Daily Mashriq

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب آخری لمحات میں منسوخ

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب آخری لمحات میں منسوخ

اسلام آباد: حکومت نے جمعے کے روز (آج) بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منسوخ کردیا جس میں صدر مملکت عارف علوی کو خطاب کرنا تھا۔

اجلاس ملتوی کیے جانے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی جو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) اراکین کی تعیناتی کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

اجلاس کی منسوخی پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت نے صدر اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی کے ’غیر آئینی‘ اقدام پر اپوزیشن کے احتجاج سے بچنے کے لیے اجلاس منسوخ کیا اور اس بارے میں اپوزیشن کو اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ساتھ ساتھ حکومت نے 2 ستمبر کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس بھی منسوخ کردیا۔

اس سلسلے میں جب وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپوزیشن کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ اجلاس اس لیے منسوخ کیا گیا تاکہ اراکین اپنے اپنے حلقوں میں جا کر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کشمیر کے لیے دی گئی احتجاج کی کال پر عمل کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چاہے تو عاشورہ (9، 10 ستمبر) کے بعد ہونے والے اجلاس میں احتجاج کرسکتی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اس لیے منسوخ کیا کیوں کہ وہ ملک میں آئینی بحران پیدا کرنا چاہتی ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے اجلاس کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے ارادے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی کے بارے میں حکومت سے جواب حاصل کرنا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اپوزیشن کا حق ہے کہ صدر ار وزیراعظم کی جانب سے کی گئی ’آئین کی سنگین خلاف ورزی‘ کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائے۔

اس ضمن میں ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں شور شرابے والا احتجاج کر کے صدر کو خطاب سے روکنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم اس منصوبے کو آخری لمحات تک کے لیے خفیہ بھی رکھا گیا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے 26 اگست کو ہونے والے اجلاس میں الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی پر بات چیت کرنے کے ساتھ ساتھ صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد لانے پر بھی غور کیا گیا تھا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے پی پی پی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’آئین کی خلاف ورزی‘ پر آئین کی دفعہ 47 کے تحت صدر کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں