Daily Mashriq


جنت مکین

جنت مکین

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کیساتھ جنت جانا بھی گوارا نہیں کریں گے۔ اگرچہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا ہی بیان تصور کیا جا رہا ہے لیکن اندیشہ ہے کہ اس بیا ن سے اہلیان جنت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہوگی۔ اس بیان میں ایک عبرت اور ایک سبق کا حوالہ بھی پوشیدہ ہے کہ انسان کتنا بڑا سیاستدان بھی ہو جائے وہ اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہوتا اور جنت کی امید ختم نہیں کرتا۔ بے شک اللہ کی ذات بخشنے والی اور معاف کرنیوالی ذات ہے۔ جولائی کے مہینے میں زرداری صاحب ترسٹھ برس کے ہوجائیں گے۔ سو ان کے منہ سے جنت کا ذکر یقیناً اپنے نفسیاتی حوالے ضرور رکھتا ہے۔ دنیا میں سیاسی حوالوں سے سب سے بڑا عہدہ بھی انہوں نے حاصل کر لیا ساتھ ہی پاکستان کی متمول شخصیات میں بھی اولین مقامات پر پہنچ چکے۔ ساتھ ہی پاکستان کی طاقتور ترین ہستیوں میں شامل ہوچکے یعنی دنیاوی زندگی میں کوئی خواہش کرے وہ زرداری صاحب حاصل کرچکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ساٹھ برس کے بعد کی زندگی کو عمر کا آخری پڑاؤ ہی تصور کیا جاتا ہے۔ اس پڑاؤ میں جنت کی بات کرنا یقیناً خدا پر یقین کی ایک صورت ہے اور اپنے مستقبل کے عزائم کا بیان بھی ہے۔ جیسا کہ کہا بخشنا اس ذات نے ہے، ہمیں اس سے کیا وہ فرعون اور شداد کو بھی بخش دے کیونکہ اللہ تو قادر ہے اور اپنی مرضی کا مالک سو جنت کی آرزو سے کون کسی کو روکے گا۔ زرداری صاحب کے اس بیان میں ایک خوداعتمادی بھی ضرور موجود ہے جیسے انہیں پکی اُمید ہو کہ جنت تو ملے گی۔ ضرور ان سے کچھ اچھے کام سرزد ہوئے ہیں کہ ان کی اُمید کا لیول کافی ہائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنے بڑے عہدوں پر بیٹھ کر انسان جہاں برے کام کر جاتا ہے وہیں دانستہ نادانستہ کچھ اچھے کام بھی ہوجاتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ اللہ سے اچھے کی اُمید ہی رکھنی چاہئے۔ خیر اب دیکھنا یہ ہے کہ ارسٹھ سالہ میاں نواز شریف، زرداری کے اس ارادے کا کیا جواب دیتے ہیں کیا وہ اب بھی مصر ہی رہیں گے کہ نہیں میں نے تو زرداری صاحب کیساتھ ہی جنت میں جانا ہے۔ یا فی الحال جنت جانے یا نہ جانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا یا ہوسکتا ہے کہ میاں صاحب مولانافضل الرحمان کیساتھ جنت جانے کا ارادہ رکھتے ہوں چونکہ لوگ جانتے ہیں کہ میاں صاحب اور زرداری صاحب کی پارٹیوں کے درمیان مشرف دور میں ایک عدد میثاق جمہوریت طے پایا تھا جس کے اثرات آج بھی پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ اس میثاق جمہوریت نے ان دونوں پارٹیوں کی ایک باری حکومت ودیعت کر دی لیکن عوام کیلئے ترقی کا زینہ اُلٹا ہوگیا تھا اور عوام دو چار پائیدان نیچے اُتر آئے تھے۔ اب جنت مکینوں کیلئے اس بیان میں یقیناً خطرے کی گھنٹی ضرور بجی ہوگی کہ سیاستدان جو نہ کرنے کا کہتے ہیں وہ ضرور کرتے ہیں اور جو کرنے کا کہتے ہیں وہ ان سے ہوتا نہیں، سو غالب امکان ہے کہ یہ دو بڑے سیاسی حریف اور کبھی کبھی حلیف ایک ساتھ ہی جنت میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گویا جنت جانے کیلئے بھی میثاق جمہوریت ہی وسیلہ ٹھہرے گا چونکہ جنت کے بھی کئی درجے ہیں سو دیکھنا یہ ہے کہ ان دو بڑی ہستیو ں کو جنت میں کون سا مقام میسر آتا ہے کیونکہ دنیا میں تو انہیں وی وی آئی پی کا درجہ ملا تھا۔ کیوں ملا تھا اس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے کہ ہم کبھی وی آئی پی کے کسی ادنیٰ درجے تک بھی نہیں پہنچے اسلئے خاموشی ہی جواب ہے۔ اس سیاسی بیان کو دیکھا جائے تو اس میں پوشیدہ ایک شدید محبت کا پہلو بھی ہے۔ زرداری صاحب کے لہجے میں گلے شکوے کا انداز ہے۔ بالکل ایسے ہی کہ جیسے ان کا پہلے کبھی ارادہ ضرور تھا کہ وہ اپنے ساتھ میاں صاحب کو جنت لے جانے کا ارادہ ضرور رکھتے تھے لیکن بعد ازاں ان کی بیوفائی (بقول زرداری) انہیں اپنے ساتھ جنت جانے کی لسٹ سے نکال لیا گیا۔ بالکل ایسے ہی جب صدر یا وزیراعظم غیر ملکی دوروں پر ساتھ لے جانے کیلئے معززین کی لسٹ تیار کرواتے ہیں۔ اس میں بعض ماہرین سیاسیات کا یہ بھی خیال ہے کہ زرداری صاحب کی مراد جنت سے جنت نہیں بلکہ انہوں نے جنت کا لفظ علامتی طور پر استعمال کیا ہے۔ جنت سے ان کی مراد آئندہ حکومت ہوسکتی ہے چونکہ میاں صاحب عدالت سے نااہلی کی بناء پر مستقبل قریب میں حکومت بنانے کے اہل نہیں ہیں جبکہ زرداری صاحب فی الحال ایسی کسی ناگفتہ صورتحال سے آشنا نہیں ہوئے۔ ان کی پارٹی ماضی میں بھی چاروں صوبوں کی نمائندہ جماعت ثابت ہو چکی ہے۔ جولائی2018 کے الیکشن میں بھی یہ پارٹی اُمید رکھے گی کہ ایک بار پھر وفاقی حکومت میں آجائے۔ ہوسکتا ہے کہ زرداری صاحب نے مستقبل کی اسی ’’جنت‘‘ میں میاں صاحب کو ساتھ نہ لے جانے کا عندیہ دیا ہو۔ اگر ماہرین سیاسیات کی اس بات کو مان لیا جائے توکراچی کے راستے اسلام آباد کی اس جنت تک پہنچنے کیلئے راستے میں لاہور بھی پڑتا ہے۔ جہاں اب بھی نون لیگ ہی کی میٹرو چلتی ہے۔ اسی میٹرو پر بیٹھ کر اسلام آباد کی جنت تک پہنچا جاسکتا ہے۔ زرداری صاحب اس میٹرو سے کیسے بچ نکل کر اسلام آباد پہنچیں گے۔ ہماری یہ ساری باتیں اس وقت تک خیالات وتصورات تک ہی محدود رہیں گی جب تک کہ خود میاں نواز شریف یہ نہیں بتا دیتے کہ وہ جنت کس کیساتھ اور کس راستے سے جانا پسند کریں گے۔ اُمید ہے جلد ہی ان کا جواب آہی جائے گا۔

متعلقہ خبریں