Daily Mashriq

شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی استغاثہ کی درخواست قبول کرنے کے مطالبے پر 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

شاہد خاقان عباسی کو چھوٹے اور گنجان کمرہ عدالت میں جج شاہ رخ ارجمند کے روبرو پیش کیا گیا جو جج محمد بشیر کی غیر موجودگی میں احتساب عدالت کے انتظامات چلارہے ہیں۔

استغاثہ نے شاہد خاقان عباسی کو عدالت میں پیش کرکے ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی۔

شاہد خاقان عباسی نے وکیل نہ ہونے پر خود موقف پیش کرتے ہوئے جج سے استغاثہ کی درخواست قبول کرنے کا کہا۔

انہوں نے تنزیہ لہجے میں کہا کہ قومی احتساب ادارے (نیب) کو اب بھی ایل این جی معاہدے کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہے۔

شاہد خاقان عباسی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر پیٹرولیم 15 سال کے لیے ایل این جی ٹرمینل کا معاہدہ کرنے کا الزام ہے۔

نیب کی جانب سے اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا تاہم اسے 2018 میں دوبارہ کھولا گیا۔

دریں اثنا سابق وزیر قانون بیرسٹر ظفراللہ خان نے شاہد خاقان عباسی کی نمائندگی کے لیے اپنا وکالت نامہ جمع کرادیا۔

بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے جسمانی ریمانڈ کے دوران وکیل کرنے سے انکار کردیا لیکن جب عدالت انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے گی تو انہیں وکیل کی ضرورت پڑے گی۔

ان کے مطابق سابق وزیر اعظم جسمانی ریمانڈ کے ختم ہونے کے بعد ضمانت کے لیے درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں