Daily Mashriq


پیپلزپارٹی کا مستقل مخمصہ

پیپلزپارٹی کا مستقل مخمصہ

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں منعقد ہونے والے جلسہ عام سے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی تقریروںاور اس کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے ارادوں میں ایک تضاد جھلک رہا تھا ۔آصف زرداری کی سوچ وفکر پر مفاہمتی سیاست کے وہی پرانے سائے لہراتے رہے جن کی بدولت پارٹی اپنا اپوزیشن کا کردار فراموش کرکے موجود ہ حال کو پہنچی جبکہ بلاول اس سوچ کے تانے بانے توڑنے کی کمزور سی کوشش کرتے دکھائی دئیے ۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت کو پارلیمنٹ میں آکر سبق سکھائیں گے جبکہ بلاول بھٹو کا انداز بیاں اس سے قطعی مختلف تھا اور وہ جاتی امرا ء کی بادشاہت ختم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں ۔صورت حال اس شعر کے مصداق تھی کہ 

کس کا یقین کیجئے کس کا نہ کیجئے

لائے ہیں بزم ِناز سے یار خبر الگ الگ

البتہ ایک بات متفق علیہ تھی کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری دونوں الیکشن لڑ کر موجودہ پارلیمنٹ کا حصہ بنیں گے ۔آصف زرداری اور بلاول نے جن دومتضاد سوچوں کا اظہار کیا ہے یہ کسی حدتک پیپلزپارٹی کی زمینی حقیقت ہیں مگر اس وقت پیپلزپارٹی پر مجموعی طور پر سندھ کی سوچ حاوی اور غالب ہے اور یہ سوچ آصف زرداری کی مفاہمتی سیاست ''جیو اور جینے دو'' سے تعلق رکھتی ہے ۔یعنی اپنے دائرے ،اپنی دنیائیں اور اپنا کام ۔اس کے برعکس پنجاب میں پارٹی کا ایک غیر موثر حلقہ حقیقی اپوزیشن کی صورت میں اپنے وجود کے اظہار کا خواہش مند ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب کے کارکن اور لیڈر کے پاس کھونے کو کچھ بھی نہیں اس لئے وہ ممولے کو شہباز سے لڑا دینے پرمُصرہے جبکہ اس کے برعکس سندھ کے کارکن اور لیڈر بشمول آصف زردار ی کے پاس کھونے کے لئے وزارت اعلیٰ اس سے جڑی وسائل کی گنگا جمنا اور بحر بیکراں ہے۔اس لئے یہ پنجاب اور سندھ کی سوچوں کا نہیں بلکہ حالات کا فرق اور منطقی نتیجہ ہے ۔پنجاب پیپلزپارٹی کا کارکن مدت ہوئی اقتدار سے محروم ہے بلکہ اکثر نے تو اپنے صوبے میں اقتدار کا سورج کبھی دیکھا ہی نہیں ۔زیادہ سے زیادہ انہوں نے لاہور کے گورنر ہائوس کے وسیع و عریض صحن میں چہل قدمی کی ہوگی ۔اس کے برعکس پیپلزپارٹی سندھ کا کارکن تو مسلسل آٹھ سال سے طاقت ،اختیار اور اقتدار کے جھولے میں جھول رہا ہے ۔پنجاب کا کارکن جس حال میں ہے بلاشبہ وہ ہر خوشہ گندم جلاڈالنے کی سوچ اپنا سکتا ہے مگر سندھ کا کارکن موجودہ حالات میںخوشہ گندم کو دیا سلائی دکھانے کا تصور بھی نہیں کرسکتاکیونکہ اسی خوشۂ گندم سے اس کا کام چل رہا ہے ۔عین ممکن ہے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی سوچ میں متضاد رویوں کا عکس حقیقی کی بجائے مصنوعی یا ایک حکمت عملی ہو۔پیپلزپارٹی پر حاوی اصل سوچ وہی ہو جو آصف زرداری کی مفاہمتی پالیسی سے پھوٹتی ہے۔بلاول بھٹو محض پنجاب کے ناپید اورنایاب ہوجانے والے جیالوں کا دل خوش کرنے کے مشن پر گامزن ہوں۔اب تو حکومت نے پیپلزپارٹی کی تلخیوں کو مزید کم کرنے کا مشن مولانا فضل الرحمان کو سونپ دیا ہے اور انہوں نے آصف زرداری سے خصوصی ملاقات بھی کی ہے۔وقت نے ثابت کیا ہے کہ مفاہمتی سیاست کے حکمت کار مولانا فضل الرحمان کا مشن کبھی ناکام نہیں ہوتا ۔ اس لئے مولانا کے مشن کے نتیجے میں پیپلزپارٹی اور حکومت کی مفاہمتی سیاست کی دیوار میں اُبھرنے والی دراڑ کا عارضی ثابت ہو نا یقینی ہے ۔ یہ پالیسی چھوٹی جماعتوں کے لئے تو بارآور ثابت ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے طور پر کوئی طاقت نہیں بن سکتیںمگر پیپلزپارٹی ملک کی دوسری بڑی جماعت اور طاقت کے کھیل کی اہم کھلاڑی رہی ہے ۔پارلیمانی روایات اور آداب کے تحت اس کا ایک الگ تشخص اور الگ پارلیمانی اور سیاسی رول بنتا ہے۔پارلیمانی نظام میں اپوزیشن محض حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ حزب احتساب بھی ہوتی ہے۔پنجاب میں میاں نوازشریف کے ناقابل شکست ہونے کا تاثراپنی جگہ مگر سیاسی دھڑے بندی ،برادری ازم اور مقامی ضرورتیں خود ہی طاقت کے مقابل ایک موثر حزب اختلاف کو تلاش کرتی اور جنم دیتی ہیں۔اس کے لئے وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ۔طاقت کے کھیل میں تادیر خلا ء نہیں رہتا۔پیپلزپارٹی اپنی سب سے طاقتور ، روایتی اورتاریخی حریف مسلم لیگ ن کا ضمیمہ بن جائے تو پھر اس خلا کو عمران خان ہی پر کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو جب قومی سیاست میں قدم رنجا ہوئے تھے تو جیالوں کے چہروں پر خوشی اور اُمید کی ہلکی سی جھلک نمایاں ہوئی تھی ۔یوں لگا تھا کہ اب پیپلزپارٹی سندھ کی حکومت کی بنا پرمصلحت کی راہوںپر جاری اپنا سفر ختم کرکے حقیقی اپوزیشن کی وادیوں کی طرف لوٹ آئے گی اور پیپلزپارٹی کے سر سے مفاہمت کے نام پر منجمد سوچ کا سایہ ہٹ جائے گامگر بلاول بھٹو زرداری کی سرگرمیوں کے ساتھ ہی ان کی آزادانہ اُڑانوںکے خواہش مندوں کو اس وقت مایوسی ہوتی چلی گئی جب آصف زرداری نے وطن واپس آکر پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ یہ گرفت پہلے ہی قائم تھی مگر بلاول کی سرگرمیوں کی وجہ سے ڈھیلی پڑنے کا امکان تھا مگر اب یہ امید دم توڑ رہی ہے اور یوں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی صورت ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت بدستور مفاہمت کی وادیوں میں گم، چھوٹے چھوٹے این آر اوز کی تلاش میںسرگرداں اور پنجاب میں طاقت کے مراکز کی طرف واپسی کے امکان سے بدستور محروم رہے گی ۔

متعلقہ خبریں