Daily Mashriq


رواں صدی اور دنیا کا اختتام!

رواں صدی اور دنیا کا اختتام!

ایک زمانہ تھا کہ لوگوں کے پاس آج کی طرح سائنسی علوم وفنون نہیں تھے۔ ایک طرف انبیاء کرام علیھم السلام کی تعلیمات تھیں، جن کے اثرات انسانی دنیا پر مدھم ہوگئے تھے اور انسان نے مذہب کے نام پر اپنی سوچ وفکر اور دینوی وباطنی تسکین واطمینان کے کچھ رسوم ورواج اور عقائد بنا لئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ خاتم النبیینؐ کی بعثت تک دنیا ومافیھا سے متعلق عجیب عجیب نظریات رائج تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ دنیا کب اور کیوں پیدا ہوئی اور کب اختتام پذیر ہوگی۔ جناب رسول اللہؐ پر قرآن کریم کی صورت میں جو وحی نازل ہوئی اُس میں دنیا اور کائنات ومافیھا سے متعلق بعض ضروری وبنیادی معلومات فراہم ہوئیں، تو انسان کے خیالات وافکار اور عقائد تبدیل ہونا شروع ہوئے۔

چونکہ قرآن کریم بنیادی طور پر انسانیت کیلئے رشد وہدایت کی کتاب ہے اس لئے اس میں بنیادی عقائد اور عبادات کا حکم اور تشریح وتوضیع کی گئی لیکن اس کیساتھ ہی کائنات اور مخلوقات کی تخلیق اور مقاصد کے بارے میں بھی بنیادی معلومات فراہم کی گئیں۔ قرآن کریم نے کائنات ومافیھا کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا عبث پیدا نہیں ہوئی۔ اس کا ایک خاص مقصد ہے اور اس کی ساری مخلوقات وغیرہ کا بھی ایک خاص مقصد وحکمت ہے اور انسان دنیا کا اشرف وافضل مخلوق ہے اور اس کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ نے انسان کو یہ بھی بتایا کہ یہ دنیا اور اس کی ساری مخلوقات عارضی ہیں اور ایک دن یہ سب فنا ہوجائیں گے اور آخرت یعنی قیامت برپا ہو جائیگی،جہاں حساب کتاب کے بعد ابدی زندگی ہوگی۔ پھر زمانہ بدلا اور وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ مغرب نے انگڑائی لی اور وہاں سائنسی علوم وفنون کی ترقی کے سبب نئے نظریات وافکار نے جنم لیا۔ سائنسی ایجادات نے زندگی کو ظاہری آسائشوں کی فراہمی کے ذریعے بہت پرلطف اور دلکش بنایا۔ لیکن اس کیساتھ ہی انسان مادی دنیا میں اتنا مشغول وملوث ہوا کہ اس کا باطن اور روحانی تلپٹ ہو کر رہ گئیں اور یوں اس دنیا کی زندگی ہی انسان کیلئے سب کچھ بن گئی اور یوں وہ اس دنیا اور کائنات کے بارے میں بھی نئے نظریات نئے اصول وافکار لانے لگا۔ جس میں اہم نکات یہ تھے کہ بس جو کچھ ہے یہی دنیا ہے اور یہ مواقع جس کو ملے اور جس نے ان کو گرفت میں لیکر اُٹھایا وہ کامیاب رہا کیونکہ زندگی میں یہ موقع ایک ہی بار ملتا ہے اور اس کے بعد کے حالات کا یقینی علم کسی کو نہیں۔ یہ دنیا کب تخلیق ہوئی، کیوں تخلیق ہوئی، انسان کا اس میں کیا کردار اور مقصد ہے، وہ یہی ہے کہ تنازع للبقا (Survival of the fittest)کے تحت اپنی جدوجہد کے ذریعے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ دینوی خوشیاں مراعات، عیش وعشرت اور تنعم کی اشیاء حاصل کر کے خوب مزے کرے، اکیسویں صدی ماہرین کے مطابق وہ صدی ہے جس میں جو کام ہوا وہ شاید گزشتہ دو صدیوں کی علمی جدوجہد کا نتیجہ ہے اور اس میں شک نہیں کہ آج کا انسان سائنسی ترقی کے جس مقام پر فائز ہے اس سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں گیا تھا۔ اگرچہ اس میں ایک طرف خدا ومذہب بیزاری بھی اپنے زوروں پر ہے، لیکن دوسری طرف سائنس کی روز بروز کی تحقیقات وانکشافات قرآن وحدیث کے اصولوں اور چودہ صدی قبل دی گئی معلومات کی تصدیق کرتی نظر آرہی ہیں۔نبی کریمؐ نے اپنے دورمبارک میں اپنی دو انگلیاں مبارک ملاتے ہوئے فرمایا کہ میں اور قیامت یوں (قریب) ہیں‘‘۔ لیکن جب چودہ صدیاں گزر گئیں تو مسلمانوں نے تو تاریخ کے ہر مشکل اور پرآشوب وپرفتن دور میں یہی خیال کیا کہ قیامت قریب ہے۔۔ لیکن مغرب کے سائنسدان اور محققین اکثر ایسی باتوں کو گپ شپ اور مذاق میں اُڑا لیتے تھے لیکن اب شاید واقعی وہ وقت قریب آنے لگا ہے جس کی خبر اور پیش گوئی قرآن وحدیث میں قطعی یقین کیساتھ دی تھی۔ قرآن صحیح بخاری کی کتاب الفتن کی احادیث کو ملا کر بغور پڑھنے سے یہ بات بھی علماء نے اخذ کی ہے کہ شاید امت مسلمہ کی عمر پندرہ صدیاں ہیں۔ یعنی ڈیڑھ ہزار برس۔۔ اور یہ پندرہویں صدی جاری ہے جس کے تقریباً اسی برس باقی ہیں۔ ڈاکٹر اسرار مرحوم نے اس موضوع (اختتام دنیا) پر جو مؤقف پیش کیا ہے وہ کم وبیش یہی ہے کہ شاید یہ آخری صدی ہے اور اب اس کی تصدیق مغرب کے سائنسی اور فلکیاتی اور ارضی ماہرین بھی کرنے لگے ہیں کہ ’’رواں صدی میں دنیا ختم ہوسکتی ہے‘‘ اس کے اسباب ماحولیاتی تبدیلیاں، ایٹمی جنگ کے خطرات اور کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال وتخلیق کے سبب وبائی امراض ہوں گی لیکن گھبرانے کی بات نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کیلئے اپنے اعمال اُسوہ حسنہ کے مطابق بنانے کی تنبیہہ ہے، مسلمان کیلئے تو موت ہی قیامت کی ابتدا ہے کیونکہ عالم برزخ بھی قیامت کی طرف پہلی منزل ہے۔ لیکن مسلمان کیلئے خاتم النبیینؐ کی دعوت یہ ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ میں ایک پودا ہے اور لگائے جا رہے ہیں لیکن اوپر سے صور اسرافیل پھونکا گیا تو پودا لگا ہی دیں‘‘۔ اسی کو آخری لمحے تک جہد مسلسل کہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں