Daily Mashriq


انٹر نیٹ صارفین پر اضافی ٹیکس بلا تاخیر ختم کیا جائے

انٹر نیٹ صارفین پر اضافی ٹیکس بلا تاخیر ختم کیا جائے

خیبر پختونخوا حکومت کو انٹر نیٹ سروس پر سیلز ٹیکس ختم کرنے پر غور اور اس کے لئے سفارشات طلب کرنے کی ضرورت نہیں انٹر نیٹ پر سیلز ٹیکس کسی دوسرے صوبے میں عائد نہیں اور یہ ٹیکس موجودہ حکومت ہی کی جانب سے عائد کیا گیا جس سے صوبے کے انٹر نیٹ صارفین کو تقریباً پانچ سو روپے فی ماہ دینے پڑتے ہیں۔ ایک ایسی صوبائی حکومت جس کی حکمران جماعت کے منشور میں تعلیم کافروغ اور نوجوانوں کو سہو لیات کی فراہمی ترجیحات کا اہم حصہ ہے اس کی جانب سے انٹر نیٹ سروس پر ٹیکس عائد کرنا ہی اچنبھے کی بات تھی صوبائی حکومت انٹر نیٹ صارفین پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کے وقت صارفین کی آراء معلوم کرنے کی زحمت تو گوارا نہیں کی مگر اس کے خاتمے کے لئے سفارشات کی تیاری کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے جو بلا جواز ہی نہیں مضحکہ خیز بھی ہے ۔یقینا صوبائی حکومت کو مالی مشکلات درپیش ہیں اور صوبائی حکومت بھاری مالیاتی قرضوں کے حصول کے لئے کوشاں ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومتی اخراجات پورا کرنے کے لئے عوام پر چھری چلادی جائے ۔اس وقت بھی حکومت صوبے سے ہوائی سفر کرنے والوں پر مزید بھاری ٹیکس عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس کے علاوہ ہوگا۔ معلوم نہیں اور کن کن شعبوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تیاریاں ہوں گی ۔ بہتر ہوگا کہ صوبائی حکومت اپنے اخراجات میں کمی لائے اور عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے دیگر ذرائع سے آمد ن حاصل کی جائے ۔جتنا جلد ممکن ہوا نٹر نیٹ سروس پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے اور صارفین کو اضافی رقم کی ادائیگی سے نجات دلائی جائے ۔ہونا تو یہ چاہیئے کہ اب تک وصول ہونے والی رقم بھی صارفین کو واپس کی جائے مگر شاید حکومت اس کی متحمل نہ ہو ۔

خلاف میرٹ اہم تقر ریاں

ڈپٹی کمشنر چترال ، کوہاٹ ، بٹگرام ، شانگلہ اور تور غر کے عہد وں پر گریڈ انیس کے سینئر او ر حقدار افسران کی تقرری کی بجائے گریڈ اٹھارہ کے جونیئر اور کم تجربہ کے حامل افسران کی تقرری نہ صرف صوبائی حکومت کی جانب سے میرٹ اور اہلیت کے معیار کی دھجیاں اڑانا ہے بلکہ ان علاقوں کے عوام کے ساتھ بھی صریح نا انصافی اور ان کے مسائل کے حل کی بجائے ان کے مسائل کو جوں کا تو ں پڑے رہنے دینے کے مترادف ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کے طور پر ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر سینئر اور تجربہ کار افسران کی تقرری کی ضرورت مسلمہ ہے۔ گریڈ اٹھارہ کے ایک افسر کی ضلع کے سربراہ کے طور پر تقرری سے ان کے لئے ہم پلہ گریڈوں کے افسران سے معاملت اور انتظامی گرفت مضبوط رکھنے میں مشکلات مسلمہ امورہیں جبکہ ضلع میں گریڈ انیس کے افسران کی موجود گی میں گریڈ اٹھار ہ کا جو نیئر افسر خواہ وہ کتنا بھی دبنگ کیوں نہ ہو گریڈ کے تفاوت کا ایک رکاوٹ ثابت ہونا مسلمہ امر ہوگا ۔ ان معاملات کے علاوہ بھی صوبائی حکومت کی طرف سے کم گریڈ وں کے افسران کی تقرری علت سے خالی نہیں۔ اسے ساد ہ سے سادہ الفاظ میں اقرباء پروری قرار دیا جاسکتا ہے۔ مستزاد اس میں دیگر مفادات کے احکامات اور شکوک وشبہا ت کی بھی گنجائش نکلتی ہے ۔ میرٹ کی دعویدارحکومت کو پسماندہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنروں کے عہدوں پر اس قسم کے تجربات سے گریز کرنا چاہیے اور اس طرح کی صورتحال بیوروکریسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں جو پہلے ہی دو گروپوں میں منقسم ہے بیو رو کریسی کے حکومت سے تعلقات بھی اپنی جگہ مسئلہ ہے ان سارے معاملات کا واحد حل اہل افراد کی سینئر اور پر کشش عہدوں پر تقرری ہے اور یہی میرٹ اور انصاف کا تقاضا بھی ہے ۔توقع کی جانی چاہیے کہ حکومت ان امور پر سنجیدگی سے توجہ دے گی جو مسائل اور غلط فہمیوں کا باعث بنتے ہیں اور ان سے احتراز کی بھی سعی کی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں