Daily Mashriq

سچی خوشی کا حصول

سچی خوشی کا حصول

پرسکون زندگی خالق کائنات کی بہت بڑی نعمت ہے غم اور پریشانیاں بھی زندگی کا حصہ ہیں خوشی وغم کی آنکھ مچولی ساری زندگی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ ہمارے حالات کے ساتھ ساتھ ہمارے روئیے بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ فارسی میں کہتے ہیں کہ خود کردہ را علاج نیست (اپنے کئے کا علاج نہیں ہوتا) اگر حضرت انسان کی زندگی کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو بہت کچھ ہمارا اپنا کیا دھرا ہوتا ہے، ہم سب کی طرف دیکھتے ہیں دوسروں کی غلطیاں اور خامیاں ہمیں خوب نظر آتی ہیں اگر کچھ نظر نہیں آتا تو وہ ہمارا اپنا آپ ہوتا ہے، ہم ہر طرف تاکا جھانکی کرتے رہتے ہیں لیکن جو چیز ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے وہ ہمارا اپنا گریبان ہوتا ہے، کاش ہم کبھی کبھار اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت بھی گوارا کر لیں تو بہت سی پریشانیوں سے بچے رہیں۔ ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں، زندگی کی مسرتوں کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنا چاہتے ہیں لیکن ہماری سوچ ہمارے روئیے سارا کھیل بگاڑ دیتے ہیں، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ خوشیاں بانٹنے سے خوشیاں ملتی ہیں ہم جو کچھ دیتے ہیں وہ ہمیں لوٹا دیا جاتا ہے' دوسروں کی بہتری اور بھلائی کے حوالے سے سوچا جائے تو ایک مثبت سوچ پروان چڑھتی ہے، چراغ سے چراغ جلتا ہے!۔ زندگی کی رفتار بڑھتی چلی جارہی ہے انسان اتنا مصروف ہوچکا ہے کہ اب اسے سرکھجانے کی فرصت بھی نہیں رہی، اقبال نے کہا تھا:

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی

اب حادثہ یہ ہوا کہ کسی کے پاس اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا راز جاننے کا وقت ہی نہیں ہے زندگی کا گھوڑا سرپٹ بھاگ رہا ہے اور ہم حیران وپریشان چاروں طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایک منظر ہم پوری طرح دیکھ نہیں پاتے کہ منظر بدل جاتا ہے، سوچنے والی بات یہ ہے کہ جو سکون اور خوشیاں ہم سے روٹھ چکی ہیں ان کا حصول کیسے ممکن ہے؟ اب اس موضوع کو دنیا میں ایک مضمون کی حیثیت دی جاچکی ہے، دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے تحقیق ہو رہی ہے کہ انسان کیسے خوش رہ سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر آج بہت کام ہو رہا ہے، آج کا انسان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خو ش نہیں ہے یہاں ایک بہت بڑے مغالطے کی طرف ہماری توجہ ضرور ہونی چاہئے کہ ہم چیزوں کے حصول کو خوشی کا ایک بہت بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے! ہارورڈ یونیورسٹی میں اس حوالے سے ایک کورس پڑھایا جاتا ہے جس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ آپ خوش کیسے رہ سکتے ہیں؟ یا آپ کے لئے خوشیوں کا حصول کیونکر ممکن ہے؟ اس کورس کے انچارج مثبت نفسیات کی کلا س لینے والے ایک مشہور ومعروف پروفیسر بن شاہر ہیں اور ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ہر سمسٹر میں ان کے پاس تقریبا1400طلبہ ہوتے ہیں یوں کہئے ہارورڈ یونیورسٹی کے20 فیصد گریجویٹ اس اختیاری مضمون کو پڑھتے ہیں۔ پروفیسر بن شاہر کا کہنا ہے کہ اس کلاس میں ہم خوشیوں کے حصول، عزت نفس اور زندگی کی کامیابیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں، ہم طلبہ کو یہ سکھاتے ہیں کہ وہ زندگی کی دوڑ میں کس طرح فتح یاب ہوسکتے ہیں، وہ زندگی کے مسائل کو کس طرح ہنستے کھیلتے حل کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے طلبہ کو چھوٹے چھوٹے نکات سمجھاتے ہیں جن سے سوچنے کے انداز اور رویوں میں تبدیلی آتی چلی جاتی ہے جب سوچ بدلتی ہے تو ساتھ ہی زندگی بھی بدلتی چلی جاتی ہے۔ اس پروفیسر کے سمجھانے کا انداز دلچسپ بھی ہے اور سادہ بھی' اس کی بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں، ان دس چیزوں کی ایک فہرست بنالیں جو خالق کائنات نے آپ کو عطا کر رکھی ہیں اور وہ آپ کے لئے خوشیوں کا باعث ہیں۔ اپنی سوچ کو ہمیشہ مثبت رکھیں، ورزش کو اپنا روزمرہ کا معمول بنالیں، روزانہ30 منٹس ورزش کرنے سے آپ کا موڈ اچھا ہوجاتا ہے، ذہنی دباؤ اور پریشانی میں کافی حد تک کمی آجاتی ہے۔ کچھ لوگ وقت کی کمی یا موٹاپے کے ڈر سے ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں طب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ صبح سویرے ایک بھر پور ناشتہ کرنے سے آپ کو توانائی ملتی ہے آپ دن بھر کے کاموں کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اور آپ کے سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ اپنی سوچ کو ہمیشہ صاف شفاف رکھیں جن چیزوں کی ضرورت ہو انہیں طلب کرتے رہیں جو سوچتے ہیں اس کا اظہار کرتے رہیں اس سے آپ کی عزت نفس میں اضافہ ہوگا اور آپ تنہائی اور پریشانی سے بھی بچے رہیں گے۔ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے سے مت گھبرائیں جو لوگ مشکل حالات کا سامنا کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور بروقت فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں چیزوں کو ملتوی کرتے رہتے ہیں ان پر ذہنی دباؤ بڑھتا رہتا ہے جو کام آپ نے ایک ہفتے میں سرانجام دینے ہیں ان کی فہرست بنائیں اور انہیں مکمل کریں۔ لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں انہیں ہر وقت خوش آمدید کہیں۔ چہل قدمی اور دوستوں سے ملاقات کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالیں دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے ضرورت کے مطابق ہی اس میں دلچسپی لیں کیونکہ ایک دن ہم سب نے اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہوتا ہے ایک بات یاد رکھیں کہ سچی خوشی کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب آپ خالق کائنات کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہوں اللہ پاک کے لئے سب کچھ ممکن ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے!

متعلقہ خبریں