Daily Mashriq


دو موضوعات۔۔ اہم سوال

دو موضوعات۔۔ اہم سوال

ارادہ تو یہ تھا کہ ہم اپنے بچپن اور لڑکپن کے زمانے میں رائج کچھ کھیلوں کے بارے میں پرانی یادیں تازہ کر لیں مگر اس دوران اخبارات کا بنڈل سامنے آگیا‘ ہاکر روزانہ سات آٹھ اخبارات کا پلندہ پہنچا دیتا ہے۔ ان کی ورق گردانی سے بعض ایسے موضوعات سامنے آگئے جن پر لکھے بغیر رہا نہیں جا سکتا اس لئے آج کا کالم متفرقات ہی کے حوالے سے ہے۔ پہلی خبر یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین چند روز سے امریکی وزیر خارجہ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مابین ٹیلیفون پر گفتگو کے حوالے سے جو ایک قسم کا قضیہ چل رہا ہے اور دونوں جانب سے محولہ گفتگو کے سلسلے میں جو متضاد بلکہ ایک دوسرے کے دعوؤں کی نفی پر مبنی باتیں کی جا رہی ہیں اس بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا تازہ بیان یہ آیا ہے کہ ’’امریکہ اپنے بیان پر قائم ہے تو ہم بھی اپنی بات پر قائم ہیں‘‘۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکی وزیر خارجہ اور وزیراعظم عمران خان کی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق امریکی بیان کو مسترد کر دیا۔ سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان نے جو بات کی اس کا ٹیلی فونک رابطے میں ذکر تک نہیں ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے دوران انہوں نے پاکستان میں سرگرم تمام دہشت گردوں کیخلاف پاکستان کی جانب سے فیصلہ کن کارروائی کی اہمیت پر زور دیا تاہم پاکستان کی جانب سے امریکی دفتر خارجہ کے جاری کردہ اس بیان کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ کی بات چیت مثبت‘ تعمیری اور دوستانہ انداز میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 5ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان آرہے ہیں‘ کوشش ہوگی کہ پاک امریکہ تعلقات کو بہتری کی طرف موڑیں، اس میں پاکستان کے عوام اور منتخب نمائندگان کی آراء کو ترجیح دیں‘ خارجہ پالیسی مرتب کرنے میں پارلیمنٹ سے رہنمائی لوں گا۔ اس پر فیض احمد فیض کا یہ شعر تو صادق آتا ہے کہ

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

اب اس شعر کا اطلاق کس پر ہوتا ہے یہ بات البتہ سوچنے کی ہے اور قارئین کی صوابدید پر ہی اسے چھوڑ دینا چاہئے تاہم محولہ بیان بازی کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے جو مطالبات سامنے آتے رہے ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو شاید دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور وہ یہ کہ محولہ گفتگو کی ریکارڈنگ سامنے لائی جائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو امریکی اتنے کائیاں ہیں کہ وہ خود ہی ایسا کر گزریں گے بشرطیکہ ان کی بات درست ہو۔ تاہم اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں (جس کے امکانات موجود ہیں) تو وہ یہ ریکارڈنگ سامنے لانے کی غلطی نہیں کریں گے۔ ایسی صورت میں یعنی جب ہم سچ کہہ رہے ہیں تو ریکارڈنگ سامنے لانے میں ہمیں کیا امر مانع ہے؟ بات وہی پشتو کی ایک ضرب المثل والی ہے ’چہ غَل نہ ئے نو د باچا نہ ہم مہ یریگہ‘ یعنی جب چور نہیں ہو تو بادشاہ سے بھی مت ڈرو کیونکہ عالمی سیاست میں امریکیوں نے جس طرح نام پیدا کیا ہے اس پر تو ہمارے ایک مرحوم دوست نیاز سواتی نے بہت پہلے کہا تھا

میرا بیٹا بات سچی ایک بھی کرتا نہیں

میرے بیٹے کو سیاستدان ہونا چاہئے

ہمارا خیال تھا کہ یہ ڈبل شاہ قسم کی مخلوق صرف ہمارے ہاں ہی پائی جاتی ہے جو سادہ لوگ عوام کو دھوکہ دے کر ان سے رقم لے کر رفو چکر ہو جاتی ہے بعض لوگوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی آڑ میں ایس ایم ایس کے ذریعے لوٹ کھسوٹ کا نیا دھندہ شروع کر رکھا ہے حالانکہ اب متعلقہ اداروں کی جانب سے عوام کو ان لٹیروں سے خبردار رہنے اور ان کے جال میں نہ پھنسنے کی ہدایات بھی بذریعہ ایس ایم ایس ہی دی جا رہی ہیں جبکہ لاٹریوں وغیرہ میں انعام نکلنے اور ایک ٹی وی چینل کے مقبول پروگرام میں بھی بھاری انعامات نکلنے کی نوید دے کر سادہ افراد کو لوٹنے کا دھندہ عروج پر ہے مگر ہر شخص نہ پڑھا لکھا ہے نہ اس قسم کے الرٹس پر توجہ دیتا ہے اور لٹ جاتا ہے۔ اب سعودی عرب سے جو خبر آئی ہے اور جس کے مطابق حج بیت اللہ کے موقع پر ایسے ہی اچکے سرگرم ہو چکے تھے اور انہوں نے حجاج کرام کو قربانی کے جعلی کوپن فروخت کرکے جیبیں بھر لیں تاہم ان افراد کو سعودی انتظامیہ نے حراست میں لے لیا ہے اور اب انہیں پبلک پراسیکیوشن کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ سعودی عرب میں اس حوالے سے جو ترقیاتی پراجیکٹ قائم کیا گیا ہے اس کے سربراہ اعلیٰ رحیمی احمد رحیمی کے مطابق 84گھنٹے کے اندر950 ہزار یعنی ساڑھے نو لاکھ بکرے ذبح کئے گئے۔ اس مقصد کیلئے 5ممالک کے 18ہزار قصابوں‘ انجینئرز‘ ویٹرنری ڈاکٹرز سمیت مختلف شعبوں کے اہلکاروں نے قربانی سکیم کے نفاذ میں حصہ لیا جبکہ اندرون ملک سے 18ہزار کارکنوں کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں۔ رحیمی کا کہنا تھا کہ جعلی قربانی کوپن ضبط کرکے جعلسازی کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ بحث اس بات پر نہیں کہ ہم اپنے ملک میں دھوکہ دہی کا رونا رو رہے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی جعلساز سرگرم ہیں حالانکہ وہاں سخت سزائیں رائج ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جو حجاج کرام ان جعلی سکیموں کا شکار ہو چکے ہیں، حج کے ایک اہم رکن قربانی کی کیا حیثیت بن رہی ہے یعنی کیا ان کی قربانی ہوگئی؟ اگر نہیں تو وہ کیا کریں‘ علمائے دین رہنمائی فرمائیں۔

متعلقہ خبریں