Daily Mashriq


پیپلز پارٹی کا ''دما دم مست قلندر''

پیپلز پارٹی کا ''دما دم مست قلندر''

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کئی بار کہا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت نے ان کے چار مطالبات تسلیم نہ کیے تو 27دسمبر سے دما دم مست قلندر ہو گا۔ 27دسمبر آئی اور گزر گئی لیکن دما دم مست قلندر نظر نہیں آیا۔ البتہ 27دسمبر کو مرحومہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر اعلان کیا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد آصف زرداری قومی اسمبلی کی بقیہ مدت کے لیے ضمنی انتخاب میں حصہ لے کر ایوان میں جائیں گے۔آصف زرداری پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بھی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ بھی ہیں۔ قواعد کی رو سے یہ دونوں جماعتیں الگ الگ ہیں۔ قومی اسمبلی میں جو پیپلز پارٹی ہے وہ دراصل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سید خورشید شاہ کی جگہ قائد حزب اختلاف بنایا جائے گا اور یوں پاکستان کی سیاست میں ان کی تربیت ہو جائے گی۔ لیکن مجوزہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے انہیں پارٹی کے شریک چیئرمین سے ٹکٹ حاصل کرنا ہوگا۔ سید خورشید شاہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ بلاول بھٹو قائد حزب اختلاف ہوں گے اور وہ خود ان کے مشیر ہوں گے۔ میڈیا میں شائع اور نشر ہونے والی تصویریں جن میں ایک نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تقریر کر رہے ہیں یا درمیان میں کھڑے ہیں اور پارٹی کے بڑے بڑے نامور اور بزرگ سیاستدان ان کے پیچھے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، عام لوگوں کے مختلف تبصروں کا موضوع بنتی رہی ہیں۔ سید خورشید شاہ کے بیان نے بلاول بھٹو زرداری کا قد بڑھانے میں وہ کردار ادا نہیں کیا جو خود ان کے قد کاٹھ میں کمی کے لیے کیا۔ لیکن منگل کے روز پارٹی کے بلاول ہاؤس کے ایک ترجمان نے وضاحت کر دی کہ بلاول بھٹو زرداری کو سید خورشید شاہ کی جگہ قائد حزب اختلاف نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم ٹی وی پر سید خورشید شاہ کے بیان نے پارٹی کے بزرگوں کے بارے میں پارٹی کے اندر جو رویہ پایا جاتا ہے اسے آشکارہ کر دیا ہے۔ اب وہ اگر قائد حزب اختلاف رہیں گے بھی تو اپنی سیاسی بصیرت کی بجائے پارٹی کی مہربانی کی بنیاد پر رہیں گے۔ بلاول ہاؤس کے ترجمان نے یہ وضاحت منگل کے روز پارٹی کی مرکزی مجلس عامہ کے اجلاس کے بعد جاری کی۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے قومی اسمبلی میں نشست حاصل کرنے ' سید خورشید شاہ کی جگہ بلاول بھٹو زرداری کو قائد حزب اختلاف بنانے کی خبروں پر قارئین اور ناظرین کی توجہ تو رہی ہے لیکن کیا یہی دمادم مست قلندر تھا؟ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ اکتوبر میں چار مطالبات کا اعلان کیاتھا اور کہا تھا کہ اگر یہ مطالبات حکومت نے منظور نہ کیے تو 27دسمبر سے دما دم مست قلندر ہوگا۔ ان میں سے دو کو تو حکومت آسانی سے مان سکتی تھی۔ وزیر خارجہ کے طور پر سرتاج عزیز ہی کو سینیٹ میں لا کر فائز کیا جا سکتا تھا۔ قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی جا سکتی تھی۔ باقی دو مطالبات یعنی پاناما انکشافات کے بارے میں پیپلز پارٹی کے پیش کردہ بل کی منظوری اور سی پیک پر آل پارٹیز کانفرنس کی قرارداد پر عمل درآمد کو مزید گفتگو کے لیے چھوڑا جا سکتا تھا۔ لیکن حکمران مسلم لیگ ن نے یا تو سیاست میں ایک نو عمر وارد کو بلند رتبہ دینا پسند نہ کیا یا (اور گمان غالب یہی ہے) یہ دیکھنا چاہا کہ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کو حزب اختلاف کی کس قدر طاقتور جماعت بنا سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اکتوبر سے لے کر اب تک بار بار کہتے رہے ہیں کہ 27دسمبر کے بعد اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو حکمران مسلم لیگ کو لگ پتہ جائے گا کہ حقیقی اپوزیشن کیا ہوتی ہے۔ خبریں بھی ایسی آ رہی تھیں لیکن بلاول ہاؤس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ منگل کے روز نوڈیرو میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ طے پایا کہ پارٹی کے سینئر لیڈر تحریک چلانے کی تیاریاں کریں گے جس کاآغاز وسطی پنجاب سے کیا جائے گا۔ حالانکہ اس سے پہلے کہا جارہا تھا کہ حکومت کے خلاف ''سیاسی لانگ مارچ'' ہوگا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اعلان اکتوبر میں کر دیا گیا تھا اور تیاریوں کے لیے سینئر لیڈروں کو ہدایت دسمبر کے اواخر میں دی گئی ہیں۔ تو پھر دما دم … کب ہوگا۔ جہاں تک حکمران مسلم لیگ کے رویہ کی بات ہے وزیر اعظم نواز شریف نے چشمہ تین کے ایٹمی بجلی گھر کا افتتاح کرتے ہوئے صاف پیغام دے دیا ہے کہ دھرنوں اور احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ آؤ مل کر آگے بڑھیں۔ یہ مفاہمت کی سیاست کا پیغام ہے جس کے آصف زرداری بھی داعی ہیں اور وزیر اعظم نواز شریف بھی۔ آصف زرداری کے سامنے آج یہ سوال ہونا چاہیے کہ آیا احتجاج اور سیاسی تحریک کے ذریعے پیپلز پارٹی میں نئی روح پھونکی جا سکتی ہے اور کچھ (آئندہ انتخابات میں اسمبلیوں کی نشستیں) حاصل کیا جا سکتا ہے یا مفاہمت کی سیاست کے ذریعے اسمبلیوں میں کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ مفاہمت کی سیاست کے بارے میں تحریک انصاف کے عمران خان کہتے ہیں کہ'' 2008ء سے 2013ء تک ملک میں کوئی اپوزیشن نہیں تھی۔'' یہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ تیاریاں آئندہ 2018ء کے انتخابات کے لیے ہیں ۔ لیکن عمران خان کی حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے پاناما انکشافات کے ذریعے حکومت کے خلاف فیصلہ لے لیا جائے اس کے بعد آئندہ کی سوچی جا سکتی ہے۔ اس سارے ماحول میں ایک بات نوٹ کرنے والی ہے کہ آصف زرداری عمران خان کے بارے میں کوئی ریمارکس نہیں دے رہے ہیں اور عمران خان نے بھی آصف علی زرداری کی وطن واپسی پر تبصرہ کرنے سے اجتناب ہی کیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کرکٹ میں کچھ بال کھیلے بغیر چھوڑ دینا ہی مناسب ہوتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ دونوں کا فائر بندی کا یہ انداز انہیں قریب لا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ زرداری ، مسلم لیگ ن کے خلاف کھل کر سامنے آنے اور پاناما انکشافات کے حوالے سے تحریک چلانے کو بہتر سمجھتے ہیں یا آئندہ انتخابات کیلئے تیاریوں کے ذریعے کچھ حاصل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں