Daily Mashriq


مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

ڈینگی کی روک تھام کے لئے حکومتی اقدامات اور ہسپتالوں میں مریضوں کاعلاج معالجہ کس حد تک موثر اور مفید ہے اس کا تو درست اندازہ نہیں بہر حال حکومت کی کچی پکی مساعی جاری ہیں۔ مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی پانی کے نمونے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں وہاں ڈینگی لاروے پائے گئے خاص طور پر سکولوں سے حاصل کردہ پانی کے نمونوں میں ڈینگی لاروے کی موجودگی کا انکشاف قابل تشویش امر ہے۔ جگہ جگہ ڈینگی لاروے کی موجودگی اس امر پر دال ہے کہ تقریباً پورا شہر اس وقت ڈینگی کے شدید خطرے کی زد میں ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اڑتے مچھروں کے خلاف ایک مرتبہ سپرے تو کردیاگیا اس کے بعد نہ تو سپرے کیاگیا اور نہ ہی یہ بتایاگیا کہ پانی میں موجود ڈینگی کے لاروے کی تلفی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے۔ عوام کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ جن جن مقامات پر ڈینگی لاروے کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے وہ ان عام ہدایات کے ساتھ اور کیا حفاظتی اقدامات کریں یا پھر حکومت ایسے کیا اقدامات کر رہی ہے کہ یہ لاروے مچھروں میں تبدیل ہو کر ڈینگی وائرس پھیلانے کا سبب نہ بن سکیں۔ ہمارے تئیں صورتحال اب اس قدر سنگین ہوتی جا رہی ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں ایمرجنسی نافذ کی جائے اور بیک وقت اور تسلسل کے ساتھ ایسے اقدامات کئے جائیں جس کے باعث مچھروں کی تلفی کے ساتھ ساتھ ڈینگی کے لاروے کی تلفی بھی یقینی بن سکے۔ ہمارے تئیں ایک مرتبہ کا سپرے کسی طور کافی نہیں بلکہ مچھروں کی روزانہ پیدائش کے امکان اور خطرے کے پیش نظر بار بار سپرے کیا جائے۔ اب تک شہر کے جن علاقوں کو نسبتاً محفوظ خیال کیا جا رہا تھا وہاں سے بھی پانی کے نمونے حاصل کرکے اس میں ڈینگی لاروے کی موجودگی و عدم موجودگی کا جائزہ لیا جائے اور عوام کو اس بارے آگاہ کیا جائے۔ ڈینگی کے مریضوں کے لئے مزید ہسپتالوں اور مراکز صحت میں علاج اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

چائے پر اربوں روپے کا اسراف

چھ ماہ میں پاکستانیوں نے چائے پر بائیس ارب روپے اڑا کر اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ وطن عزیز کے شہریوں کو قابل اجتناب چیزوں سے روکنے کی کوئی سعی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پاکستان میں سالانہ کروڑوں روپے پان چھالیہ اور نسوار پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں چائے اور نسوار دونوں کا استعمال سب سے زیادہ ہے جس پر لاکھوں کروڑوں روپے سرف ہوتے ہیں اور صحت کا نقصان الگ سے ہوتاہے۔ چائے جس طرح ہمارے ناشتے سے لے کر دن کے مختلف اوقات یہاں تک کہ رات کے کھانے کا بھی لازمی جزو بن چکا ہے اگر اس عادت عیب سے بڑے چھٹکارا نہیں پاسکتے تو کم از کم اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ان کو چائے کی عادت نہ ڈالی جائے اور نسوار خوردنی سے تو بالکل روکنے کی ضرورت ہے۔ نسوار' چھالیہ اور پان منہ کے کینسر کا سبب بنتے ہیں جبکہ چائے سے معدے کے افعال بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ ہم صرف ان اشیاء کا استعمال کرکے ان کی خرید پر ہی رقم سرف نہیں کرتے بلکہ ڈاکٹروں کی فیس اور ادویات پر بھی ڈھیروں اخراجات آتے ہیں جس سے پیسوں کا زیاں الگ اور صحت کی تباہی الگ۔ ہمارے تئیں صوبے کے عوام کو اس عادت سے چھٹکارے یا کم از کم اس میں کمی لانے کے لئے شعور اجاگر کرنے کی باقاعدہ مہم کی ضرورت ہے۔ سکولوں' کالجوں اور یونیورسٹیز میں نوجوانوں کو غیر صحت مند اشیاء کے استعمال سے اجتناب کرنے کی تربیت دی جائے اور ان کی ذہن سازی ہونی چاہئے کہ وہ منشیات کے ساتھ ساتھ ایسے اشیاء کے استعمال سے بھی خود کو بچا کر رکھیں جو غیر مفید ہوں۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہمیں من الحیث القوم اس اسراف کا احساس ہوگا اور اس امر کی قومی طور پر سعی کی جائے گی کہ کسی ایسی چیز پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا نہ پڑے جو نہ تو ضرورت کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی خوراک کے۔ اگر ہم اس عادت کو مکمل طورپر ترک نہیں کرسکتے تو کم از کم اس میں نصف فیصد کمی تو لاسکتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہم قومی خزانے کو خطیر زرمبادلہ بچاکر دے سکتے ہیں اور انفرادی طور پر بھی بچت کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں