Daily Mashriq


پیش کر غافل کوئی عمل دفتر میں ہے

پیش کر غافل کوئی عمل دفتر میں ہے

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے منشور پر عمل کرنے کے حوالے سے فیصلوں کے بعد ان پر عملدرآمد میں جلد سے جلد ٹھوس پیشرفت کرکے ہی عوام کو تبدیلی کی آس دلائی جاسکتی ہے۔ گوکہ موجودہ حکومت کے قیام کے ابھی ابتدائی مراحل ہیں جس میں کسی قسم کی ٹھوس تبدیلی اور منشور پر عملدرآمد عملی طور پر ممکن نہیں ہوا کرتا لیکن بہرحال قوم کی امیدوں پر پورا اُترنے کیلئے جتنا جلد ممکن ہوسکے ابتداء ہونی چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق نیب کے قانون کو مؤثر بنانے کیلئے ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاامتیاز احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ میں بھی ترامیم لائی جائیں گی۔ اس موقع پر مشیر ماحولیات امین اسلم نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ماحولیات کے حوالے سے اقدامات کرے گی اور2 ستمبر سے باقاعدہ اس مہم کا آغاز ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کی موجودہ حکومت سے معمول سے بڑھ کر جو توقعات ہیں ان پر پورا اُترنا معروضی حالات میں ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ضرور ہے۔ برسوں سے چلے آئے مسائل ومشکلات کے حل کی راتوں رات حکومت سے توقعات رکھنا اگرچہ حقیقت پسندانہ امر تو نہیں لیکن خود تحریک انصاف عوام کی توقعات کو اس قدر بڑھانے کی غلطی کر چکی ہے کہ اب عوام اور خاص طور پر خود تحریک انصاف کے کارکن اس راتوں رات تبدیلی کے منتظر ہیں جو عملی طور پر شاید نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی کبھی آسکے گی۔ بہرحال تحریک انصاف کو قلیل المدتی پروگرامات کے ذریعے جلد سے جلد ابتداء کرنی ہوگی۔ تحریک انصاف کے منشور میں سرفہرست احتساب اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی رہی ہے اور سیاسی وابستگیوں اور نظریات سے بالاتر یہ مطالبہ اور یہ توقع ہر پاکستانی کی بھی ہے اسلئے اس ضمن میں جتنا جلدممکن ہوسکے ٹھوس کام کا آغاز ہونا چاہئے چونکہ کھڑے احتساب کیلئے صرف عزم اور فیصلہ ہی بنیادی اہمیت کا حامل معاملہ ہے اور عوام کو سب سے مطلوب عمل بھی احتساب کا ہے اس لئے سیاسی وحکومتی پالیسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر حکومت وقت کو مرکز اور چاروں صوبوں میں یکے بعد دیگرے بدعنوان عناصر پر ہاتھ ڈالنے میں تاخیر کی گنجائش نہیں۔ اس ضمن میں پانامہ پیپرز میں شامل ناموں سے ابتداء ہوتی ہے یا سابق حکومتوں بشمول تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت میں شامل افراد پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔ قومی فضائی کمپنی، سٹیل ملز، پاکستان ریلوے‘ راولپنڈی‘ لاہور‘ ملتان میٹرو بس‘ اورنج ٹرین‘ پشاور ریپڈ بس سروس‘ معدنیات‘ جنگلات‘ پولیس‘ صحت‘ تعلیم‘ ایف آئی اے وغیرہ غرض کوئی بھی ایسا محکمہ ادارہ اور شعبہ نہیں جس میں احتساب کی ضرورت نہ ہو۔ جہاں تک قوانین کو ترمیم کے ذریعے مؤثر بنانے کا تعلق ہے اس میں وقت بھی لگ سکتا ہے اور حکومت کو قانون سازی میں ممکنہ مشکلات کا بھی سامنا ہوسکتا ہے اس لئے اس تیاری کیساتھ ساتھ موجودہ قوانین کے تحت ہی منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے بڑے معاملات میں ملوث افراد پر ہاتھ ڈالا جائے۔ چونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ ہر سیاسی جماعت اور ہر گروپ میں بدعنوان عناصر موجود ہیں خود حکمران جماعت کی صفوں میں گھسے ہوئے افراد کا دامن صاف نہیں اس لئے اگر احتساب کا آغاز تحریک انصاف سے شروع کرکے مثال قائم کی جائے تو موزوں ہوگا۔ اگر اس ضمن میں حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ خود تحریک انصاف کی قیادت کے کسی نیب زدہ کو وزیر نہ لینے کے واضح اعلان کی خلاف ورزی کی کئی مثالیں مختصر مدت میں قائم کی جا چکی ہیں۔ گوکہ تحقیقات کے مرحلے پر کسی کو مجرم گرداننا انصاف نہیں لیکن جب تحقیقات کے مرحلے میں کسی کی گاڑی پر جھنڈا لہرا دیا جائے تو اس سے انصاف اور احتساب کا عمل متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اگر اسے بھی رد کیا جائے تب بھی احتیاط کا تقاضا بہرحال یہ تھا کہ ان عناصر کی بے گناہی ثابت ہونے کے بعد ہی ان کو عہدے دئیے جاتے تو زیادہ موزوں ہوتا۔ احتساب کے عمل کو شکوک وشبہات سے بالاتر رکھنا تحریک انصاف کی حکومت اور نیب دونوں کی ضرورت اور مجبوری ہونی چاہئے۔ عوام صرف اس احتساب کے عمل ہی کو تسلیم کریں گے جو بلاامتیاز اور شکوک وشبہات سے بالاتر ہو۔ احتساب کے عمل کو شفاف‘ بلاامتیاز اور مؤثر بنانے کیلئے قانون سازی صرف حکومت وقت ہی کا امتحان نہیں بلکہ یہ ہماری پوری سیاسی قیادت اور جماعتوں کو پرکھنے کا موقع ہوگا کہ وہ اس عمل کو کس طرح سے انجام دیتے ہیں اور کس حد تک تعاون کا مظاہرہ سامنے آتا ہے۔ احتساب کے عمل کیلئے قانون سازی ضرور ہونی چاہئے مگر اسے تاخیر کا سبب نہ بنایا جائے۔ جہاں تک ایک کروڑ ملازمتوں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا سوال ہے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کوئی آسان کام نہیں، اگر پچیس لاکھ گھروں کی تعمیر بھی ہو جاتی ہے تو ایک کروڑ ملازمتیں ہی نہیں ملک کے تقریباً چھبیس قسم کے شعبے بالواسطہ یا بلاواسطہ ترقی کریں گے اور ملک میں نہ صرف مکانات کی ضرورت پوری ہونے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔ اس منصوبے پر کام میں بہرحال وقت لگے گا اور وسائل وغیرہ کیساتھ دیگر لوازمات کا بندوبست اس کے منصوبہ سازوں کیلئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ ملک کے ماحولیاتی مسائل پر توجہ، جنگلات لگانے اور شجرکاری کی قومی مہم صرف حکومت وقت کی نہیں پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ عوام کو اس مہم میں شریک ہو کر اسے کامیاب بنانے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت مفت پودوں کی فراہمی کی جتنی بھی کوشش کرے ناکافی ہی ہوگی اس لئے وزیراعظم کو پوری قوم سے اپیل کرنی چاہئے کہ گھر کا ہر فرد نہیں تو فی گھرانہ ایک پودا لگا کر اس کی نگہداشت اور آبیاری کا فریضہ نبھائے تو اس موسم کی شجرکاری کے دوران ہی کروڑوں پودے پورے ملک میں لگ سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کا اگر ہر ووٹر اور اس کے حامی نوجوان بھی اگر اس مہم کو کامیاب بنانا چاہیں تو بھی یہ باآسانی ممکن ہے۔ یہ صرف امکان اور ترغیب کی بات تھی وگرنہ شجرکاری ہر محب وطن پاکستانی مرد وعورت ونوجوان یہاں تک کہ بچوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے قائدین اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کیساتھ ساتھ عوام کو بھی اس نیک کام میں عملی طور پر شریک کرنے کیلئے میدان عمل میں آئیں اور وطن عزیز کو سرسبز وشاداب بنانے کی مہم کو بلاامتیاز کامیاب بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں