Daily Mashriq


نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا؟

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا؟

پاک امریکہ جیسے تعلقات شاید دنیا کے کسی بھی دو ملکوں کے درمیان نہ ہوں گے۔ ستر برسوں کے یہ دوطرفہ تعلقات کی تاریخ دلچسپ بھی ہے عجیب وغریب بھی اور عبرت ناک بھی۔۔

لیکن تاریخ میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ اچانک محبوب کو اپنے عاشق بدحال پہ اپنے ہی مفادات کیلئے سہی ترس بھی آیا ہے اور محبت بھی۔ 1950ء سے لیکر 1960ء کے عشرے میں سینٹو اور سیٹو سے ہوتے ہوئے بڈھ بیر کے فضائی اڈے کی فراہمی تک سب اسی محبت نابکار کے شاخسانے تھے کہ ہم اپنا سب کچھ لٹانے پر بھی تیار ہوئے، اس غرض سے کہ امریکہ بہادر اتنی قربانی کے بدلے ہمیں اپنے خونخوار اور متعصب پڑوسی کی جارحیت کی صورت میں کم ازکم اپنے پیسوں پر اسلحہ ضرور فراہم کرے گا۔ اس مقصد کیلئے باقاعدہ معاہدہ کیا گیا لیکن جب 1965ء میں وہ لمحہ آیا تو معاہدے کی تاویل یہ پیش کی گئی کہ وہ روسی جارحیت سے بچاؤ کیلئے تھا۔ بھارت تمہارا پڑوسی ہے تم جانو اور وہ جانے۔ اسی جنگ کے بعد ایوب خان کو پتہ چلا کہ دوستی کرنے کیلئے اپنے برابر کے لوگوں کو دیکھنا چاہئے۔ اپنے سے بڑوں کیساتھ دوستی کے بظاہرکتنے ہی بلند وبانگ نعرے اور مظاہرے کئے جائیں بڑا آخر اپنے آپ کو آقا ہی سمجھتا ہے۔ اسی لئے الطاف گوہر (سیکرٹری اطلاعات) کو جنرل ایوب کی طرف سے ’’آقا نہیں، دوست‘‘ نامی کتاب لکھنا پڑی۔ اس کتاب میں عبرت کا بڑا سامان ہے اور شاید بھٹو صاحب نے اسی سے سبق لیتے ہوئے روس اور اسلامی ممالک کیساتھ تعلقات استوار اور مضبوط کرنے کی بنیاد ڈالی اور شاید لاہور اسلامی سربراہ کانفرنس کے اعلامیے ہی آقاؤں کو اچھے نہ لگے اور ذوالفقار علی بھٹو اُن کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکنے لگے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے جانے کے بعد ضیاء دور میں پاکستان کو گھاس ڈالنے کے قابل بھی نہیں سمجھا جا رہا تھا کہ اچانک افغانستان پر روس نے تاریخی غلطی کرتے ہوئے حملہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھرپاکستان کی اہمیت اور ضرورت محسوس ہوئی اور دونوں بالخصوص سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے کمال اشتراک عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے روس جیسی سپرطاقت کو کئی ملکوں میں تقسیم کرکے دکھایا اور اس کے بعد ایک دفعہ پھر پاکستان نظرانداز ہوا لیکن جب 9/11 کا واقعہ ہوا تو افغانستان پر حملہ کیلئے پاکستان کی اشد بلکہ ناگزیر ضرورت محسوس کرکے پرویز مشرف کو آدھی رات کو آرمٹیج نے فون کر کے وہ کچھ حاصل کیا جو اُن کے وہم وگمان میں نہ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلے پاکستان اور عالم اسلام کے بعض دیگر ممالک کے بارے میں سخت لائحہ عمل کا عندیہ دیا تھا لیکن صدر بننے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے حوالے سے بڑی خوشگوار گفتگو سامنے آئی جس کی بہت جلد اپنے بعد کے بیانات میں تردید کی گئی۔

اس وقت امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہت گہری پیچیدگیاں لئے ہوئے بہت کشیدہ ہیں۔ اتنے کشیدہ کہ شاید اس سے پہلے کبھی ایسے ہوئے ہوں۔ اصل کشیدگی افغانستان کے حوالے سے ہے۔

پاکستان کا مؤقف واضح اور مبنی بر حقائق یہ ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں آج تک جو نقصان اُٹھایا ہے اتنا دنیا کے کسی دوسرے ملک نے نہیں اُٹھایا۔ اس کے باوجود امریکہ اس کا اعتراف تو درکنار اُلٹا پاکستان کو معاشی وعسکری مشکلات میں دھکیل رہا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں امریکہ نے پاکستان کیخلاف جو رویہ اختیار کیا ہے یقینا وہ ستر برس پر محیط تعلقات اور پاکستان کی قربانیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں تحریک انصاف کی نئی حکومت کیساتھ امریکہ کی طرف سے ابتدائی طور پر اچھی خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں اور پاکستانی عوام توقع کر رہے تھے کہ ان دو اہم ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات سے بہت جلد خطے میں امن کو فروغ ملنا شروع ہو جائیگا۔ عمران خان نے بھی امریکہ کو خیر سگالی کا پیغام بھیجا تھا لیکن پومپیو کی ایک کال نے نیا مخمصہ کھڑا کیا ہے جو حقیقت میںکچھ بھی نہیں ہے۔ بھئی اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے جب دو ملکوں کے درمیان بدگمانی ہوتی ہے تو بات چیت کے دوران اور وہ بھی ٹیلیفون کے ذریعے، ایک طرف سے ایک بات ہو جاتی ہے جو دوسری طرف کے مزاج یا نظریات اور پالیسی ومفادات یا حقائق کیخلاف ہوتی ہے لہٰذا اسے ان سنی کرتے ہوئے بیان دینا پڑتاہے کہ ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں ہے۔

پاکستان میں اپوزیشن کو جو عمران خان کی مخالفت بلکہ دشمنی پر اُدھار کھائے بیٹھی ہے ایک بات مل گئی ہے لہٰذا صبح وشام اب اس کا ورد ہے کہ ریکارڈنگ منظرعام پر لائی جائے۔ بھئی کیوں؟ نوازشریف اور دیگر حکمرانوں سے امریکہ کے حکمرانوں نے کئی ایسی باتیں کی ہیں۔ ابھی ٹرمپ نے پاکستانیوں کی تعریف کی اور بعد میں مکر گئے۔ لہٰذا سیاستدانوں کو ایسی باتوں کا بتنگڑ بنانے سے پرہیز کرتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ کی بات پر صاد کر لینا چاہئے اور انتظار کرنا چاہئے کہ پومپیو کے دورہ پاکستان سے کیا چیز سامنے آتی ہے۔ باقی پومپیو کے فون میں بقول شاعر جو نیا سلام بھیجا گیا ہے وہ ضرور ہمارے رقیب کے نام تھا لیکن ہم پھر بھی نظرانداز کئے دیتے ہیں۔۔

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

متعلقہ خبریں