Daily Mashriq

مہنگائی نوٹس لینے سے کم نہ ہوگی

مہنگائی نوٹس لینے سے کم نہ ہوگی

عام آدمی کو ریلیف دینے کا وعدہ ہر حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کا بھی دعویٰ اور عزم رہا ہے لیکن اس حکومت کے ابتدائی سال عوام کو ریلیف تو درکنار جاری معمول کی مہنگائی سے بھی کہیں بڑھ کر مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا بجلی اور گیس بلوں میں اضافہ پٹرولیم مصنوعات کی ماہانہ بڑھتی قیمتیں عام آدمی اور چھوٹے کاروباری طبقے پر شدت کے ساتھ اثر انداز ہوئیں جبکہ اوسط درجے کا کاروبار بھی متاثر ہوا بڑے کاروبار بھی متاثر ہونے سے نہ بچ سکے تو عملے کی کمی کی صورت میں لوگوں کی بڑی تعداد بیروزگار ہوگئی ان حالات سے ناقدین ہی نہیں خود تحریک انصاف کے کارکن بھی نالاں ہیں ان کی قیادت کو بھی اس کا ضرور احساس ہوگا یہ کسی سیاسی مخالفت یا خواہ مخواہ کی تنقید کے زمرے میں نہیں آتابلکہ اس حقیقت کے وزیراعظم عمران خان کو بھی احساس ہے ہول سیل مارکیٹ میں قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے اچانک معائنہ کیا جائے اور عوام کو قیمتوں سے آگاہ رکھا جائے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہول سیل مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی نیلامی میں شفافیت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کوئی بھی کسانوں کو ان کی محنت کے صلے اور آمدنی سے محروم نہ رکھ سکے۔وزیراعظم ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو پانے کے لیے مارکیٹ کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پر بھی مشاورت کر رہے ہیں ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو روٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت احساس پروگرام کے تحت ضرورت مند خاندانوں کو بنیادی اشیائے ضروریات فراہم کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے عوام پر جو بوجھ ڈالا ہے وہ ناقابل برداشت ہوگیا ہے صرف اس ماہ اگر بجلی کے اضافی بلوں ہی کا جائزہ لیا جائے اور اس سے عوام جس بری طرح متاثر ہوئے اور جن جذبات کا اظہار سامنے آرہا ہے وہ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیئے وزیراعظم نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں جو ہدایات جاری کی ہیں اگر دیکھا جائے تو اس کے بڑے اسباب خود حکومت ہی کے پیدا کردہ ہیں ایسے میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان اسباب وعلل کو معطل کردے اور ہوسکے تو ان اقدامات کو واپس کیا جائے جومہنگائی میں شدید اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔مارکیٹوں میں قیمتوں کے جائزے ،عوام کو قیمتوں سے آگاہ رکھنے اور خاص طور پر ہول سیل مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی نیلامی کی نگرانی اچھی تجاویز ہیں حکومت کو ساتھ ہی اس قسم کے اقدامات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ درمیانی رابطوں کے ذریعے مصنوعی مہنگائی کرنے اور تھوڑی ہی دیر میں مارکیٹ سے پھل اور سبزیاں خرید کر تھوک فروش کو مہنگابیچنے کے اقدامات کا خاتمہ کیا جا سکے ماہرین ایسے اقدامات تجویز کریں اور منڈی میں تعینات سرکاری عملہ اس امر کو یقینی بنائے کہ اس مرحلے پر صارف اور زمینداروں دونوں کو ان کے حق سے محروم نہ کیا جا سکے اور مناسب قیمت پراشیاء کی فروخت اورخرید ممکن ہو۔وزیراعظم کو اس امر کا بھی نوٹس لینا چاہیئے کہ خود حکومت کے زیر انتظام یوٹیلٹی سٹوروں پر حال ہی میں تین سو اشیاء مہنگی کر دی گئی ہیں ایسے میں مارکیٹ سے کیسے توقع کی جائے کہ وہاں اشیاء مہنگی نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں