Daily Mashriq


لوکل گورنمنٹ کا نظام اور غربت کا خاتمہ

لوکل گورنمنٹ کا نظام اور غربت کا خاتمہ

پاکستان کی آبادی کی اکثریت آج بھی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جس کا اندازہ رواں سال ہونے والی مردم شماری کے ابتدائی نتائج سے لگایا جا سکتا ہے ۔ چھٹی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک کی63.6 فیصد آبادی آج بھی دیہاتوں میں رہتی ہے لیکن ملک کی اتنی بڑی آبادی کے لئے کوئی مناسب انفراسٹرکچر موجود نہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پبلک سروسز کی عدم دستیابی اور روزگار کے مواقعوں کی کمی کی وجہ سے دیہی علاقوں میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 40 فیصد یا ہر 10 میں سے 4 پاکستانی شدید غربت کا شکار ہیں۔ ویسے تو ملک بھر میں پبلک سروسز کی حالت دگرگوں ہے اور دارالحکومت اسلام آباد کے باسی بھی پانی کی کمی کا شکار رہتے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں پبلک سروسز اور ان سے عوام کو فائدہ حاصل ہونے کا تصور ہی ناپید ہوتا جارہاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت اور صفائی کی بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں یا پھر بہت کم رسائی حاصل ہے۔ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی کے پاس آلودہ پانی پینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور نصف سے زائد آبادی کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ۔ پورے ملک اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں پبلک سروس کی ناکامی اور خراب صورت حال کی اصل وجہ پورے ملک میں ایک مضبوط، بااختیارا ورعوام کی نمائندہ لوکل گورنمنٹ کا نہ ہونا ہے جو کہ مقامی سطح پرعوام کے مسائل کو سمجھے اور مقامی حالات کے مطابق ان مسائل کا حل نکالے اور غریب عوام کی زندگی آسان بنانے کے لئے مناسب اقدامات کرے۔ عوام کی فلاح کو سامنے رکھتے ہوئے مقامی حکومتوں کے قیام کی پالیسی اپنانے سے ہی ہم ترقی کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کرسکتے ہیں اور ایک مستحکم معیشت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو کہ امیراور غریب کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لئے سب سے پہلا قدم ہے۔ جب ہم لوگوں کی فلاح و بہبود کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی جانے والی مقامی حکومت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں گاندھی کے یہ الفاظ یاد آجاتے ہیں 'میں اس بھارت کے لئے کام کرنا چاہوں گا جس میں ملک کا غریب ترین طبقہ بھی یہ محسوس کرے کہ یہ ملک اس کا اپنا ہے اور اس ملک میں غریب طبقے کی آواز بھی سنی جائے گی'۔گاندھی کے اس بیان کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم اپنے ملک کو دیکھیں تو ہمیں آزادی حاصل کئے ہوئے ستر سال ہوگئے ہیں لیکن آج تک ہم اپنے ملک کے غریب ترین طبقے کو یہ باور نہیں کراسکے کہ پاکستان ان کا ملک بھی ہے اور ان کی آواز اور مطالبات کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے ملک میں آج تک ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جن کے ذریعے ملک کے پسماندہ طبقات کی آواز اور ان کے مطالبا ت کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جاسکے ۔ برطانوی راج کی سامراجی پالیسیاں اسی طرح جاری ہیں اور ہم آج بھی اس بات پر غور نہیں کررہے کہ انگریزوں کا مقصد اس ملک کی عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ اس ملک کے وسائل لوٹ کر برطانیہ لے جانا تھا۔ ہم آج تک اس بات کا ادراک بھی نہیں کر سکے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے لوکل گورنمنٹ کا مضبوط نظام کس قدر ضروری ہے کیونکہ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے لوگوں کو ان کے اپنے اوپر حکومت کرنے کا حق مل جاتا ہے اور وہ اپنی فلاح و بہبود کے لئے خود کام کرسکتے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ کے قیام کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہے کیونکہ بیوروکریسی اپنے اختیارات مقامی حکومتوں کے حوالے نہیںکرنا چاہتی ۔ دوسری جانب ریاستِ پاکستان اور ہمارے سیاست دان بھی اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں حالانکہ یہ ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوںکو بنیادی حقوق فراہم کرے۔ اگر لوکل گورنمنٹ کے ایک جامع نظام پر عمل درآمد کے لئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی مستحکم نہیں ہوپائے گی کیونکہ عوام کی شمولیت کے بغیر دنیا کے کسی بھی خطے میں جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ایک غریب آدمی کے دروازے تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے ایک جامع لوکل گورنمنٹ کا نظام ناگزیر ہے اور جب تک ایک عام آدمی کو پالیسی سازی کا حصہ نہیں بنایا جائے گا تب تک وہ سستی اور کاہلی کاشکار رہے گا اور پالیسی سازی کا حصہ بننے سے وہ معاشرے کا ایک فعال حصہ بن کر اپنا کردار ادا کرے گا۔پاکستان میں سال 2014-2015ء میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ انتخابات کے ذریعے لوکل گورنمنٹس قائم کی جاچکی ہیں ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس وقت ملک بھرمیں تقریباً 7000 مقامی حکومتوں کے ادارے اور تقریباً 125,000منتخب نمائندے کام کررہے ہیںلیکن آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت لوکل گورنمنٹ کو ملنے والے اختیارات ابھی تک ان اداروں اور نمائندوں کو منتقل نہیں کئے گئے۔ان اداروں کو اختیارات کی منتقلی کے لئے حکومتی جماعت سمیت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ملک کے پسماندہ طبقات کی فلاح کا کام جلد ازجلد شروع کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے جو کہ اس وقت اپنی اختیارات میں کمی کی وجہ سے لوکل گورنمنٹس کو وسائل اور اختیارات دینے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہیں۔ 

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں