Daily Mashriq

صرف فارماسوٹیکل کمپنیاں ہی ذمہ دا رنہیں

صرف فارماسوٹیکل کمپنیاں ہی ذمہ دا رنہیں

بھر میں ادویات کی بڑھتی قیمتوں نے حکومتوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ امریکہ میں تو اس مسئلے کے حوالے سے ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں ایک ہی صفحے پر اکھٹے ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں بھی ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر ڈریپ اور فارماسوٹیکل صنعت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس سے وابستہ ہر قسم کے افراد اپنی اپنی سمجھ بوجھ اور مفاد کے تحت وجوہات پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں ، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈریپ کی جانب سے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا گیا جس میں انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بارے وزیر اعظم کو حقائق اور وجوہات سے آگاہ کیا تھا۔ خط میں بتایا گیا کہ ادویات کی وہ قیمتیں جودوا ساز کمپنیوں کی جانب سے حکومت کو بتائی جاتی ہیں اور ان اصل صارفی قیمتوں میں بے پناہ فرق پایا جاتا ہے ۔ ڈریپ کی جانب سے اس فر ق کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پرخاصا زور دیا گیا تھا۔ ان قیمتوں میں فرق کی وجوہات کو مکمل طور پر جاننے سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں ادویات کی پیداوار اور ترسیل کس نظم کے تحت کی جاتی ہے۔ 

سرکاری طور پر ادویات کی سب سے زیادہ ترسیل بڑے سرکاری اسپتالوں میں کی جاتی ہے۔ ان اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر صاحبان، پروفیسرز اور دیگر عملہ ادویہ ساز کمپنیوں کے ذریعے ان کی ادویات کو پروموٹ کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس عمل میں سینئر ترین سطح سے لے کر جونیئر ترین عملے کے لوگ شامل رہتے ہیں۔نتیجتاً ایک کمپنی جس کی ادویات اسپتال کے لیے منظور کر لی جائیں ، دیگر کمپنیوں سے کئی گنا زیادہ منافع اور کاروبار سمیٹنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

سرکاری سطح پر ادوایات کی فراہمی کے لیے منظور ہونے والی کمپنی مارکیٹ میں اپنے تمام کاروباری حریفوں کے مقابلے میں ایک بہتر جگہ کھڑی ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف مارکیٹ میں ان کی ساکھ بہتر ہوتی ہے بلکہ مجموعی طور پر کسی اضافی سرمایہ کاری کے بغیر ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔یہ سرکاری منظوری حاصل کرنے کے لیے کمپنیاں عام طور پر اپنی قیمتیں بے حد کم ظاہر کرتی ہیں، اکثر اوقات تو یہ قیمتیں لاگت سے بھی کم ہوتی ہیں تا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنی حریف کمپنیوں کے مقابلے میں سرکاری طور پر ادویات کی فراہمی کے لیے منظور ی حاصل کر لیں۔ پبلک پروکیورمنٹ کے لیے اپنی قیمتیں نہایت کم ظاہر کرنا اس کی بنیاد پر صارفی قیمت میں فرق کا جواز فراہم کرکے یہ ظاہر کرنا کہ کس طرح یہ کمپنیاں ہوش ربا شرح منافع سمیٹ رہی ہیں، ایک نا قابل قبول قیاس ہے۔ ادویا ت کی قیمتوں اور معیار کے متعلق بحث ’’عوامی مفاد عامہ‘‘ کا موضوع ہے۔ اور اس پر تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے کھل کر، خلوص نیت کے ساتھ بات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس صنعت کے حوالے سے تکنیکی پہلوؤں پر گفتگو کرنے اور پالیسی سازی میں مدد دینے کے لیے متعلقہ ماہرین کو سامنے آنا ہوگا۔ اس صنعت کو اکثر ہی تنقید کا سامنا رہتا ہے جبکہ ہمیں اس حوالے سے کچھ پہلوؤں کو سمجھنے کی ازحدضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں یہ سمجھناہو گا کہ بڑھتی آبادی کے لیے معیار کی حامل سستی ادویات بنانے کے لیے اس صنعت کے مجموعی حجم میں اضافہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی مد میں حکومتی ٹیکسوں کی وصولی بھی فارما کمپنیوں کی کارکردگی متاثر کرتی ہیں۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت یا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، امریکہ کے وضع کردہ معیارا ت کے مطابق ایک لیباٹری بھی موجود نہیں۔ ماہرین کی مؤثر شمولیت اور رہنمائی کے بغیر ایسے تکنیکی نوعیت کے شعبوں میں بگاڑ پیدا ہونے لگتے ہیںجس کے نتیجے میں سرکاری پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورکس میں بگڑتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت اور میڈیا مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرے کہ ہر چند اس صنعت کو ہی تنقید کا نشانہ بنائے رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں اقتصادی سال جولائی سے اگست کے دوران اس صنعت کی کل پیداو ار میں آٹھ اعشاریہ چار فیصد کمی آئی ہے جو کہ پچھلے دس سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

کسی دور میں اس صنعت کو ’’سن شائن انڈسٹری‘‘ کہا جاتا تھا کہ اس میں کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی جس سے ملازمت کے بے شمار مواقع پیدا ہوتے تھے۔ مگر اب یہ صنعت زوال کا شکار ہے اور صرف چند ایک ملٹی نیشنل کمپنیاں ہی یہاں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کو اس صنعت کا گلا گھونٹ کر اسے مزید تنگ کرنے کی بجائے اسے مستحکم کرنے کے لیے پالیسیاں اپنانا ہوں گی کیونکہ ماضی میں حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتیں قابو میں لانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ صارفین کو ادویات کے مارکیٹ سے غائب ہوجانے کی صورت میں ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ اس حوالے سے دانشمندانہ اقدام اور پالیساں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

(بشکریہ: ڈان۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں