Daily Mashriq


شہدائے قوم پہ سب قربان

شہدائے قوم پہ سب قربان

پاک فوج کی جانب سے بلکہ پوری قوم کی جانب سے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر شہدائے قوم وملت کی قربانیوں کی یاد کو تازہ کرنا اور ان کے اہل خاندان سے ملاقات کا اہتمام یقینا قومی جذبے اور عقیدت کا باعث ہے۔ قربانی خواہ وہ خاکی وردی میں ملبوس ہو کر کر دی گئی ہو یا کسی گمنام مجاہد نے خاموشی اور گمنامی کیساتھ اپنی جان وطن عزیز کیلئے قربان کی ہو کسی وردی پوش یا کسی بھی حلیے میں خدمات انجام دی ہو اور اس راہ میں جان کی بازی لگائی گئی ہو اس قوم اس ملک وملت پر ان کا قرض ہے کہ وہ ان کو تادم قیامت یاد رکھے۔ ہمارے تئیں جن لوگوں نے ایسی حالت میں اذیتیں برداشت کرکے جان دی ہو کہ اپنے جگر گوشوں کو جانتے بوجھتے اور دل سے چاہنے کے باوجود دنیا کے سامنے ان کے اپنے نہ ہونے کا ہم نے ناٹک کیا ہو ان گمنام مجاہدوں کے مزارات کا بھی کسی کو علم نہ ہو ان کو خاص طور پر یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی ابھی جس سپاہی مقبول حسین کا انتقال ہوا ہے اس کی قربانی اور کہانی کا جس جس کو علم ہوگا ان کی وفات پر اپنے پیارے کے بچھڑنے جتنا سوگ ہونا فطری امر ہے۔ اس ملک کی تو بنیادوں میں ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بھائیوں کا خون ڈال چکا ہے اس کا دفاع کرتے ہوئے کتنے کڑیل جوان شہادت کا رتبہ پاگئے‘ کتنے معذور ہوئے یہ ہماری تاریخ ہے ان کیساتھ ساتھ ہماری کتنی بہنیں‘ بیٹیاں‘ مائیں اور فرزندان زمین نے قدم قدم پر شہادتوں کیساتھ ساتھ مختلف قسم کی قربانیاں دیں اور دے رہے ہیں۔ ہمارے سکولوں کے معصوم بچوں سے یہ زمین گلنار ہوئی ان واقعات کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ ان کو تو ہر روز یاد کرنا چاہئے بہرحال ایک خاص اور اہم موقع کو ان کی یاد منانے اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مقرر کرنا احسن ہے۔ اب جبکہ یوم دفاع کے موقع کو اس کیلئے چنا گیا ہے تو ہر سال اسی طرح ہونا چاہئے جس دن ہم اپنے شہداء کو یاد کریں۔ ان شہداء کو یاد کرنے کا ایک بہترین طریقہ شہداء کے بچوں اور ان کے اہل خاندان کو سرکاری ملازمتوں اور مواقع میں ترجیح کا ہوسکتا ہے۔ پاک فوج اگر پہل کرتے ہوئے ہر سطح کی بھرتیوں میں شہداء کے خاندان کے موزوں امیدواروں کو اولیت دینے کی مثال قائم کرے اور دیگر دفاعی وسویلین اداروں میں شہداء خاندانوں کے چشم وچراغوں کو اولیت دیں اور ہم من حیث القوم ان کو عزت اور ترجیح دیں تب بھی حق تو ادا نہ ہوگا لیکن بہرحال ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ ایک موزوں عمل ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس موقع پر ہمارے عوامی نمائندے‘ میڈیا اور عوام سبھی پاک فوج کے اس احسن اقدام سے قدم ملانے کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

بجلی کی فاضل پیداوار کا خوشگوار اعتراف

2013ء کے بعد نیشنل گرڈ میں بارہ ہزار میگا واٹ بجلی شامل کئے جانے اور ملک میں بجلی کی پیداوار کی ضرورت سے زیادہ ہونے کا حکومت کی جانب سے سینیٹ میں سرکاری طور پر اعتراف اور تین سالوں میں پیٹرولیم مصنوعات پر صارفین کو چوراسی ارب انیس کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کا گزشتہ حکومت کے سب سے بڑے ناقد اور طناز بابر اعوان کا بزبان خود اعتراف اسلئے قابل اطمینان امر ہے کہ قوم کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات مل گئی ہے جن جن فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ان علاقوں کے صارفین کو چاہئے کہ وہ اولاً خود اور بعدازاں ملک وقوم کے مفاد میں اپنے حصے کے بقایاجات اور بلوں کی ادائیگی یقینی بنا کر بلا تعطل حصول کے حقدار بنیں۔

متعلقہ خبریں