Daily Mashriq

علمائے کرام کے دو اہم مطالبات

علمائے کرام کے دو اہم مطالبات

علماء مشائخ کا تمام متعلقہ صوبائی محکموں سے نفرت انگیز لٹریچر کی روک تھام کی سفارش سنجیدگی کیساتھ ہم آہنگی کی فضا کے قیام کی سعی ہے۔ قومی علماء مشائخ کونسل حکومت پاکستان سے رمضان المبارک میں الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے پروگراموں میں مستند اہل علم اور سنجیدہ افراد کی نمائندگی کو یقینی بنائے، نیز مذہبی تشخص اور وقار کو بھی پیش نظر رکھنے کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی بروقت اور قابل غور ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ معاشرے میں اخوت وبرادری کی فضا کو خراب کرنے کیلئے مختلف قسم کی سازشیں ہوتی رہتی ہیں جس میں پراپیگنڈے سے لیکر قابل اعتراض اور غلط لٹریچر کی تقسیم بھی شامل ہے جس کی بناء پر پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے باعث نفرت کا پھیلنا فطری امر ہے۔ بعض اوقات نوبت تصادم تک کی آجاتی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ علماء کرام اب اس غلط فہمی پھیلانے والے عوامل کیخلاف ایک مرتبہ پھر میدان عمل میں اُتر آئے ہیں۔ اس ضمن میں حکومتی اداروں کی جو ذمہ داریاں بنتی ہیں ان پر انہیں اور جو ذمہ داریاں علمائے کرام کے حصے میں آئیں ان پر علمائے کرام کاربند ہو کر اس لعنت کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ علمائے کرام کی جانب سے رمضان ٹرانسمیشنز میں مستند اہل علم اور سنجیدہ مطالعے اور دین کا فہم اور علم رکھنے والے افراد کو دعوت دینا اور ان سے رہنمائی لینے کی ضرورت کو اُجاگر کرنا کافی نہیں، اس ضمن میں علمائے کرام کو مطالبات سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ یہ دین کا معاملہ ہے۔ ہمیں رمضان ٹرانسمشن کی افادیت سے انکار نہیں لیکن رمضان ٹرانسمشن کی میزبانی جن میزبانوں کے سپرد کی جاتی ہے وہ دینی اور مذہبی پس منظر اور علم رکھنے والے نہیں ہوتے بلکہ ان کی شخصیت کا دیگر پہلو نمایاں ہوتا ہے اور وہ دین کا علم بھی نہیں رکھتے۔ اگر یہ لوگ اپنا پس منظر چھوڑ کر آئندہ دینی اور مذہبی پروگراموں یا اس قسم کے سنجیدہ پروگراموں ہی تک خود کو محدود کرلیںاور آئندہ ناچ گانے کا پروگرام کرنے سے احتراز کر لیں تو رمضان ٹرانسمشن کرنے میں مضائقہ نہیں۔ علاوہ ازیں کی صورتحال میں اس قسم کے لوگوں کی میزبانی کو رمضان المبارک کی بابرکت ماہ کی توہین اور مذاق اُڑانے کے مترادف ہی گردانا جائے گا، اس کیخلاف سوشل میڈیا پر بھی بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔ علمائے کرام کو جہاں اس پر آواز بلند کرنا چاہئے وہاں بائیکاٹ کو مؤثر بنانا اچھا اقدام ہوگا جس میں سب کو حصہ لینے کی ضرورت ہے۔

بے وقت اور طویل لوڈشیڈنگ

گرمی میں اضافے کیساتھ ساتھ پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ جانے سے شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت شہری علاقوں میں 8گھنٹے جبکہ نواحی علاقوں میں چوبیس گھنٹوں میں 15گھنٹے سے زائد بجلی کی سپلائی معطل رہتی ہے، جس کی و جہ سے گھریلو صارفین کیساتھ ساتھ بازاروں میں بجلی سے چلنے والے کاروبار بھی مندے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے مزید طول اختیار کر لیا ہے جس کے دوران شہری علاقوں میں ہر تین گھنٹے کے بعد بجلی کی سپلائی معطل رہتی ہے۔ اس سلسلے میں پیسکو ذرائع کے مطابق شہر کے کسی بھی حصے میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی تاہم نادہندہ علاقوں کیلئے سخت شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ٹویٹر پر روزانہ کی بنیاد پر پیداوار اور استعمال کا نہ صرف توازن کا دعویٰ کیا جارہا ہے بلکہ اضافی بجلی کی بچت اور موجودگی کا بھی عندیہ دیا جارہا ہے۔ شہری علاقے ہوں یا دیہی علاقے بلوں کی وصولی اور ادائیگی کے نظام میں کافی بہتری کے خود پیسکو حکام بھی معترف ہیں۔ اس کے باوجود بجلی کی صرف لوڈشیڈنگ نہیں طویل بندش جاری ہے جس کی توجیہہ نئی ٹرانسمشن لائن ڈالنے کی پیش کی جاتی ہے۔ یہ ہفتے دو ہفتے کی بات ہوتی اور مہینہ بھی لگ جاتا تو شک کی کوئی وجہ نہ تھی یہاں تو پوری سردیاں گزر گئیں اور گرمیوںکے ابتدائی ماہ گزر رہے ہیں مگر بجلی کی بندش ومعطلی میں کمی نہیں آتی۔ لوڈشیڈنگ کا شیڈول دے کر اور اعتراف کر کے کیا جاتا تو عوام کو اس کا پہلے ہی سے تجربہ رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ بھی کرنے اور تسلیم بھی نہ کرنے کا رویہ افسوسناک وناقابل برداشت ہے۔ بلوں کی عدم ادائیگی کا عذر بھی اس لئے قابل قبول نہیں کہ حیات آباد میں بلوں کی سوفیصد اور بروقت ادائیگی یقینی طور پر ہوتی ہے مگر وہاں بھی گھنٹوں گھنٹوں بلکہ پورا دن بجلی غائب ہونے کی شکایت عام ہے۔ شنید ہے کہ گردشی قرضے ایک مرتبہ پھر آخری حد کو پہنچ چکے ہیں جس کی ادائیگی کے بغیر صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔ بہرحال صورتحال جو بھی ہو رمضان المبارک کی آمد آمد کے اس موقع پر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا حکومت یقین دلائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں کہ رمضان میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان صرف دعوے کی حد تک نہ ہو بلکہ عملی طور پر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور بجلی کی کمی دور کی جائے۔

متعلقہ خبریں