Daily Mashriq


گلے کا سرطان اور تین مریض

گلے کا سرطان اور تین مریض

بیگم صاحبہ کے گلے کے سرطان کا سن کر یقین جانئے بے حد دکھ ہوا، دعا ہے کہ اللہ تعالی جو شافع کامل ہے، انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے تاکہ وہ ایک بار پھر بھرپور زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں، ان کی بیماری پر ہمیں گلے کے سرطان کے دو مریض یاد آگئے، ایک ہمارے بچپن کا ساتھی حنیف تھا۔ محنت کش ماں کا بیٹا تھا جو شوہر کی وفات کے بعد باجوڑ سے اُتر کر ہمارے محلے کے ایک خستہ حال مکان میں رہتی تھی اور محلے میں محنت مزدوری کرکے بمشکل گزر اوقات کرتی تھی۔ حنیف ہمارے ساتھ ہی کھیلتا تھا، ہم نے دیکھا کہ وہ روز بروز کمزور پڑتا جارہا ہے، کھیل کود میں بھی دلچسپی نہیں لیتا تھا اور پھر وہ ایک کونے میں بیٹھا ہمیں کھیلتے دیکھنے لگا۔ ہم اسے کھانے کی کوئی چیز دیتے تو وہ اشارے سے بتاتا کہ نگل نہیں سکتا۔ پانی پینے میں بھی تکلیف ہوتی، بے چارے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ پھر اپنی کوٹھڑی میں بند ہو کر رہ گیا، اس کی ماں ٹونے ٹوٹکوں سے اس کا علاج کرتی رہی، ایک دن ہم نے سنا حنیف مرگیا ہے۔ اس کی اذیت ناک حالت یاد کرکے ہمیں آج بھی بہت دکھ ہوتا ہے۔ لوگ کہتے کہ حنیف کے گلے میں خوراکی ننکئی ہے یعنی ناسور کا دانہ ہے اور یہ کہ اس نامراد بیماری سے کوئی جانبر نہیں ہوتا۔ ایک مدت بعد ہمیں پتہ لگا کہ ہمارے بچپن کے اس ساتھی کو جو بیماری لاحق ہوئی تھی اسے گلے کا سرطان کہتے ہیں۔ جانے آج بھی دور افتادہ پہاڑی دیہات میں گلے کے سرطان کو خوراکی دانہ سمجھ کر ٹونے ٹوٹکوں سے علاج کرتے کرتے کتنے لوگ لقمہ اجل بنتے ہوںگے مگر ہمیں ان کی خبر نہیں ہوتی۔اور پھر ایک روز' یہی کوئی چالیس سال پہلے کی بات ہے ہم سب گھر والے روزہ کھولنے کے انتظار میں آذان پر کان لگائے بیٹھے تھے۔ روزہ افطار کرنے لگے تو نانی نے پانی کا ایک گھونٹ لے کر کٹورا واپس رکھ دیا۔پوچھا تو کہنے لگیں، بیٹا سمجھ میں نہیں آتا، دو تین دنوں سے نہ کھانا کھایا جاسکتا ہے نہ پانی گلے سے اترتا ہے ہمیں تشویش ہوئی فوراً تانگے میں بٹھا کر ڈاکٹر سعادت اللہ خان کے کلینک لے گئے، بنک روڈ پر ان کا مطب تھا، گلے، کان اور ناک کی بیماریوں کے ماہر تھے۔ قریب ہی ان کا گھر تھا۔ آئے معائنہ کیا تو کہنے لگے، انہیں ہسپتال لے جائیں، انہیں گلے کا سرطان ہے۔ یہ ستر کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔ سرطان کی بیماری کے علاج کا کوئی مخصوص ہسپتال ابھی قائم نہیں ہوا تھا۔ ہم نے ان دنوں سرطان کے کسی ماہر معالج کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ عام ہسپتالوں میں اس مہلک بیماری کے اٹکل پچو علاج کئے جاتے تھے چنانچہ سرطان ان دنوں بالعموم موت کا پیغام ہی ثابت ہوتا تھا۔ نانی کو اگلے روز ہسپتال لے گئے، متعلقہ ڈاکٹر نے عمومی قسم کی دوائیاں تجویز کر کے کہا بس گھر پر علاج جاری رکھیں۔ دوسری شام ڈاکٹر کے پرائیویٹ کلینک میں حاضری دی۔ اس بار انہوں نے نہایت ہی توجہ اور تفصیل سے معائنہ کیا اور پھر بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ ہماری درخواست پر اپنے وارڈ میں بستر بھی عنایت کردیا۔ عید پر بھی ڈاکٹر صاحب نے ہمیں وارڈ ہی میں رہنے کی اجازت دے دی، تمام مریض رخصت کر دیئے گئے تھے۔ ہم نے وارڈ میں ہی عید منائی، نانی کی تکلیف میں اضافہ ہورہا تھا۔ ہمارے مہربان ڈاکٹر حسن خان سوز مرحوم جو سند یافتہ ہومیو پیتھک معالج تھے، انہوں نے کچھ دوائیاں دیں تھیں۔ ان سے گلے کی تکلیف میں وقتی طور پر افاقہ ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں پشاور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں سرطان کے ایک معالج سے مشورہ لینے کیلئے کہا، یہ ہشت نگری کے پچھواڑے میں محلے کی ایک عمارت میں واقع تھا، ڈاکٹر کا نام ذہن سے نکل چکا ہے، انہوں نے کچھ دوائیاں تجویز کیں جن میں انجکشنوں کا ایک کورس بھی شامل تھا، انجکشن کافی مہنگے تھے، گھر میں جمع پھونجی خرچ ہوگئی، ہمیں اپنی سائیکل بیچنا پڑی، اہلیہ کی دو سونے کی چوڑیاں بھی بیچ دیں، اپنے حصے کی دکان گروی رکھوا دی، اب نانی کو بس میں بٹھاکر پشاور لے جانا ممکن نہ تھا، ہر ہفتے ٹیکسی کرائے پر لینا پڑتی، ہفتے میں ایک بار انجکشن لگوانے کیلئے ایک نرس کو گھر بلوانا پڑتا۔ اخراجات کی کوئی پروا نہ تھی ہم اپنی نانی کو صحت یاب دیکھنا چاہتے تھے، ہم نے مقدور بھر کوشش جاری رکھی نانی جو حافظ قرآن تھیں، آنکھیں بند کئے قرآنی آیات کا ورد کرتی رہتیں۔ ایک صبح جب ہم ان کے سرہانے بیٹھے ان کا سر دبا رہے تھے، انہوں نے آنکھیں کھولتے ہوئے انتہائی نحیف آواز میں کہا: بیٹا میری وجہ سے تمہیں بڑی تکلیف ہوئی، اللہ تعالی تمہارا گھر آباد رکھے، تم نے میری بڑی خدمت کی ہے یہ ان کی زندگی کا آخری دن' شام کو وہ ہمیشہ کیلئے ہم سے رخصت ہوگئیں۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آج پچاس سال بعد شوکت خانم جیسے ہسپتالوں کی وجہ سے سرطان بہت حد تک لاعلاج نہیں رہا۔ مگر یہ بیماری اب بھی طبقاتی ہی ہے۔ کسی گاؤں کی محنت کش بیوہ عورت کا سرطان زدہ بیٹا اب بھی خاطر خواہ علاج سے محروم ہے اور ہم جیسے مالی لحاظ سے کمزور شخص کے لئے بھی اپنی نانی کا شافی علاج ناممکن ہے۔ مگر یقین جانئیہمیں بیگم صاحبہ کی بیماری پر شدید دکھ ہے۔ دل و جان سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں مکمل صحت عطا فرمائے تاکہ وہ نئے سرے سے ایک بھرپور زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکیں۔ بس صرف یہ سوچتے ہیں کہ اگر آج جاتی عمرہ کے عظیم الشان شریف میڈیکل کمپلیکس میں غیر ملکی ماہرین کی زیر نگرانی سرطان کے علاج کا وارڈ موجود ہوتا تو بیگم صاحبہ کو علاج کے لئے برطانیہ جانے کی زحمت نہ اٹھانا پڑتی۔

متعلقہ خبریں