Daily Mashriq

'مایوس ہوں کہ ساڑھے 4 سال تک فیشن انڈسٹری سے وفادار رہی'

'مایوس ہوں کہ ساڑھے 4 سال تک فیشن انڈسٹری سے وفادار رہی'

یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں ماڈلز کو بڑی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

طویل دورانیے کا کام، بغیر کسی کنٹریکٹ کے، دیر سے معاوضہ ملنا اور بڑے برینڈز کی جانب سے لاپرواہی کا مظاہرہ، یہ سب وہ مسائل ہیں جن کا سامنا فیشن انڈسٹری کے ماڈلز آئے روز کرتے ہیں۔

یسے ہی مسائل کا سامنا نامور ماڈل و اداکارہ صحیفہ جبار خٹک کو کرنا پڑا جنہوں نے یہ واقع اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔

اپنی پوسٹ میں صحیفہ نے لکھا کہ 'مایوس ہوں کہ ساڑھے 4 سال تک اس انڈسٹری سے وفادار رہی'۔

ماڈل نے اپنی پوسٹ میں برینڈ کا نام لیے بغیر بتایا کہ وہ ایک بڑے برینڈ کے لیے 2 ستمبر کو ایک شوٹ کرنے جارہی تھی، اس دوران انہیں ایک اور نامور برینڈ نے پروجیکٹ کے لیے سائن کرنے کی آفر دی تاہم پہلے برینڈ کو حامی دینے کے باعث انہوں نے دوسرے کو انکار کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعدازاں جس برینڈ کے ساتھ انہوں نے پروجیکٹ سائن کیا تھا، ایک ہفتے بعد ہی ان کی کال آئی، اس دوران انہوں نے بتایا کہ وہ شوٹ جس کا صحیفہ حصہ بننے جارہی تھی وہ منسوخ ہوچکا ہے۔

اس پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے صحیفہ نے مزید لکھا کہ 'ہماری انڈسٹری میں ہمیں آئے دن اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن جب ایک بڑا اور نامور برینڈ ہی پروفیشنل ہونے کا ثبوت نہ دے تو یقیناً ابھی بہتری کی جانب جانے کے لیے ماڈلز اور اداکاروں کا سفر بہت طویل ہے'۔

ماڈل نے مزید کہا کہ 'میں کسی برینڈ کا نام نہیں لوں گی لیکن انہیں اتنا ضرور یاد دلانا چاہتی ہوں کہ یہ کام ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور وہ یہی سوچ کر کچھ احساس کریں'۔

یاد رہے کہ پاکستان میں فیشن انڈسٹری تیزی سے مزید کامیابی کی جانب گامزن ہورہی ہے، اس کے باوجود اس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی ماڈلز کو متعدد پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے۔

ماضی میں انعم ملک، فروا کاظمی اور زارا پیرزادہ نامی ماڈلز بھی فیشن انڈسٹری میں ماڈلز کے ساتھ کیے جانے والے برے سلوک کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں