Daily Mashriq


عالمی مالیاتی اداروں کی استحصال پر مبنی تجاویز

عالمی مالیاتی اداروں کی استحصال پر مبنی تجاویز

آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے ملک بھر میں سرکاری ملازمین کی پنشن کی ادائیگی کو آئندہ پانچ سال کیلئے ناقابل عمل قرار دیا۔ دونوں بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں کے مطابق ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث پنشن کی ادائیگی میں بجٹ میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ 2024 تک موجودہ ملازمین کی تعداد میں 3لاکھ مزید اضافہ ہوگا۔ خیبر پختونخوا کا پنشن بجٹ 60ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ان دو عالمی مالیاتی ایجنسیوں نے وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو ماہانہ پنشن کی ادائیگی کے بجائے سالانہ گرانٹس یا دس سال کی پنشن لم سم دے کر ملازمت سے فارغ کر دیا جائے۔ حکومت کو ہاؤس رینٹ ختم کرنے کی بھی تجویز پیش کر دی گئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کے روزگار‘ سر چھپانے کی جگہ، صحت، تعلیم اور ان کی حفاظت کا بندوبست کرے گی مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاست عوام کو ان بنیادی سہولیات جو ان کا قانونی اور آئینی حق ہے پہنچانے میں ناکام ہے اور پاکستانی ریاستی اداروں کے بجائے عوام ان تمام سہولیات کا انتظام خود کر رہے ہیں اور ریاست کا کردار برائے نام ہے اور اب بھی بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں کی بات مانی گئی تو 22کروڑ عوام میں جو چند لاکھ عوام کو ملازمت ملی ہے اس کو کسی نہ کسی طریقے سے فارغ کرکے وطن عزیز میں فرسٹریشن اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستانی اور ترقی یافتہ ممالک کے رہن سہن اور معیار زندگی میں بہت فرق ہے۔ وہاں نجی سطح پر اتنی صنعتیں لگائی گئی ہیں کہ بہت کم لوگوں کو سرکاری ملازمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے صنعتکار ان اداروں کو مؤثر انداز میں چلاتے ہیں اور وہاں پر ان نجی اداروں کے ملازمین خوش اسلوبی سے کام کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں پر نجی اداروں کو کنٹرول کرنے کا مؤثر نظام ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں نجی اور پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کیساتھ شودروں والا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں نجی ادارے بہت کم ہیں اسلئے زیادہ تر کام سرکاری اداروں کے سپرد ہوتا ہے۔ لہٰذا جس طرح ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے کرتا دھرتاؤں کی جو سوچ ہے وہ ہمارے ملک کے جغرافیائی اور مالیاتی نظام اور ملک کے ملازمتوں کے سٹرکچر سے بالکل مختلف ہے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو ہمارے حکمرانوں نے ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بے تحاشا قرضے لئے ہیں اور وہ ان قرضوں کو تعمیری اور ریاستی اور عوام کے فلاح وبہبود کے بجائے اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں اور اپنے خفیہ اکاؤنٹس میں رکھتے ہیں جس کا بوجھ پھر پاکستانی عوام کو بے تحاشا ٹیکسوں اور سرکاری ملازمین کی ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کی صورت میں دینا پڑتا ہے۔ ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا جاتا ہے اور عوام کو ان کی بنیادی سہولیات سے محروم کیا جاتا ہے۔ جو لوگ سرکاری ملازمین اور اداروں کی مخالفت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سرکاری ادارے کوئی کام نہیں کرتے تو اس سلسلے میں یہاں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے حکمران نااہل اور نالائق ہیں اسی وجہ سے اداروں کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہوتی۔ اگر حکمران اچھے ہوں اور گڈگورننس ہو تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ سرکاری اداروں اور ملازمین کی کارگردگی خراب ہو۔اداروں کو نجی حیثیت دینے سے کوئی کارکردگی نہیں بڑھتی بلکہ اچھی مینجمنٹ اور گڈگورننس سے اداروں کی کارکردگی پر اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر ہم ماضی میں نجکاری پر نظر ڈالیں تو سال1991 سے سال2013 تک 167 اداروں کی نجکاری تقریباً 467ارب روپے میں کی گئی ہے۔ ان میں نواز شریف کے دو ادوار میں 76اداروں کی نجکاری14.6 ارب روپے میں، پاکستان پیپلز پارٹی کے دو ادوار میں 26اداروں کی نجکاری 33ارب روپے میں جبکہ پرویز مشرف کے 10سالہ دور میں 62اداروں کی نجکاری 419ارب روپے میں کی گئی ہے۔ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حبیب احمد کا کہنا ہے کہ نجکاری سے مثبت رجحان کے بجائے منفی اثر پڑا اور عام چیزوں کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے بڑھ گئیں۔ اسی طرح مختلف مناپلی گروپ جس میں سیمنٹ، ٹیلی کام، سریا، مصنوعی کھاد اور بجلی شامل ہے وجود میں آئے۔ ریاست کو کاروبار اور فیکٹری کی طرح چلانے کے بجائے ریاست کے طو ر پر چلاناچاہئے۔ حکومت کو اپنے وسائل دوسرے ذرائع سے بڑھانا چاہئے اور غریب اور پسے ہوئے سرکاری ملازمین کیلئے کنویں نہ کھو دیں۔ پاکستان کو جن جن سیاستدانوں، ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ نے لوٹا ہے ان کا کڑا احتساب ہونا چاہئے ہاں اگر پرائیویٹ اور نجی مد میں مضبوط ادارے بنائے جائیں اور ان کے اچھے رولز ریگولیشن ہوں ملازمین کیلئے سروس سٹرکچر ہو تو پھر بے شک سرکاری اداروں کو نجی ملکیت میں دیا جائے۔ ان سرکاری ملازمین سے کام لیا جائے نہ کہ ان کو رائٹ سائزنگ اور ڈاؤن سائزنگ کے نام پر ذلیل کیا جائے یا ان کی پنشن اور دوسری مراعات ختم کی جائیں۔ اس ملک کے شہری کیا کریں جو اپنے بچوں پر لاکھوں روپے خرچ کرکے پڑھاتے ہیں اور پھر ان کو روزگار نہیں ملتا تو پھر جرائم کی دنیا میں آئیں گے یا نشہ کی لت میں گرفتار ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ ملک میں مزید صنعتی علاقے قائم کریں جس میں پڑھے لکھے جوانوں کو سروس ملے۔ ساتھ ساتھ جوانوں کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت دی جائے اور ان کو سمندر پار بھیجا جائے۔

متعلقہ خبریں