Daily Mashriq


جاننے کا دکھ بھی عذاب ہوتا ہے

جاننے کا دکھ بھی عذاب ہوتا ہے

چار اور خبریں بہت ہیں اور گرمی بھی۔ موسم اور سیاست دونوں میں مقابلہ جاری ہے۔ انداز تکلم تو ایسے ایسے ہیں کہ رہے نام اللہ کا۔ کتابوں اور دوستوں کے درمیان رہنے کا فائدہ بہت ہے، آدمی کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ ان لمحوں میں حسین لوائیؒ یاد آرہے ہیں۔ فرماتے ہیں ’’بستیوں میں بھوک ناچتی ہو تو قناعت کرنے والے بھی منہ چھپا کے روتے ہیں‘‘۔ جواں مرگ شاعر نجم لاشاری نے بھی کیا خوب کہا تھا ’’بھوک نگر کے باسی اپنا سب خود کھا جائیں پھر بھی بھوکے ہی رہ جائیں‘‘۔ کیا بھلا مانس اور انسان دوست جوان تھا۔ عالم‘ فاضل باپ کا بیٹا‘ سفیر لاشاری سرائیکی ادب وتہذیب کے ماتھے کا جھومر تھے۔ ان کے فرزند انجم لاشاری نے 1970ء اور 1980ء کی دو دہائیوں میں نثری نظموں سے جگ کو حیران کیا۔ اچھوتے خیالات‘ زمین زادوں کا دکھ‘ چار اور کے مسائل۔ اس نے جس موضوع پر بھی لکھا کمال کیا۔ نثری نظم بیز سے بھوک نگر تک نے اسے ان برسوں کے کراچی کی نئی نسل کا محبوب شاعر بنا دیا۔ پھر ایک دن منوں مٹی کی چادر اوڑھ کے سو گیا۔ پچھلی نصف صدی میں کیسے کیسے لوگ بچھڑ گئے۔ لالہ سید زمان جعفری سے سید رضی شاہ بخاری تک ایک لمبی فہرست ہے۔ پروفیسر غلام محمد قاصر ہوں‘ سانوں دھریجو‘ نذیر عباس ہوں یا فقیر اقبال ہسبانی شہید‘ سبھی آنکھوں سے اوجھل ہوئے۔ موت کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکنا ہے۔ سانسوں کی ڈور وقت مقررہ پر کٹتی ہے۔ آدمی بچھڑنے والوں کو یاد کرے یا جنم بھومی سے بچھڑنے والے مادر وطن کو‘ یادیں ہیں کہ نوحے۔ دو دن ہوتے ہیں سندھو کنارے صدیوں سے آباد ڈیرہ اسماعیل خان کے روشن فکر ادیب عباس میاں کا سفرنامہ ’’دلی دل والوں کی‘‘ موصول ہوا‘ یہ سفرنامہ ڈیرہ اسماعیل خان کی میٹھی مٹی اور سندھ دریا کے خوشبودار پانی سے گندھا عباس میاں ہی لکھ سکتا ہے۔ سفرنامہ کیا ہے بٹوارے کے عذابوں کی بدولت اپنی جنم بھومی سے بچھڑے ان زمین زادوں کا نوحہ ہے جو جسمانی طور پر ہجرت کر گئے مگر روحانی طور پر آج بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں بستے ہیں۔ عباس میاں آسٹریلیا سے دہلی گئے اور جنم بھومی سے بچھڑے اپنے دیرہ والوں سے ملے جو دیکھا‘ سنا محسوس کیا وہ سب بیان کردیا۔ شاندار حکمت پر قادر ہمارے ادیب نے بٹوارے اور حبس سے بنے موسموں میں زندہ تحریر لکھی۔ ایسی زندہ تحریر جس سے ہم ان جذبوں کو جان پاتے ہیں جو ماں دھرتی سے بچھڑے زمین زادوں کے ہوتے ہیں۔

اپنی دھرتی‘ جنم بھومی‘ تہذیب اور تاریخ سے ہمیشہ کیلئے جدائی قیامت صغریٰ سے کم نہیں، بٹوارے کے زخم خوردہ لاکھوں لوگوں نے اس قیامت کو بیتایا ہے کچھ ابھی تک بیتا رہے ہیں۔ عباس میاں رزق سے بندھی ہجرت کی بنا پر دور کے ایک دیس میں بستا ہے۔ اپنوں سے دوری اسے سمجھا پڑھا گئی ہے کہ جدائی کیا ہوتی ہے۔ دو دنوں میں اس سفرنامے کو دوبار پڑھ چکا ہوں۔ ہمارے محبوب دوست اور اردو وسرائیکی کے بلند وقامت ادیب محمد حفیظ خان کا ناول ’’ادھ ادھورے لوگ‘‘ بھی بٹوارے کی قیامت کے پس منظر میں ہے۔ ہائے کون سمجھے گا سرحدیں بنتی ہیں تو زمین ہی تقسیم نہیں ہوتی ہجرتیں ہوتی ہیں‘ خاندان تقسیم ہوتے ہیں‘ ہجرت کے دوران کتنے لوگ پیاروں سے ہمیشہ کیلئے بچھڑتے ہیں اور کتنے نئی سر زمین (ملک) پر پہنچ جاتے ہیں۔ افسوس کہ 1947ء کے بٹوارے پر دونوں طرف زیادہ تر نفرتوں میں ڈوبی کہانیاں لکھی گئیں بہت کم ایسی تحریریں سامنے آئیں جو انسان دوستی میں گندھی ہوئی ہیں۔جب بھی خوابوں‘ تعبیروں اور اشکوں کے موسم اُترتے ہیں تو مجھے حاذق یاد آنے لگتے ہیں۔ شاعر دمشق حاذق جو کہتے ہیں ’’آدمی خواب ہی تو دیکھتا ہے‘ لیکن خواب فروش زندگی چرا لیتے ہیں‘‘۔ پچھلی شب فقیر راحموں کہنے لگے شاہ جی! پتہ ہے اس ملک میں سماجی مساوات کا انقلاب کیوں نہیں برپا ہوا؟ دریافت کیا تو بولے

شاہ جی! ندیدوں کے ہجوم منزل پر نہیں پہنچ پاتے‘ بالادست طبقات نے پیٹ سے سوچنے کی بدعت کو پروان چڑھایا ہے۔ علم نصابی کتابوں کو سمجھ لیا گیا اور زندگی دوسروں کو روند کر آگے نکل جانے کو۔ بت پرستوں کے سماج میں انقلاب نہیں آتے سب اپنے اپنے بت کو پوجتے اور بت پرستی کو روتے رہتے ہیں‘‘۔ میں بھی کیا موضوع لے بیٹھا ہوں۔ کراری کراری خبروں کے بیچوں بیچ خشک سالی جیسا کالم۔ پڑھنے والوں کا جتنا لکھنے والوں پر حق ہے اتنا تو ہمارا بھی ہوگا۔ کہتے ہیں حالات اچھے نہیں‘ مسائل ہی مسائل ہیں۔ مہنگائی نے قبرستان جیسی خاموشی مسلط کردی ہے۔ ہمارا ایک دوست ساری باتیں شکوے اور مسائل سن کر کہتا ہے۔ ’’یار تم یہ تو دیکھو ہمارا وزیراعظم کتنا سمارٹ ہے‘‘۔ خیر چھوڑیں سیاست پر پھر بات کرلیں گے پھر سے فقیر راحموں سے رجوع کرتے ہیں، فی الوقت ایک یہی ہے جس سے دل کی بات کی جاسکتی ہے۔ دسترس میں یہی ہے، باقی چار اور کے لوگ تو اپنی اپنی زندگی بھگت رہے ہیں۔ فقیر راحموں کہتا ہے ’’شرف انسانی کا امتحان جینے نہیں دیتا ورنہ دامن اور بند قبا نہ دیکھنے والوں کو کڑوی کسیلی سناتے‘‘ فائدہ کیا اس کا۔ لوگ جی ہی تو رہے ہیں بس کیا محض جینا شرط ہے؟ ہے تو نہیں تقاضے کچھ اور ہیں مگر وہ جو مرشد جی ایم سید نے کہا تھا ’’دکھوں کی آگ میں جلنے سے بہتر ہے کہ آواز لگائی جائے‘‘۔ مرشد زندہ ہوتے تو ان کی خدمت میں عرض کرتے‘ مرشد! ہم تو قبرستان میں جی رہے ہیں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی بس کبھی کبھار کلمۂ شہادت اور ایک نئی قبر بنتی ہے۔ ان قبروں کے بیچوں بیچ کیسے بین کیسا ماتم؟۔

متعلقہ خبریں