Daily Mashriq

وفاقی کابینہ کے ٹاسک فورسز بنانے کے فیصلے

وفاقی کابینہ کے ٹاسک فورسز بنانے کے فیصلے

پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی یار لوگ جیسے ادھار کھائے بیٹھے تھے کہ اب اسے جوابدہی میں الجھائے رکھنا ہے۔ کوئی سادگی کی مہم پر نکتہ آرائی کر رہا ہے ‘کوئی کہہ رہا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنے اتنے دن ہو گئے لیکن انہوں نے قائد اعظم کے مزار پر حاضری نہیں دی جیسے یہ کوئی ایسی سرکاری ذمہ داری ہو جس کے بغیر وزارت عظمیٰ کا حلف مکمل نہیں ہوتا۔ ادھر عمران خان ایک طرف وزارتوں کی تقسیم میں منتخب نمائندوں کی خواہشات اور تجاویز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں دوسری طرف اپنے وعدوں کی تکمیل کیلئے عہدیداروں کی ٹیمیں بنا رہے ہیں اور سرکاری کاموں کے اخراجات بچانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں جن میں اگرچہ نیت تو نیک نظر آتی ہے تاہم سادگی اختیار کرنے کا کام لگتا ہے اہداف طے کئے بغیر اور منصوبہ بندی کے بغیر ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت سے سوال قوم کو درپیش بڑے چیلنجز کے حوالے سے ہونے چاہئیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ادائیگیوں کے توازن کا ہے۔ ابھی خود وزیر خزانہ کو یقین نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے کیلئے جانا ہو گا یا اس کے بغیر کام چل جائے گا۔اس ایک سوال پر اس بات کا انحصار ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی پالیسیاں بنانے اور عوام کو ریلیف دینے میں کس قدر بااختیار یا مجبور ہو گی۔ رہی وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے اور گورنر ہاؤسوںکو عوام کی بھلائی کے کاموں کیلئے استعمال کرنے کی بات تو یہ بڑی دور کی بات ہے۔ جب فوری مسائل سے چھٹکارا ہو گا اور یہ معلوم ہو سکے گا کہ اعلیٰ پائے کی ریسرچ یونیورسٹی بنانے کے لیے فنڈز اور وسائل کہاں سے آئیں گے،تب ہی سوچا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ سب سے پہلے عوام کو مختلف شعبوں کی صورت حال ‘ تقاضوں اور اہداف کے بارے میں اعتماد میںلیتی۔ مسائل کی سنگین نوعیت سے عوام کو آگاہ کرتی اور پھر اپنی ترجیحات مرتب کر کے عوام کے سامنے پیش کرتی۔ یہ اعتراف کرنے میںکوئی حرج نہ ہوتا کہ انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کیے گئے ہیں وہ ان معلومات کی بنا پر تھے جو حکومت سے باہر ہونے کی صورت میں پارٹی تک پہنچیں۔ حکومت سنبھالنے کے بعد جو صورت حال سامنے آئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اہداف کو برقرار رکھتے ہوئے نئے سرے سے ترجیحات مرتب کی جائیں۔ پہلی ترجیح کیونکہ سادگی ہی سامنے آئی اس لیے سارا میڈیا اس کی طرف متوجہ ہو گیا اور کیونکہ اس مہم کے کوئی اہداف مقرر نہ تھے مثال کے طور پرسرکاری اخراجات میں کتنے فیصد کمی کی جائے گی۔ اور ظاہر ہے کہ حکومت سے باہر ہوتے ہوئے اس کی کوئی منصوبہ بندی بھی نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے ساری توجہ سادگی اور اخراجات کی کمی کی طرف منعکس ہو گئی حالانکہ پارٹی کے سامنے اصلاحات کا باقاعدہ ایجنڈا تھا اور اس کے اہداف بھی۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کابینہ نے حکومت کے کاموں میں سادگی متعارف کرانے کیلئے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس سلسلہ میں پالیسی مرتب کرے گی اور اہداف مقرر کرے گی۔ اس طرح میڈیا کی توجہ سادگی اختیار کرنے کے ان اقدامات کی بجائے جن کا اعلان وزیراعظم نے اپنی ذات کے حوالے سے کیا ہے اور ان کی تقلید میں مختلف وزراء نے کیا ہے ایک باقاعدہ پالیسی کی طرف مبذول ہو گی جس کے اہداف ہوں گے اور جو سادگی کے ایک کلچر کی بنیاد مہیا کرے گی۔ یوں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور گورنر ہاؤسز کو مسمار کرنے کی بحث ختم ہو سکے گی جو قوم کے اہم ترین ایشو نہیں ہیں البتہ سرکاری اخراجات کمی ایک ایشو ہے جس سے سرکاری حکام اور سیاسی حکمرانوں کا رویہ منضبط ہوتا ہے۔ رہی وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر کے استعمال کی بات تو ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری سیکورٹی کے ذمہ دار اہل کاروں کی ہے جو اپنے کام کی تربیت اور مہارت کے حامل ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے خیال میں خود وزیراعظم کو بھی خود سیکورٹی اہل کاروں کی راہ میں مشکلات حائل نہیں کرنی چاہئیں۔ کابینہ کے دیگر فیصلے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا کام تیز کرنے‘ جنوبی پنجاب کا نیا صوبہ بنانے‘ نیب کے قوانین میں اصلاحات‘ ضابطہ فوجداری میں اصلاحات‘ ایک کروڑ افراد کو ملازمتیں مہیا کرنے اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے سے متعلق ٹاسک فورسز قائم کرنے کے ہیں۔ یہ وعدے تحریک انصاف اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے کر چکی ہے اور کابینہ کے ابتدائی اجلاسوں میں ان وعدوں کے ایفاء کے حوالے سے کام کا آغاز حکومت کی اپنے وعدے نبھانے میں سنجیدگی کا اظہار ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان ٹاسک فورسز کے کام کی مانیٹرنگ کے ماحصل سے عوام کو بھی مطلع رکھا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی تحریک نے عوام کو حکومت کے کاموں اور وعدوں کے بارے میں اس قدر متوجہ کر دیا ہے کہ عوام حکومت بنتے ہی تبدیلی دیکھنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں اس لیے حکومت کیلئے یہ ضروری ہو گا کہ وہ وعدوں کے ایفا کے بارے میں وقتاً فوقتاً عوام کو آگاہی فراہم کرتی رہے۔ ضابطہ فوجداری میں ترمیم ایک اہم کام ہے۔ اگرچہ کابینہ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹاسک فورس دہشت گردی کے مقدمات میں حائل ہونے والی مشکلات دور کرے گی لیکن ضابطہ فوجداری سے بالعموم عوام متاثر ہوتے ہیں اس حوالے سے ترامیم کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔ خصوصاً ایف آئی آر کا لازمی اندراج ‘ جھوٹے گواہوں کا پیش ہونا‘ گواہوں کا مکر جانا اور ان کے تحفظ کا مسئلہ ‘ وکلائے سرکار کی طرف سے مقدمات کی پیروی کا معیار‘ مقدمات کی طوالت‘ عدالتوں کے فیصلوں کا اگلی عدالتوں میں ٹوٹ جانا ۔ ایسے معاملات میں اہلکاروں کا مواخذہ کا نظام ضروری ہونا چاہیے۔ ان ٹاسک فورسز کا قیام اپنی جگہ ایک مستحسن اقدام ہے تاہم سب سے پہلے مالیاتی مسائل‘ پانی کے مسائل ‘ دہشت گردی کے مسائل‘ صحت اور تعلیم کے مسائل کے بارے میں پالیسیاں سامنے آنی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں