Daily Mashriq

امریکہ کے خلاف بڑھتے عوامی جذبات

امریکہ کے خلاف بڑھتے عوامی جذبات

امریکی دھمکیوں کے خلاف ملک بھر میں اور بالخصوص خیبر پختونخوااور قبائلی علاقہ جات میں مظاہرے اور امریکی صدر ٹرمپ کے پتلے نذر آتش کرلینا عوامی رد عمل کا ایک حصہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں بڑھتا اشتعال اور نیٹو سپلائی بندش کے مطالبات دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کراچی سے لے کر طورخم تک اور کیماڑی سے لے کر چمن تک عوام سڑکوں پر نکل کر نیٹو کی سپلائی اپنے ہاتھوں بند کریں گے۔ مظاہرین کی جانب سے امریکی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی شدت سے کیا جا رہا ہے۔کراچی میں طلبہ نے امریکی سفارتخانے کی عمارت پر دھاوا بولنے کی بھی کوشش کی جبکہ ملک بھر میں امریکہ کے سفارتی دفاتر کی حفاظت میں مزید سختی کے باوجود ان کی طرف عوامی ریلوں کی مراجعت کا خطرہ موجود ہے۔ امریکہ کی جانب سے جس قسم کا عمل ہو اس کا سخت عوامی رد عمل پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ اس مرتبہ حکومت کی طرف سے بھی خاص سنجیدہ اقدام دکھائی دیتا ہے۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان، پاکستان اور خطے کی نئی پالیسی دیتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا تھا جس کو پاکستان کی جانب سے رد کردیا گیا تھا۔خطاب کے دوران امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے ان ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ان کی جنگ جاری ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس روئیے کو تبدیل ہونا چاہیے ۔دوسری جانب جنوبی ایشیا میں اہم اتحادی بھارت سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں استحکام کے لیے بھارتی کردار کو سراہتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی اقتصادی معاونت اور ترقی کے لیے مزید کام کرے۔خیال رہے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چند ہزار امریکیوں کے بدلے امریکا نے لاکھوں افراد کو ہلاک کردیا، لاکھوں زخمی اور معذور جبکہ ہزاروں گرفتار ہوئے، امریکا کی جنگجوانہ پالیسی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا اور یہاں شدت پسندی بڑھی، بالخصوص افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے نہ صرف قبائلی علاقوں میں ٹھکانے بنائے بلکہ شہری علاقوں میں بھی کھل کر موت کا کھیل کھیلا۔ امریکہ کو اب اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ اب ان کا سابقہ ایک بدلے ہوئے پاکستان سے ہے یہ وہ پاکستان نہیں جسے امریکہ جب بھی چاہتا اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرکے چھوڑ دیا کرتا تھا۔ یہ وہ پاکستان بھی نہیں جس کی قیادت اگر تم ہمارے ساتھ نہیں تو دشمنوں کے ساتھ ہو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار ہو قسم کی دھمکی پر مصلحت کی ردا اوڑھ لیا کرتا تھا۔ گو کہ پاکستان سیاسی' معاشی اور اقتصادی مسائل کا بدستور شکار ہے لیکن اب یہ مجبوریاں ہمارے پیروں کی بیڑیاں نہیں بن سکتیں اور قوم ان بیڑوں کو توڑنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ ان حالات میں اب امریکہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ترنگ میں آکر نتائج و عواقب دیکھے بغیر دھمکی دینے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ کو وقعت دیتا ہے یا پھر ایک ایسے ملک جس کی اب بھی امریکہ کو ضرورت ہے سے تعلقات خراب کرنے کی راہ اختیار کرتا ہے۔صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی فطری امر ہے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے طے سفارتی دورے بھی رک چکے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کو واضح الفاظ میں کہنا پڑا کہ امریکہ افغان مسئلے اور افغان مہاجرین کی صورت میں ایک مصیبت پاکستان کے گلے ڈال کر خود جا چکا ہے۔ اگر امریکہ کو پاکستان میں بعض عناصر کی مبینہ موجودگی پر تحفظات ہیں تو یہ نہایت مناسب ہوگا کہ امریکہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے فوری انتظامات کرے تاکہ کسی افغانی کی بھی پاکستان میں موجودگی کے باعث پیدا شدہ مشکلات یعنی فساد کی جڑ ہی کا خاتمہ ہو۔ بہر حال صورتحال کی کشیدگی میں کمی اور دھمکی آمیز بیانات کی گرد جب چھٹے گی تو سوال یہ سامنے آئے گا کہ اس صورتحال سے کیسے نکلا جائے گا۔ ہمارے تئیں امریکی صدر کے بیان اور امریکی عہدیداروں کی دھمکیوں کے باعث تعاون پر مبنی وہ حالات اب بدل چکے ہیں اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ ماضی کو ماضی رکھ کر حال کی حقیقتوں اور مستقبل کے امکانات پر امریکہ سے بات چیت شروع کرے۔ امریکہ کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کو برقرار رکھاجاتا ہے یا اس پر وقت دبیز غبار چڑھا دیتا ہے اس کا انحصار دھمکی دینے والوں پر ہے۔ پاکستان دہشت گردی اور شدت پسندی کے جس دور سے بمشکل گزر چکا امریکی دھمکیوں سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ افغانستان جیسے حالات پاکستان میں پیدا کرے اور لوگوں کو شدت پسندی اور دہشت گردی کا سہارا لینے پر مجبور کرے۔ شدت پسندی اور دہشت گردی اچانک پیش آمدہ حالات نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے ایک لمبی داستان ' تجربات' نا انصافیاں اور محرومیاں ہوتی ہیں۔ اگر پاکستان کے ساتھ تعاون کے باوجود معاندانہ رویہ اختیار کیاگیا تو اس کا سخت رد عمل بھی فطری امر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فی الوقت پاکستان کی جانب سے امریکہ سے سفارتی تعلقات پر ایک روک لگا دینا مستحسن اقدام ہے تاکہ امریکہ کو اس امر کا احساس دلایا جاسکے کہ پاکستان اب تُو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی کا فیصلہ کرچکا ہے اور بہتری اسی میں ہے کہ امریکہ اس کشیدگی کا باعث بننے والے بیانات پر نظر ثانی کرے اور پاکستان کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت حالات کو معمول پر لانے کی سعی کی جائے۔ امریکہ کو اس امر کا احساس بھی ہونا چاہئے کہ پاکستان سے بگاڑ کر افغانستان میں حالات بہتر بنانے کی سعی میں کبھی کامیابی حاصل نہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں