Daily Mashriq


کارکردگی رپورٹ ، اعلانات زیادہ عملدرآمد بہت کم

کارکردگی رپورٹ ، اعلانات زیادہ عملدرآمد بہت کم

خیبر پختونخوا حکومت نے کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں کیلئے اب تک61فیصد فنڈز جاری کئے ہیں جس میں اب تک 32فیصد فنڈز خرچ کیا جا چکا ہے حکومت نے پشاور میںٹریفک اژدھام پر قابو پانے اور شہریوں کیلئے آرام دہ سفرکی سہولت فراہم کرنے کیلئے 20ارب روپے کی لاگت سے 23کلومیٹر طویل تیز ترین بس سروس کا منصوبہ دسمبر 2017تک مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے پشاور کے شہریوں کوپینے کی صاف پانی کی فراہمی کیلئے جبہ ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا صوبہ بھر میں 4 پبلک لائبرریز اور41سرکاری کالجز کی تعمیر پر کام جاری ہے جبکہ 17نئے کالجز کا قیام2015-16ء کے اے ڈی پی میں شامل ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مردان میں گرلز کیڈٹ کالج قائم کیا جا رہا ہے جبکہ بونیر میں عبدالولی خان کیمپس اور چترال کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے دیر اپر میں انجینئر نگ یونیورسٹی کا سب کیمپس اور لکی مروت میں بنوں یونیورسٹی کا سب کمیپس قائم کئے جارہے ہیںپشاور یونیورسٹی میں 20کروڑ روپے کی لاگت سے کریمینالوجی اینڈ فرانزک سائنس انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی منظوری دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بنک آف خیبر کے ذریعے نوجونواں کیلئے یوتھ چیلنج فنڈ سکیم کے تحت 2 لاکھ تا 20لاکھ روپے کے بلاسود قرضے دئیے جائیںگے سائنس کلچر کے فروغ ،یونیورسٹیوں کی سطح پر تحقیق اور نوجوانوں کی جدت و اختراعی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے 61کروڑ روپے لاگت کے 32منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے ۔صوبائی حکومت کی کارکردگی رپورٹ کے جائزے میں جن منصوبوں کی تکمیل کا تذکرہ ہے ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ چند منصوبوں کے جاری ہونے کا تذکرہ ہے کچھ کے لیے رقم مختص کرنے کا تذکرہ ہے جبکہ بہت سے منصوبے صرف منصوبے کی حد تک ہیں جن پر عملدر آمد ابھی شروع ہی نہیں ہوا اور شاید ہی 2018ء تک ان منصوبوں پر کام کا آغاز ہو سکے گا ۔ سیاسی حکومتوں کی طرف سے منصوبوں کا اعلان تو دیوانے کے خواب کے مترادف کے طور پر لیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنا اس لئے بھی خلاف حقیقت نہیں کہ ہر سطح پر اعلانا ت اور سبز باغ تو بہت دکھائے جاتے ہیں مگر ان پر عملد در آمد کی نوبت کم ہی آتی ہے جن منصوبوں کا افتتاح بھی ہوتا ہے ان منصوبوں پر افتتاحی تختی لگی رہتی ہے اور بعد میں آنے والی حکومتیں انہی منصوبوں کا پھر اپنے دور میں افتتاح کرتے ہیں اس کے باوجود بھی ان پر کام شروع نہیں ہو پاتا کسی منصوبے کا اعلان اور اس کے لئے رقم مختص کرنے کا مرحلہ اور پھر اس کا افتتاح بھی یقینی مرحلہ نہیں قرار پاتا اس بنا ء پر سرکاری منصوبوں پر بد اعتما دی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں کیو نکہ مروجہ طریقہ کار یہی ہے البتہ ان مدارج کو طے کرنے کے بعد منصوبوں پر کام شروع نہ کرنے اور ان کو ادھو را چھوڑنے کا جو تجربہ ہر ادوار میں رہا ہے یہ بد اعتمادی کے اظہار کے لئے کافی وجہ ضرورہے ۔ مشتے نمونہ ازخر وارے کے مصداق پورے صوبے کی بجائے اگرہم پر صوبائی دارالحکومت پشاور کے منصوبوں کا ایک اجمالی جائزہ لیں تو صوبائی حکومت کی کار کردگی زیادہ تسلی بخش نظر نہیں آتی ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں باب پشاور فلائی اوور ہی وہ میگا پراجیکٹ ہے جو اس دور حکومت میں شروع اور مکمل ہوا ۔ اس کے ڈیزائین خاص طور پر کارخانو سے آنے والی ٹریفک کے حیات آباد میں داخلے کے لئے طویل پل کا جو حصہ ہے اسے غیر ضروری اور بلا ضرورت قرار دینے کی گنجائش ہے جبکہ اس پل کو ایک ریکارڈ مدت میں مکمل ضرور کیا گیا مگر اس کا ٹھیکہ بھی کافی سے زیادہ بلند ریٹ پر دیا گیا ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں اعلان کردہ منصوبوں اور اقدامات کی عملی صورت کچھ یوں ہے کہ حکومت نے پشاور کی سڑکوں بالخصوص حاجی کیمپ سے کارخانو مارکیٹ تک سڑک کشادہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح چارسدہ اور کوہاٹ بس اڈوں سے بھی ٹریفک رواں دواں رکھنے کے لئے اقدامات کا فیصلہ ہواتھا۔ مگر آج بھی صبح نو بجے سے بارہ ایک بجے تک ان سڑکوں پر سفر کرنا مشکل ہے۔ شہر کے لئے ٹرانسپورٹ انجینئرنگ یونٹ کے قیام کا بھی فیصلہ ہواتھا۔ جس کی کارکردگی اور عملی صورت کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ حاجی کیمپ جدید سہولیات سے آراستہ بس ٹرمینل بھی ایک دلفریب اعلان کی حد تک ہی ہے ۔ شہر کے اندر آمد ورفت سہل بنانے کے لئے مونو ٹرین اور تیز رفتار بس سروس کی بھی نوید سنائی گئی تھی۔ پشاور کی سڑکوں پر جی ٹی روڈ سے حیات آباد تک خصوصی بس سروس بھی ابھی نہیں چلی بلکہ اس کے دور دور تک آثا ر تک دکھائی نہیں دیتے حالانکہ اس منصوبے کے لئے 7ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہواتھا کہ یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا جائے گا۔ شہر کو ''کلین اینڈ گرین''بنانے کا عمل بھی شروع ہواتھا۔ اور اب سال بھر گزرنے کے بعد''گلونہ پیخور''کے نام سے ایک اور منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔ کیا سرسبز اور صاف شہر کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے؟شہر کی بوسیدہ پائپ لائن کی تبدیلی کا بھی وعدہ ہواتھا۔ایسے درجنوں وعدے اور اعلانات گنے جا سکتے ہیں۔ان معاملات سے قطع نظر صوبے میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے بڑے معاہدوں کا عندیہ اور حکومت کی جانب سے منصوبوں کا اعلان بشرط عملد ر آمد احسن امور ہیں ۔ صوبائی حکومت کو چاہیئے کہ وہ جن منصوبوں پر عملد ر آمد نہیں کراسکی ہے 2017ء میں ان منصوبوں کو مکمل نہیں کر سکتی تو کم از کم ان پر واضح پیش رفت ضرور کرے جن منصوبوں کی تکمیل ہوتی ہے وہ عوام کے علم میں ہیں جن منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے وہ بھی پوشیدہ نہیں جن منصوبوں پر عملی کام کا آغاز ہوگا وہ بھی خوش آئند ہوں گے مگر جن بڑے منصوبوں کا حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا اگر یہ منصوبے 2017ء میں بھی اعلانات کی حد تک رہے تو حکمرانوں خود کو عوام کے احتساب سے بچانا مشکل ہوگا بہتر ہوگا کہ اعلانات اور دعوئوں کو چھوڑ کر عملی کاموں پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور جتنا ممکن ہو سکے عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی بھر پور مساعی کی جائیں ۔

متعلقہ خبریں