Daily Mashriq

چینی سرمایہ کاری، دیگر پہلوؤں پر بھی غور کی ضرورت

چینی سرمایہ کاری، دیگر پہلوؤں پر بھی غور کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان نے چین کو پاکستان میں صنعتیں منتقل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آئندہ ایک یا دو برسوں میں ترقی کی وہ شرح حاصل کرلیں گے جس کے بارے میں ہم پہلے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین سے زراعت اور ٹیکنالوجی میں ملنے والی مدد کی بدولت پاکستان آئندہ ایک یا2 برسوں میں ترقی کی وہ شرح حاصل کرلے گا جس کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سوچا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایم ایل ون معاہدہ بھی طے پاگیا ہے جس کے تحت پشاور سے کراچی تک ٹرینوں کیلئے ڈبل ٹریک بچھایا جائے گا۔ وزیراعظم نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں آئیں اور اپنی صنعتیں منتقل کریں، ہماری حکومت آپ کیساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آپ کو آسانی فراہم کرتے ہوئے ٹیکس میں چھوٹ بھی دے گی تاکہ آپ یہاں اپنا کاروبارہ آسانی کیساتھ کر سکیں۔ وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں سے کہا کہ وہ پاکستان آئیں اور اسے صنعتی شعبے میں اپنے بیس کے طور پر استعمال کریں اور یہیں سے اپنی مصنوعات کو بیرون ملک برآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں اپنی برآمدات پر زیادہ توجہ نہیں دی، تاہم اب ہم اپنی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے نہ صرف برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ چینی سرمایہ کاروں کو بھی سہولیات فراہم کریں گے۔ وزیراعظم کا چینی صنعتکاروں کو پاکستان میں صنعتیں لگانے اور ٹیکس میں چھوٹ کیساتھ پاکستان ہی سے اپنے مصنوعات برآمد کرنے کی دعوت کو ملکی ترقی کیلئے مثبت اقدام سمجھنا ان کا حق ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سی پیک کے منصوبے میں چینی صنعتوں کے قیام کا منصوبہ پہلے ہی سے موجود ہے۔ چینی صنعتکاروں کی پاکستان میں صنعتیں لگانے کے حوالے سے جہاں حوصلہ افزاء اُمیدیں وابستہ کرنے کے مواقع ہیں وہاں ہمیں اس موقع پر دیکھنا ہوگا کہ آیا حکومت ملکی صنعتوں اور صنعتکاروں کو وہ سہولیات اور رعایتیں دے رہی ہے جس کی پیشکش چینیوں کو کی جا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتوں کی تباہی کا باعث بننے والے دہشتگردی اور بدامنی کے حالات پر قابو پالیا گیا ہے لیکن ابھی حکومت کی جانب سے دہشتگردی، بدامنی، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، بجلی اور گیس کے بحران کے باعث صنعتوں کا خسارے میں جانا، ان کی بندش اور منتقلی جیسے عوامل کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا محولہ حالات وواقعات کا تدارک ہو چکا اور ملکی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کا اعتماد بحال ہوچکا اور وہ صنعتی احیاء اور سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد ہی ہمیں غیرملکی سرمایہ کاروں کو صرف ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ سرمایہ کاری کی دعوت دینے کی ضرورت ہے جس میں ہمارے سرمایہ کار زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے یا پھر ان کے پاس فنی مہارت اور ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی مفاد اسی میں ہے کہ سب سے پہلے ہم ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ غیرملکی سرمایہ کار خواہ وہ چینی دوست ہی کیوں نہ ہوں ان کی جانب سے جتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوگی پاکستان کے حصے میں روزگار اور کاروبار کے محدود مواقع ہی آئیں گے جبکہ منافع باہر منتقل ہوگا۔ اس وقت خاص طور پر صورتحال توجہ کا متقاضی ہے کہ آخر ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریزاں کیوں ہیں؟ معاشی صورتحال میں بہتری کی بجائے ابتری کیوں ہے؟ اس کی وجوہات کافی حد تک معلوم اور عام نوعیت کی بھی ہیں۔ فی الوقت ملکی سرمایہ کار سرمایہ لگانے میں خود کو غیرمحفوظ اور خدشات کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ ملک میں سوال جواب کا ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ سرمایہ کار سرمایہ منجمد رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اولاً ملک میں چینی سرامایہ کاروں کی آمد اور ان کو کارخانے چلانے میں وقت لگے گا، یہ عمل وزیراعظم کی توقعات کے مطابق دوسال میں ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ دوم یہ کہ چین ماحولیاتی آلودگی کے باعث بعض کارخانوں کی منتقلی کا منصوبہ رکھتا ہے ایسی صورت میں پہلے سے آلودگی کے خطرات سے دوچار ملک کی فضا مزید زہر آلود ہو سکتی ہے اور سنگین ماحولیاتی مسائل کے باعث پیچیدگیاں اور خطرات درپیش ہوں گے۔ چینی سرمایہ کاری کے دیگر پہلوؤں میں معاشرتی تغیر وتبدل اور ایک اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے خدشات بے سبب نہیں، ان سارے عوامل کے باوجود بھی چینی سرمایہ کاری سے ہم اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکیں گے۔ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کیلئے سخت فیصلوں کیساتھ ساتھ ملکی صنعتوں اور سرمایہ کاری کو فروغ اور اپنے ہی سرمایہ کاروں کو مراعات دینے کی ضرورت ہے۔ چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کے بعد پاکستانی صنعتیں اس کا مقابلہ کر سکیں گی اور کیا ملکی صنعتوں کی بقاء ممکن ہوگی، اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور آزاد تجارت ایک دل خوش کن خواب ضرور ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ چین پہلے ہی ہماری مارکیٹ پر تسلط رکھتا ہے، آزاد تجارت سے مقامی مصنوعات کی کھپت میں مزید کتنا سکڑاؤ آئے گا اس پر بار بار غور کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں