراچی اورسندھ میں ایک بڑا سیاسی اتحاد کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، نئی صف بندی کا حصہ ایم کیو ایم بہادرآباد اور اے این پی کو بنایا گیا ہے۔ شہباز شریف کی نئی حکمت عملی اس لحاظ سے بہترین ہے کہ ایک جانب تو پاکستان پیپلز پارٹی کو اس اکثریتی صوبے میں ٹف ٹائم دیں گے دوسری جانب وہ تحریک انصاف کی راہ بھی روک سکیں گے۔ یہی نہیں سندھ کے شہری علاقوں میں تیزی سے جگہ بناتی ہوئی پاک سرزمین پارٹی کو زیادہ کھل کرکھیلنے کا موقع نہیں دیں گے۔ اس حوالے سے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ شہبازشریف ایک تیر سے کئی شکارکرنا چاہتے ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ کراچی میں ن لیگ کا ووٹ بینک موجودہے۔ اگر ایم کیو ایم اور اے این پی ووٹرز نے اس اتحادکو قبول کر لیا تو یقیناً کامیابی شہباز شریف اور ان کے حامیوں کے قدم چومے گی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بات آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ کراچی میں موجود مسلم لیگ ن کا ووٹ بکھرا ہوا ہے۔ دوسری جانب نوازشریف کی نااہلی کے باعث پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں ن لیگ کی مقبولیت خاصی کم ہوئی ہے۔ کم وبیش اسی قسم کی صورتحال سے سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایم کیوایم بھی دوچارہے۔ بانی سے علیحدگی کے بعد سے تاحال ایم کیوایم کے رہنماؤں جن میں فاروق ستار‘ خالدمقبول‘ عامر خان ودیگر شامل ہیں، کی گرفت کمزور ہوتی نظر آرہی ہے اور اب تو ایم کیوایم پاکستان واضح طور پر دو دھڑوں میں بٹی ہوئی نظر آرہی ہے اور اس کا ووٹر بھی گومگوں کی کیفیت میں ہے، سینکڑوں کارکنوں، ذمہ داروں اور درجنوں اراکین اسمبلی نے پاک سرزمین پارٹی میں پناہ لے لی ہے۔ ایسے میں شہباز شریف کی حکمت عملی خاصی بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ اے این پی سے شہباز شریف کی 14اپریل کو گورنر ہاؤس میں ہم آہنگی ہوگئی تھی جس کے بعد اے این پی کے رہنما شاہی سید نے پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کیساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کر دیا تھا حالیہ دورے میں ایم کیو ایم بہادرآباد سے بھی معاملات طے پاگئے، جس دن ایم کیو ا یم بہادرآباد اور مسلم لیگ کے سربراہ کے درمیان مذاکرات ہوئے، رات کو ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم بہادر آباد کے عامر خان کو مائنس کرنے کا مطالبہ کر دیا، ایم کیو ایم کے دھڑوں کے دوبارہ انضمام کیلئے انہوں نے ایک نکاتی فارمولا پیش کر دیا اور کہا کہ ایم کیو ایم فاروق ستار یا عامر خان میں کسی ا یک کا انتخاب کرلے۔ جہاں تک تعلق ہے ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے حامیوں کا اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وہ ن لیگ سمیت کسی سیاسی جماعت سے الحاق یا کم ازکم کراچی اور حیدرآباد کی سطح تک اتحادکے حامی نظرنہیں آتے، ان کی کوشش ہے کہ ایم کیو ایم کے تمام دھڑے ایک پلیٹ فارم پر ضرور آجائیں، پر ماضی کی طرح اس بار بھی کسی دوسری سیاسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہ کریں چاہے وہ پاک سرزمین پارٹی ہی کیوں نہ ہو۔ اس حوالے سے ایم کیوایم پاکستان کے کارکنان بھی منقسم نظر آتے ہیں۔ ہوسکتا ہے جلد یابدیر ایم کیوایم بہادر آباد اور پی آئی بی کالونی اپنے اختلافات ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور فاروق ستار اوران کے حامی ن لیگ سے اتحاد پر تیار ہو جائیں لیکن سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ ایم کیوایم اور اے این پی بھی ایک ہوسکتے ہیں؟ کیونکہ کراچی کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں ہمیشہ ایک دوسر ے کے مقابل کھڑی رہی ہیں اوران کے رہنما ایک دوسرے کیخلا ف زہر اگلتے رہے ہیں۔رہی بات میاں شہباز شریف کی کوششوں کی تو فی الحال ابھی اتحاد قائم ہوا ہے۔ ایم کیو ایم بہادرآبادکے لوگوں نے ان کیلئے دیدہ ودل فرش راہ کئے ہیں۔ ن لیگ کے صدر پر گل پاشی بھی کی گئی لیکن اس استقبال کے دوران ایم کیوایم کے رہنماء فاروق ستار اور ان کے حامی موجود نہیں تھے۔ اس حوالے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ تقریباً آدھی ایم کیوایم اس اتحادکی حامی نہیں تھی یا ہے۔ اس کے علاوہ ابھی الیکشن میں وقت ہے، ہو سکتا ہے آنیوالے دنوں میں ایم کیوایم بہادر آباد بھی ن لیگ سے راہیں جدا کرلے لیکن ایک بات طے ہے کہ ایم کیو ایم کی موجودہ سیاسی پوزیشن کے اعتبار سے اسے کسی بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہے وہ سیاسی جماعت مسلم لیگ ن ہو یا کوئی اور اس بات کی سنگینی ایم کیو ایم کے رہنما بھی جانتے ہیں۔

اداریہ