Daily Mashriq

نوازشریف کا ''وزیر اعظم '' مشکل میں

نوازشریف کا ''وزیر اعظم '' مشکل میں

اب یہ حقیقت عیاں ہو رہی ہے کہ آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کسی نادیدہ خطرے کو محسوس کرتے ہوئے اپنا سارا وزن سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے پلڑے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا پہلا مرحلہ کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ایک ایسی پریس کانفرنس تھی جس کے چند جملوں نے انہیں تنازعات اور مشکلات کی ایک دلدل میں لاکھڑا کر دیا تھا۔ ایک ایسی دلدل جس سے فاروق حیدر باہر نکلنے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔ اسی حکمت عملی کے تحت انہوں نے پرائیویٹ گاڑی میں میاں نوازشریف کے قافلے کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر کیا اور اس سفر کے اختتام پر میاں نوازشریف نے لاہور کے جلسے میں راجہ فاروق حیدر کی یہ کہہ کر تعریف کی تھی کہ ان کا ایک وزیراعظم نکل گیا مگر دوسرا وزیراعظم راجہ فاروق حیدر تو موجود ہے جس کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ میاں نوازشریف کے یہ الفاظ کچھ تو فرمائشی معلوم ہو رہے تھے اور کچھ فاروق حیدر کے لئے کسی سنجیدہ خطرے کی موجودگی کا اشارہ تھا۔ باوجود یہ کہ شاہد خاقان عباسی بھی مسلم لیگ ن کے ہی وزیراعظم ہیں اور یہ آزادکشمیر کے ملحقہ مری کے علاقے سے بھی تعلق رکھتے ہیں، شاہد خاقان عباسی اور آزادکشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان دونوں عباسی برادری سے ہی تعلق نہیں رکھتے بلکہ دونوں میں قریبی خاندانی تعلقات بھی ہیں۔ راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم اس وقت سردار عتیق احمد خان ہی ہیں۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے اندر بھی دھڑوں اور برادریوں کی سیاست پوری طرح زوروں پر ہے جوکسی بھی بیرونی مہم جو کا کام آسان بنانے کے لئے کافی ہے۔

معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے راجہ فاروق حیدر کے دفتر سے بعد ازاں وضاحتی بیان جاری کیا گیا تھاکہ انگریزی اور اُردو اخبارات میں ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جبکہ وہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے کوشاں ہیں تاہم اس وضاحت کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور کئی رہنماؤں نے ٹی وی چینلز پر وزیر اعظم آزاد کشمیر کے خلاف سخت الفاظ بھی استعمال کئے۔ راجہ فاروق حیدر خان کے الحاق سے متعلق بیان کومیڈیا تو رفتہ رفتہ فراموش کرتا جا رہا ہے مگر آزادکشمیر کی اپوزیشن اس بیان کی آگ کو دہکائے رکھنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ کشمیر ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک غیر ضروری پریس کانفرنس میں جو ہوا قطعی ایک نان ایشو ہے۔ آزادکشمیر کے عوام کے حقیقی مسائل اس سے یکسر مختلف اور گھمبیر ہیں جنہیں حل کرنے کے لئے اجتماعی دانش اور اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ وقت کا دھارا بہہ گیا مگر آزادکشمیر کی سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کو نظر انداز کرکے ایک بیان کو لے کر بیٹھی ہیں اور بیان بھی ایسا کہ جس کی سو بار تردید ہوچکی ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر بار بار یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ وہ الحاق پاکستان پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی مراد وہ ہرگز نہیں جس پر طوفان اٹھایا گیا بلکہ حقیقت میں وہ کچھ اور کہنا چاہتے تھے۔ اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی فاروق حیدر کی معمولی سی لغزش سے حلف کی خلاف ورزی تلاش کرنے پر بضد ہے۔

چند دن قبل ہی اخبارات میں وزیراعظم کا ایک بیان شہ سرخی کی صورت شائع ہوا کہ پاکستان کے لئے جان مال سب کچھ حاضر ہے۔ عمومی طور پر وزیراعظم فاروق حیدر آئے روز عہدِ وفا کے اظہار پر یقین نہیں رکھتے مگر جب سے وہ اپنے ہی بیان کی دلدل میں کھڑے ہوئے ہیں ان کا ہر دوسرا تیسرا بیان پاکستان سے غیر مشروط وفاداری کی یقین دہانی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے ایک فسخ شدہ بیان کو بنیاد بنا کر غداری کا ریفرنس تیار کر دیا۔ اس سلسلے میں قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر کے پاس ایک ریفرنس جمع کرایا گیا جس میں فاروق حیدر کو بطور رکن اسمبلی نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ سپیکر نے اس ریفرنس کی سماعت کے لئے فاروق حیدر اور سردار عتیق احمد خان دونوں کو نوٹسز جا ری کئے اور سماعت کے بعد ریفرنس کو مسترد کر دیا۔ جس کے بعد اپوزیشن کی حکمت عملی کا اگلا مرحلہ عدالت کا درواز ہ کھٹکھٹانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا معاملہ کہ جس کی واضح تردید بھی سامنے آچکی ہے اور جس سے یہ بات منسوب ہے وہ مسلسل اپنے اصل معانی اور مدعا کو صراحت کے ساتھ بیان کرتا چلا آرہا ہے، اس کے باوجود اس بات کو اُچھالتے چلے جانا کہاں کی دانش مندی ہے؟۔ غداری تو اسے کسی صورت نہیں کہا جاسکتا البتہ حلف کی خلاف ورزی کا معاملہ تب ہوتا کہ اگر راجہ فاروق حیدر اس بیان پر قائم رہتے اور اس کی حمایت میں مزید تاویلات پیش کرتے۔ جب وہ دوٹوک انداز میں کہہ رہے ہیں کہ ان کا مقصد وہ نہیں جو بیان کیا جا رہا ہے تو اس کے بعد اپوزیشن کی سرگرمیوں کو فاروق حیدر خان کے گھیراؤ کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایک بات واضح ہے کہ اس معاملے کو جس قدر طول دیا جائے گا کشمیریوں کی جگ ہنسائی ہوتی رہے گی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آزادکشمیر کی اپوزیشن غداری ریفرنسوں کی لڑھکتی گیند کے پیچھے لڑھکنے کی بجائے اپنی سیاست کے لئے نان ایشو کی بجائے حقیقی مسائل اور اہداف تلاش کرے۔

متعلقہ خبریں