Daily Mashriq

کشمیری عوام سے یکجہتی کا فریضہ

کشمیری عوام سے یکجہتی کا فریضہ

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر آج بارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک ٹریفک روک کر اور ملک گیر احتجاج میں ہر پاکستانی شہری کو شریک ہو کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیئے اس ا حتجاج کا مقصد دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی طرف بطور خاص توجہ دلانا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے غیر قانونی خاتمے کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا ہے مہذب اور پرامن طور پر احتجاج سے دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کو مزید مئوثر بنانے کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں پاکستانی اپنے مسلمان دوستوں اور کشمیری باشندوں کے ساتھ مل کراحتجاج کریںجمعہ کو اوقات کار کے باعث چونکہ احتجاج کیلئے اکھٹے ہونا مشکل ہے تو اتوار کے روز اکٹھا ہو کر اس قومی فریضے کی ادائیگی بآسانی ممکن ہے حکومت کو اپنے بیرون ملک مقیم حامیوں اور تحریک انصا ف کے عہدیداروں وکارکنوں سے خاص طور پر اپیل کرنی چاہیئے دنیا بھر کے ہمارے سفارتخانوں کو اس مئوثرحربے کواستعمال کرنے اور پاکستانیوں وکشمیری بھائیوں کو اس طرف متوجہ کرنے اور ترغیب کی ذمہ داری خاص طور پر نبھانے کی کوشش کرنی چاہیئے بھارتی جبرو استبداد کے خلاف پرامن جدوجہد کے ساتھ ساتھ دیگر ممکنہ حکمت عملی اختیار کرنے سے ہی اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ممکن ہوگا۔کشمیر ی عوام سے اظہار یکجہتی ہمارا قومی فریضہ ضرور ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آدھا گھنٹہ ٹریفک روکنا اور گھروں اور دفتروں سے باہر نکل کر کھلے آسمان تلے کھڑے ہونا کافی ہوگایقینا نہیں کشمیرکے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے یہ کافی نہیں ہوگا اور اگر دیکھا جائے تو جمعہ کے روز 12سے ساڑھے بارہ کا وقت بھی مناسب نہیں اگر ہر مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آدھے گھنٹے کے مظاہرہ کیا جائے تویہ زیادہ موزوں ہوگا۔

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

بلین ٹری سونامی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں پی سی ون اور صوبائی کابینہ سے منظوری لئے بغیر مبینہ طور پر دو ارب روپے سے زائد خرچ کرنا ناقابل یقین لگتا ہے چونکہ اس وقت کے سیکرٹری جنگلات نے اس خطیر رقم کی منظوری صوبائی کابینہ سے لینے کی کوشش کی اس لئے اس پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں مستزاد وزیراعلیٰ اور سنیئر صوبائی وزیر کی بھی اس غیر قانونی اقدام پر برہمی شامل ہے اس لئے اس پر مزید مہر تصدیق ثابت ہوتی ہے۔اس کی تحقیقات ہوں گی ذمہ دارعناصر کا تعین کر کے کسے سزا ملے گی اور اس رقم کی اگر کابینہ منظوری نہ دے تو کیا ہوگا یہ سارے سوالات قانونی اور تکنیکی قسم کے ہیں اس کے جوابات بھی وقت پر سامنے آئیں گے اس معاملے کا عوامی دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ اتنی بھاری سرکاری رقم کا یوں استعمال بھی ممکن ہے ۔خدا جانے ہمارے سرکاری خزانے سے اور کیا کھلواڑ ہوتے ہوں گے اگر ایک سیکر ٹری اتنے بڑے پیمانے پر رقم حاصل کر کے اسے خرچ کر سکتا ہے تو سینئر بیوروکریسی اور حکمرانوں کے اختیارات واخراجات کا کیا عالم ہوگا اس واقع کے سامنے آنے سے کم از کم اس بات کی بخوبی سمجھ آجانی چاہیئے کہ ہمارے ملک پر قرضوں کا بھاری بوجھ کیسے پڑا اور رقم کون کھا گئے چونکہ یہ رقم تحریک انصاف ہی کے دور حکومت میں خرچ ہوئی تھی اور ایک ایسے منصوبے پر رقم لگائی گئی جس میں وزیراعظم خود دلچسپی رکھتے ہیں اس لئے اس کی جامع تحقیقات اور اس کے نتائج کو عوام اور میڈیا کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے۔اس واقعے کو بنیاد بنا کر وزیراعلیٰ اور وزیرخزانہ کو سرکاری رقم کو مال سرکار دل بے رحم کی طرح استعمال کرنے والوں کے ہاتھ روکنے کیلئے قانون سازی اور اقدامات وضع کرنے اور بیوروکریسی کے اختیارات پر قد غن لگانے کی ضرورت ہے اور بغیر منظوری کے رقم خرچ کرنے کی ایک حد مقرر کرنی چاہیئے تاکہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

ٹیسٹ لینے والی ایجنسی بلیک لسٹ کی جائے

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں اساتذہ کی بھرتیوں کیلئیہونے والے ٹیسٹ میں مبینہ طور پر بے قاعدگیوں کے شکایات سامنے آنے پر صوبائی حکومت نے ڈائریکٹر ایجوکیشن خیبرپختونخواکو ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے خلاف انکوائری کرنے کی ہدایت اور ٹیسٹوں کی منسوخی کا فی نہیں بلکہ بار بار کی شکایات پر ٹیسٹ لینے والی ایجنسیوں کو بلیک لسٹ کرنے اور اس طریقہ کار کو شفاف بنانے یا پھر سرے سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔پریشان کن امر یہ ہے کہ جو بھی نظام متعارف کرایا جاتا ہے اس میں شفافیت نہیں رہتی بد عنوان عناصر اس کا توڑ نکال لیتے ہیں مختلف اضلاع سے بھی ٹیسٹ کے پرچے آئوٹ ہونے کی سر سری سی شکایات ملی ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہیئے کسی ایک یا دو سنٹرز سے اگرپرچہ آئوٹ ہو جائے تو پورے صوبے میں اس کے پھیل جانے اور امیدواروں سے نا انصافی فطری امر ہے بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق امیدواروں نے پانچ چھ لاکھ روپے میں پرچے خریدے بہرحال غیر مصدقہ اطلاعات کی تصدیق کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی بات کرنا مناسب ہوگا البتہ افواہیں اور الزامات ہر بار بلاوجہ اور بے سبب نہیں ہوتیں ٹیسٹ کی منسوخی از خود اس امر کا ثبوت ہے کہ الزامات میں صداقت تھی۔بیروزگاری کا یہ عالم ہے کہ ایک آسامی کیلئے ہزاروں امیدواروں کی درخواستیں آتی ہیں ہر امید وار سے بیروزگاری کے باوجودخاصی رقم بطور فیس وصول کی جاتی ہے لیکن بجائے اس کے کہ شفافیت سے ٹیسٹ ہوں اسے ایک اور بد عنوانی وبد دیانتی کا ذریعہ بنادیا گیا جس کے بعدمیرٹ پر بھرتیاں نہ کئے جانے کے الزامات پر صداقت کایقین آنے لگا ہے بعض ایسے واقعات بھی ہو تے ہیں کہ میرٹ پر اول آنے کے باوجود امیدوار کو اس کا حق نہ دیا گیا اور مجبوراًعدالت سے رجوع کیاگیا یہ ساری صورتحال صوبائی حکومت کیلئے باعث بد نامی اور چہ میگوئیوں کا باعث ہے جسے کسی قیمت برداشت نہ کیا جائے مشیر تعلیم نے ٹیسٹ کی منسوخی اور معاملے کی تحقیقات کا احسن فیصلہ کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پس پردہ مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور ذمہ دارعناصر کو گرفتار کر کے سزادی جائے اور اس ایجنسی پر پابندی لگادی جائے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ بار بار کی شکایات کے ازالے کیلئے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا اور اس کا تدارک یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری کی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں