Daily Mashriq


وہ جونہ کیا جاسکا

وہ جونہ کیا جاسکا

سال 2001 کے بعد سے اب تک "سیاسی تجربہ گاہ" خیبرپختونخوا میں دوایسی قوتیں برسراقتدارآئیں جنہیں لوگوں نے ایک ہی انداز میں اپنے پلے سے ـ"ووٹ ونوٹ" دے کر اسمبلیوں میں پہنچایایہ قوتیں تھیںمتحدہ مجلس عمل اورتحریک انصاف، ان دونوں کو لوگوں کی طرف سے ملنے والے مینڈیٹ کی دو بڑی وجوہات یعنی سماجی انصاف سے محرومی اوراسمبلیوں میں پہنچ کرووٹرکو بھول جانے والے اشرافیہ کو سبق سکھانا شامل تھے۔وہ دوسری بات ہے کہ ان کے مخالفین ان کی کامیابی کو صرف عوامی مینڈیٹ تسلیم نہیں کرتے اورکہتے ہیں کہ انہیں یہ مینڈیٹ "دیا گیا "تھا۔

ایم ایم اے تو دیگرجماعتوں کی طرح ایک ہی بار کی حکومت پرفارغ ہوگئی البتہ تحریک انصاف اس حوالے سے منفردرہی کہ اسے دوسروں کے مقابلے میں مسلسل دوسری باریہ موقع دیاگیا ۔تاہم شومئی قسمت کہ اب اپوزیشن جماعتوں سے زیادہ حکومت خود پریشان لگ رہی ہے ، تاریخ میں شاید یہ پہلی بار ہوا ہے کہ عام انتخابات ہارنے والوں سے زیادہ جیتنے والے پریشان اورمضطرب ہیں۔ اس پریشانی اوراضطراب کی وجوہات بڑی واضح ہیں کہ اقتدار تو مل گیا لیکن وہ جواقتدار کے اس پورے پیکج میں میاں نواز شریف اورآصف علی زرداری کے مبینہ لوٹے گئے جن دوسوارب ڈالر کی پاکستان واپسی کاجو وعدہ ہوا تھا وہ نہ مل سکے ، یہ بھی سمجھا گیا تھا کہ دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی پراقتدار کے راستے بھی ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے ان کی پوری لیڈرشپ عمر بھر کے لئے بلیک لسٹ ہوجائے گی اورپھرآئندہ حکومتیں بھی "اپنی" ہونگیں لیکن عمران خان کو دی جانے والی ماضی کی بہت ساری غلط اطلاعات کی طرز پریہ معلومات بھی ٹھیک ثابت نہ ہوسکیں۔ناں ہی مذکورہ دونوں رہنما مستقل جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھے جاسکے۔مخالفین کو جیلوں میں لے جانے والوں کو یہ بھی یقین تھا کہ جب خزانہ بھرا ہوا ہوگا توپھرکون یہ پوچھے گا کہ وفاقی اورپنجاب وخیبرپختونخوا میں کام کیوں نہیں چل پارہا؟

حکومت کے پہلے سودنوں کے پلانز پرکتنا عمل درآمد ہوسکا ہے کسی کو یاد نہیں، ہاںایک کروڑنوکریوں اورپچاس لاکھ گھروں کی تعمیرکی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے، وہ تو ان کی خوش قسمتی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس طرف دھیان نہیں دے رہیں اورکوئی سنجیدہ مطالبہ نہیں کررہیں،

یہ تو معمولی سا اجمالی جائزہ صرف اس لئے قارئین کی نذر کیا تاکہ انہیں ادراک ہوسکے کہ کس کے ساتھ کہاں ہاتھ ہوا ہے؟

حالات اتنے خراب نہ ہوتے اگرعمران خان اوران کی ٹیم مشکلات اورامیدوں کو الگ الگ کرکے ان کے لئے کام کرتے۔وہ لوگوں کی امیدوں کو پورا کرنے کے کچھ کاموں کی شروعات بھی کرجاتے تو بہتر ہوتا۔

سب کو معلوم ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے لیکن ان حالات میں بغیر ایک پیسہ خرچ کئے بہترطرزحکمرانی کے ذریعے کچھ کام کئے جاسکتے تھے جن کی طرف حکومت کا دھیان جاتا نظر نہیں آرہا۔اب کوئی یہ بتائے کہ یہ حکومت اس کا کیا جواب دے گی کہ انہوں نے بجلی کی مد میں سالانہ کئی سو ارب روپے کے زیرگردش قرضوں کو بڑھنے سے روکنے کے لئے کیا کیا ہے؟معیشت کے خستہ پائپوں سے رس کربہنے والے روزانہ کئی ارب اورسالانہ کئی سو ارب روپے کی کرپشن کا راستہ روکا یا نہیں؟چلیں ملک بھر میں توتحریک انصاف کی حکومت ناتجربہ کار ہے لیکن خیبرپختونخوا میں تو اس کی حکومت کا چھٹا سال ہے یہاں ایک سال کے نامکمل درجنوں سینکڑوں ترقیاتی منصوبے تھرو فارورڈ کی صورت اگلے سالوں میں کیوں منتقل ہوتے رہے؟ ہسپتالوں میں ادویات اورآلات کی چوری کے سوراخ کیوں بند نہیں کئے جارہے، تعلیم کے میدان میں ترقی کی بجائے تنزل کی رپورٹس کیوں آرہی ہیں؟ کیا یہ حکومت اس چھٹے سال بھی یہ دعوی کرسکتی ہے کہ سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ہیلتھ، ایری گیشن،محکمہ مال اورپولیس میں کہیں کرپشن بند ہوئی ہے ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب لین دین ذرا زیادہ محفوظ طریقے سے ہوتا ہے اورکرپشن کا ریٹ پہلے کے مقابلے میں بڑھ گیا ہے کہ اب بیچ والے کو بھی حصہ دینا ہوتاہے؟ صوبے میں صرف ٹیکسوں کی وصولی کا نظام بہتر کرکے وفاق پرانحصار کو کم کیا جاسکتا تھا، پانی کے چارلاکھ صارفین میں سے صرف سترہزارہی بل وصول ہوتے ہیںباقی کو ڈھونڈ کران سے بھی وصولی کی جاسکتی تھی، پشاورمیں صفائی اورٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کا کوئی بہتر منصوبہ بناکر بری ترحالت میں موجود شہر کو ملک کا ماڈل شہر بنایاجاتا ، بیرون ملک سے اچھے ڈاکٹروں کو پاکستان میں میڈیکل کیمپ لگانے کے لئے آمادہ کرتے تو مقامی ڈاکٹروں کو بھی ہفتے میں ایک دن مفت طبی سہولیات کی فراہمی کا رجحان پیدا ہوتا۔ دواساز کمپنیوں کو فلاحی کاموں میں سرمایہ کاری پرآمادہ کیا جاسکتا تھا ، یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے گریجویٹس کی کیریرکاونسلنگ کے لئے حکومت نجی مد کو ساتھ ملاکرکام کرسکتی تھی اور یوں بہتررہنمائی کے اس نظام کے اثرات کسی بھی سیکٹر میں سرمایہ کاری سے بڑھ کرسامنے آتے۔ ان نوجوانوں کا ڈیٹا ایک جگہ ڈیجیٹل ایپ میں جمع کیا جاتا اورجہاں ان کی ضرورت ہوتی وہ ان کو ایپ کے ذریعے ڈھونڈ لیتے، دنیا بھر میں ملازمتوں تک لوگوں کی رسائی کا اچھا خاصا نظام قائم ہے لیکن یہاں قانون ہونے کے باوجود بھی ابھی تک خدمات تک لوگوں کی رسائی کا کوئی بندوبست نہیں کیا جاسکا۔ آج کوئی جواب مانگے نہ مانگے کل جب مدت پوری ہوتو شاید لوگ ان باتوں کے جواب ضرورمانگیں گے۔ اس لئے حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ قوم کو مایوسیوں سے نکال کران سمتوں میں ایسی ایکٹیویٹی شروع کرے جس سے لوگوں کا گرتا مورال پھر بلند ہوسکے۔

متعلقہ خبریں