Daily Mashriq

امریکا کا معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں مستقل فوج رکھنے کا اعلان

امریکا کا معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں مستقل فوج رکھنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچتے ہیں تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہزار 600 تک ہوجائے گی لیکن ان کی مستقل موجودگی وہاں برقرار رہے گی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے فاکس نیوز ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ' ہم فوجیوں کی تعداد 8 ہزار 600 تک کرنے جارہے ہیں اور پھر ہم وہاں سے ایک عزم کریں گے'، تاہم 'ہم وہاں ہمیشہ اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے'۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر امریکا پر افغانستان پر ایک اور حملہ ہوتا ہے تو 'ہم اس طاقت طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے جو پہلے کبھی نہ تھی'۔

خیال رہے کہ القاعدہ کی جانب سے 11 ستمبر 2001 کو امریکی سرزمین پر ہونے والے حملے کے بعد پہلی مرتبہ امریکی فوجیوں کو افغانستان بھیجا گیا تھا۔

تاہم امریکا اب اس 18 سالہ طویل جنگ اور اس میں اپنی فوج کی شمولیت کا خاتمہ چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وہ کافی عرصے سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد میں اس وقت کمی ہوگی جب افغان طالبان یہ ضمانت دیں کہ ان کا علاقہ القاعدہ یا کسی دوسر بین الاقوامی عسکریت پسند گروپ کی جانب سے استعمال نہیں ہوگا۔

دوران انٹرویو امریکی صدر نے کہا کہ فوج کا مکمل انخلا نہیں ہوگا اور ایک قوت موجود رہے گی جو 'اعلیٰ خفیہ معلومات' فراہم کرے گی اور 'ان کی موجودگی برقرار رکھنا ہوگی'۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس انٹریو کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر نے گفتگو کے دوران اس بات کو دہرایا کہ 'اگر وہ ایک کروڑ لوگوں کو ماردیں تو امریکا بہت تیزی سے جنگ جیت سکتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتے'۔

اس کے علاوہ انہوں نے دوبارہ افغانستان کو 'دہشت گردی کی ہارورڈ یونیورسٹی' اور 'کچا اور پہاڑی علاقہ' قرار دیا۔

خیال رہے کہ اس وقت افغانستان میں نیٹو فورسز کے ساتھ امریکا کے تقریباً 14 ہزار فوجی موجود ہیں جو افغان فوجیوں کو تربیت دینے کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرتے ہیں۔

تاہم امریکی صدر نے انخلا کے معاہدے کی صورت میں بھی افغانستان میں فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں، تاہم حالیہ دور کے بعد طالبان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔

گزشتہ دنوں دوحہ میں طالبان کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی بے دخلی سے متعلق مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔

ترجمان سہیل شاہین نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ ’دوحہ میں مذاکرات کے پانچویں مرحلے میں مثبت پیش رفت ہوئی اور اب ہم باقی ماندہ نکات کو حتمی شکل دے رہے ہیں‘۔

متعلقہ خبریں