Daily Mashriq

بابو جی۔۔۔۔ بھاگو

بابو جی۔۔۔۔ بھاگو

آئے روز نئی وڈیوز آرہی ہیں کوئی سر سے پائوں تک چومنے کا کہہ رہا ہے تو کوئی پچاس کروڑکی رشوت لینے دینے کا دعویٰ کررہا ہے ۔کچھ تو کہتے ہیں کہ آڈیو اور وڈیو الگ الگ ہیں اور کسی کا دعویٰ ہے کہ وڈیوایڈیٹڈ ہے۔ ان سب وڈیو کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے بات عدالت بلکہ ملک عزیز کی سب سے بڑی عدالت میں ہے عدالت کیا کرے گی یا کیا کہے گی اس کے لئے ابھی وقت بھی بہت پڑا ہے ۔یہی وقت ہونا کسی کے لئے باعث رحمت ہے اور کسی کے لئے زحمت ۔رحمت والے تو کوشش کررہے ہیں کہ کاش یہ رحمت بڑھتی ہی چلا جائے اور ان پر کوئی آنچ نہ آنے پائے لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو چاہتے ہیں آج کے آج ہی محفل سجے اور ہاتھ کے ہاتھ فیصلہ بھی ہوجائے تاکہ اس مسلسل ٹینشن سے کسی طور چھٹکارا ملے۔ اس جج کو جانا ہے یا چوروں کو چھوٹنا ہے ہوہی جائے فیصلہ تاکہ پھر سے سکون سے لوٹ مارکی جائے۔ وڈیوکیس کتنا بڑا ہے عدالت کے اندراس کی شنوائی شروع ہوچکی ہے اب آگے کیا اور کیسے ہوگااس میں وقت لگنے کا خدشہ ہے لیکن وڈیوکے منظر عام پر آنے کے فوراًبعدعدالت کے باہر اس کیس کی ہلچل شروع ہوچکی ہے ٹیوٹر پر دونوں دھڑوں کی خوب گھمسان کی جنگ لگی ہے جج اپنا کیس خود نہیں لڑرہے انہوں نے پی ٹی آئی کے سرفروشوں کو وکیل کرلیا ہے کیونکہ وہ ن لیگ کی ہر ٹیوٹ کا بھرپور جواب دے رہے ہیں۔نوے کی دہائی میں جمہوریت اور آمریت کی مسلسل جنگ لگی رہی بے نظیر بھٹواور نواز شریف کو ہر تین سال بعد چور ڈاکو کا خطاب دے کر گھربھیجوادیا جاتا رہا اور یہ ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دودفعہ ہوچکا ہے ۔ ایک بار تو نواز شریف حکومت کے اس وقت کے سپیکرایوب خان کے بیٹے اور آج کے وزیر پانی وبجلی کے والد جناب گوہر ایوب نے حکومت کی برطرفی کے صدر غلام اسحاق خان کے صدارتی فرمان کو عدالت میں چیلنج کیا بلکہ فیصلہ ان کے حق میں آیا لیکن یہاں فیصلے کسی اور کو کرنے کی عادت تھی پھر وہی ہوا اس وقت کے آقا کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا اور یوںعوام کے ووٹوں سے منتخب شدہ وزیر اعظم اور صدر پاکستان نوازشریف اور غلام اسحاق خان دونوں کو گھربھیج کر نئے الیکشن کروائے گئے ۔ ماضی کی طرح آج پھر پارلیمنٹ یا وزیر اعظم اور فوج یا آرمی چیف کے درمیان کھینچا تانی کروانے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ تب اعلیٰ عدالت نے ’’نظریہ ضرورت‘‘ کی حمایت کی اور اب کی بارعدالت ڈرامے کاحصہ تو ہے لیکن ان کا ’’نظریہ ‘‘ اور ضرورت بدل گئے ہیں ۔امید ہے کہ اب کی بار وہ نہ ہوجو ماضی میں ہونا ہے لیکن سیاسی پنڈت یا وقت پرست لوگ پر تول رہے ہیں جی ہاں ویسٹ کوٹ اور شیروانی کا آرڈر دے کر انتظار کررہے ہیں کب انہیں بلاوا آجائے اور وہ شیروانی پہن کر کوئی نیا سیٹ اَپ بناسکیں۔اب جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وڈیو سچی بھی ہوسکتی ہیں اور جھوٹی بھی جج کا بیان حلفی کچھ سچ اور کچھ جھوٹ کہہ رہا ہے دراصل عزت مآب جج ارشد ملک نے اس بات کی تصدیق و تردید کی وہ ملے تو تھے ن لیگ والوں سے مگر وہ گئے خود نہیں تھے اور انہیں رشوت کی آفر بھی ہوئی مگر رشوت نہ دی گئی اور نہ ہی لی گئی۔ ایک زمانہ میں مسلم لیگ ن نے عدالت پر حملہ کیا اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی اس حملہ میں ن لیگ کے بڑے لیڈر بھی سپریم کورٹ کی عدالت میں پائے گئے ان کی تصاویر سب نے دیکھیں ان میں سرکاری ٹی وی کے ایک مشہورومعروف اینکرپرسن طارق عزیز بھی تھے لیکن انہوں نے کہا کہ گئے ضرور تھے مگر وہ عمارت کی توڑپھوڑکی بجائے اسے جوڑنے گئے تھے ٹی وی پر انہیں ایک معزز جج کے نام کی تختی پکڑے دکھایا گیا تو موصوف نے کہا کہ یہ تختی کسی نے اکھاڑ کر پھینک دی تھی وہ تو اس کے تقدس کی خاطر طارق عزیز نے زمین سے اٹھاکر اپنے ہاتھ میں پکڑ لی کہ جب عدالت کا عملہ ملے گا تو انہیں بحفاظت دے دیں گے۔ کچھ یہی بات جج ارشد ملک بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ تو جاتی عمرارشوت لینے نہیں گئے تھے بلکہ دیکھنے گئے تھے کہ کتنی رشوت دی جارہی ہے۔ لیکن ان کی شرافت دیکھیں انہوں نے یہ بات کسی کو کانوںکان خبر نہ ہونے دی کہ کہیں شریفوں کی عزت خاک میں نہ مل جائے صرف اتنی سی رشوت دے رہے ہیں یہ ہے ان کی اوقات۔اگرا نہیں اپنی اوقات کے مطابق رشوت دینا نہیں آتا تو کم ازکم جج کی حیثیت تودیکھ کر قیمت لگانی چاہئے آج کے مہنگائی کے دور میں پچاس کروڑ سے بنتا ہی کیا ہے اور اوپر سے اگر نیب پکڑ لے تو پلی بارگین کرکے جج صاحب کو بچے گا ہی کیا۔ عزت تو جائے گی سوجائے گی جو رقم لی تھی وہ بھی آدھی بچے گی۔ شاید اسی لئے کسی اندر کے بندے نے جج صاحب کو کہا ہے کہ ’’بابو جی کار دے وران کڑے دے ۔۔۔۔ اُس تختہــ‘‘(اردو میں اس کا ترجمعہ کچھ یوں ہے) بھائی صاحب غلطی ہوگئی ہے اب عافیت اسی میں ہے کہ بھاگ نکلو۔کسی سیانے سے پوچھنا پڑے گا کہ بھاگنے یا نا بھاگنے کا آپشن جج کے پاس ہے یا نہیں ، اگر ہے تو کون یہ راستہ بتائے گا اور اگر نہیں تو ڈھٹائی سے ڈٹ جانے میں کیا قباحت ہے نیب کے چئیرمین کی وڈیوآنے پر آج تک کوئی کارروائی ہونے کی اطلاع کم ازکم ہمیں تو نہیں ہے کس عدالت نے سو موٹو لیا ہے کس عدالت میں کیس چلے گا کچھ پتہ نہیں ہے تو پھر یہ چھوٹے موٹے جج کی یہ سادہ سی وڈیوبھی چند دن موضوع گفتگو رہے گی اور پھر لوگ بھول بھال جائیں گے۔