Daily Mashriq

فالج سے بچاؤ میں مددگار 15 طریقے

فالج سے بچاؤ میں مددگار 15 طریقے

فالج ایک ایسا مرض ہے جو صرف جسم کے کسی حصے کو مفلوج نہیں کرتا بلکہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

فالج کا حملہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کو خون پہنچانے والی کسی شریان میں خون اور آکسیجن بلاک ہوجائے (ischemic stroke) یا پھٹ جائے (برین ہیمرج)۔

اور ہاں اگر آپ کا خیال ہے کہ یہ صرف بڑھاپے میں لوگوں کو شکار بناتا ہے تو ایسا بالکل نہیں درحقیقت فالج کسی بھی عمر کے فرد کو ہدف بنا سکتا ہے جس کی وجہ آج کا طرز زندگی ہے جو فشار خون کو بڑھا کر اس جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

فالج کی علامات میں شدید سردرد، سرچکرانا، بینائی میں تبدیلی یا دھندلاہٹ، بولنے میں مشکلات، جسم میں سننسی کی لہر دوڑنا وغیرہ شامل ہیں، تاہم چلتے چلتے اچانک گرجانا یا گردن میں درد بھی اس کی نشانہ ہوسکتے ہیں اور ان علامات میں سے کسی کی موجودگی کی صورت میں طبی ماہرین سے رجوع کرنا ضروری ہے چاہے وہ بعد میں عام بیماری ہی کیوں نہ ثابت ہو۔

تاہم اپنے طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں لاکر آپ فالج کے خطرے کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

ٹماٹر کھانا

لائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ ٹماٹر کو سرخ رنگ دیتا ہے اور ایک حالیہ طبی تحقیق کے مطابق جن افراد کے خون میں لائیکوپین کی مقدار زیادہ ہو ان میں کسی بھی قسم کے فالج کا خطرہ 55 فیصد، ischemic stroke کا خطرہ 59 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ اس اینٹی آکسائیڈنٹ کی زیادہ مقدار ٹماٹر میں ہی پائی جاتی ہے جبکہ تربوز اور امرود بھی اس کے حصول کے لیے بہترین قرار دیئے جاتے ہیں۔

پسینہ بہانا

ورزش کرنا بھی فالج کے خطرے کو کم کرنے کا ایک بہترین ذیعہ ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ متعدل سے سخت ورزش جیسے جاگنگ یا سائیکلنگ سے خاموش فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جو یاداشت کے مسائل کا باعث بنتا ہے، اسی طرح ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آ ¾ی تھی کہ صحت مند طرز زندگی جیسے تمباکو نوشی سے گریز، روزانہ ورزش، جسمانی وزن معمول پر رکھنا اور الکحل سے دوری فالج کا خطرہ 80 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

نمک کا کم استعمال

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے روزانہ آدھا چائے کا چمچ نمک استعمال کرنے کی سفارش کی ہے مگر بیشتر افراد اس سے کافی زیادہ مقدار میں نمک کا استعمال کرتے ہیں۔ نمک بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جو فالج کا خطرہ بڑھانے والا اہم ترین عنصر ہے۔ جو لوگ بہت غذا میں نمک کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

موٹاپا متعدد امراض کی جڑ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے اور یہ دونوں ہی فالج کا باعث بننے والے اہم عوامل ہیں، جسمانی وزن میں 4 کلو تک کمی لانا بھی اس خطرے کو کافی حد تک کم کردیتا ہے۔

کولیسٹرول کو کنٹرول کرنا

صحت کے لیے نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ جبکہ فائدہ مند ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں کمی شریانوں میں مواد جمنے کا امکان بڑھاتا ہے، جس سے دوران خون محدود ہوتا ہے جوکہ فالج کا باعث بنتا ہے۔ سچورٹیڈ اور ٹرانس فیٹ کو غذا سے نکالنا نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح بڑھتی ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

دل کی دھڑکن پر نظر رکھیں

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی سے فالج کا خطرہ 5 گنا بڑھ جاتا ہے، اگر آپ دل کی دھڑکن کو بہت تیز یا بے ترتیبی محسوس کریں تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کی وجہ ضرور جاننے کی کوشش کریں۔ اگر یہ Atrial fibrillation کا عارضہ ہوا تو اس کا علاج ادویات سے ممکن ہے جو دل کی دھڑکن کی رفتار کم کرکے بلڈ کلاٹ کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

فائبر سے بھرپور غذائیں فائدہ مند

روزانہ 7 گرام فائبر کا استعمال فالج کے خطرے کو 7 فیصد تک کم کردیتا ہے، ویسے ماہرین روزانہ 25 گرام فائبر کو جزو بدن بنانے کا مشورہ دیتے ہیں جو کہ پھلوں، سبزیوں اور اجناس سے حاصل ہوجاتا ہے۔

متوازن غذا

پھلوں، سبزیوں، مچھلی، چربی سے پاک گوشت اور اجناس پر مشتمل متوازن غذا کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے، جس سے شریانوں میں مواد جمع ہونے کا امکان کم ہوتا ہے اور بلڈکلاٹ کا خطرہ پیدا نہیں ہوتا، اس سے صرف فالج ہی نہیں بلکہ ذیابیطس اور ہائی بلڈپریشر جیسے امراض سے تحفظ بھی ملتا ہے۔

روزانہ ایک سیب

ایک تحقیق کے مطابق جوگ سفید رنگ کے پھلوں اور سبزیوں کا روزانہ استعمال کرتے ہیں (171 گرام سے زیادہ) ان میں فالج کا خطرہ 52 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ سیب اور ناشپاتی فائبر اور سوجن سے لڑنے والے اینٹی آکسائیڈنٹ ہلوطین سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ کیلے، گوبھی، کھیرے، لہسن اور پیاز وغیرہ بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہیں۔

چاکلیٹ

چاکلیٹ میں موجود کوکا فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کی شریانوں کو ہونے والے نقصان سے لڑنے اور خون کے لوتھڑے بننے کی روک تھام کرتے ہیں جو فالج کا باعث بن سکتے ہیں۔ سوئیڈن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ چاکلیٹ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ 17 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ چاکلیٹ نہیں پسند تو سبز اور سیاہ چائے، بلیو بیریز، اسٹرابری اور لہسن بھی فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں۔

بلڈ پریشر

معمول کے بلڈ پریشر میں کمی پر نظر رکھنا بھی فالج کی روک تھام کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ یا کمی بھی فالج کے خطرے کو 55 فیصد سے 79 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے روزانہ ورزش، صحت بخش غذا، جسمانی وزن میں معمولی کمی، تمباکو نوشی سے گریز وغیرہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ذہنی تشویش اور ڈپریشن سے بچنا

ڈپریشن ایسی چیز ہے جو فالج کے خطرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ 45 فیصد اور اس کے نتیجے میں موت کا امکان 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ مایوسی کے شکار عام طور پر تمباکو نوشی زیادہ کرنے لگتے ہیں، ناقص غذا کا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں سے دور اختیار کرلیتے ہیں اور یہ سب فالج کے خطرے کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق معمولی ذہنی پریشانی اور مایوسی بھی خون کی شریانوں سے متعلق امراض سے موت کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

ادویات کا طبی ماہرین کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کرنا

کچھ عام ادویات بھی فالج کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں جو لوگ بروفین کا اکثر استعمال کرتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ بھی تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جوڑوں کے درد میں کمی لانے والی کچھ ادویات بھی فالج کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح جو خواتین تمباکو نوشی اور مانع حمل ادویات کا استعمال کرتی ہیں ان میں خون کی روانی میں رکاوٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے جو فالج کا باعث بن سکتا ہے۔

دانتوں کا خیال

صحت مند دانت دل اور دماغ کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دانتوں کے امراض اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ طبی خیال ہے کہ خراب مسوڑے بیکٹریا کی تعداد بڑھنے کا باعث بنتے ہیں جو کہ دل کی شریانوں پر حملہ کرکے خون کی روانی کو روکنے کے لیے رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ تو اپنے دانتوں کی صفائی اور خلال کا خیال رکھیں اور کسی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

تمباکو نوشی سے گریز

اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو سیگریٹ کو بجھا دیں کیونکہ یہ عادت فالج کی دونوں اقسام کا خطرہ 2 سے 4 گنا تک بڑھا دیتی ہے اور ہاں سیگریٹ نوشی کسی بھی عمر میں فالج کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ درحقیقت تمباکو نوشی خون میں آکسیجن کی مقدار کم کردیتی ہے جس سے لوتھڑے بننے کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں