Daily Mashriq


وہ کتا بوں میں درج تھا ہی نہیں

وہ کتا بوں میں درج تھا ہی نہیں

نئے عیسوی سال کی آمد آمد ہے ، چنانچہ دنیا کو نئے زاویوں سے پر کھنے کی سعی کی جارہی ہے ، جہا ں سال بدل رہا ہے وہا ں پا کستان کے جغرافیا ئی مو سم بدلنے کی بھی محکمہ موسمیا ت نے پیشن گوئی کر دی ہے کہ نئے سال کے پہلے ہفتے کے شروع ہی میں مغربی ہواؤں کا ریلہ پا کستان میںگھسنے کی سعی کر ے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف حصوں میں پانچ جنوری سے بارش کے تین چار روزتک برسنے کے امکا نا ت ہیں اللہ کر ے ایسا ہی ہو ورنہ محکمہ مو سمیات کی پیشن گوئیاں لا ل حویلی کے شیخو سے کم تر نہیں ہو ا کر تیں۔ دعا ہے کہ باران رحمت ہو تاکہ خشک سالی کا خا تمہ ہو جا ئے ۔اس جغرافیا ئی موسم کی تبدیلی کے امکا نات کے ساتھ ہی دنیا میں عالمی حالا ت کی تبدیلی کے بھی اثرات نما یا ں نظر آرہے ہیں ۔ جہا ںایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا کے لیے ایک بلائے نا گہانی سمجھا جا رہا ہے وہاں ون ورلڈ آرڈر کے تابوت میں روس نے آخری کیل بھی ٹھونک دی ہے۔ شام میںپیو ٹن نے جو کچھ کیا اب دنیا اس کو کر وسیڈ قرا ر دے رہی ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ پیو ٹن نے عالمی طا قتو ں کو یہ با ور کرا دیا ہے کہ رو س نہ تو سیکو لر ریاست ہے اورنہ ہی پر وٹسٹنٹ یا کیتھو لک نظریہ کی حامل ہے وہ آرتھوڈکس عیسائی ملک ہے۔ چنانچہ اس نے سابق امریکی صدر جا رج بش کا کر وسیڈ کا منصوبہ اپنے ہا تھ میں عملا ًلے لیا ہے ۔ آرتھو ڈکس چرچ کے ایک معتبر نما ئندے ویسولیڈ شپلین کا کہنا ہے کہ شام کا واقعہ مغرب کے لیے ایک خبر ہی ہو سکتی ہے تاہم روس کی خارجہ پالیسی میں شام سے متعلق بنیا دی کر دار کلیسا کا ہے، ریا ست اور کلیسا کو الگ کر نے کا عقید ہ مغرب کا ہو سکتا ہے ، روس کا نہیں ہے اور نہ ہی آرتھو ڈکس عقید ے کا ، بات تو سچ ہے کیونکہ 2002میں پیوٹن نے ما سکو کے سب بڑے گرجا گھر میں مذہبی رہنماؤں کی ایک بیٹھک میں شرکت کے دوران یہ یقین دلا یا تھا کہ دنیا میں جہا ں بھی مسیحی مشکل کا شکا ر ہو ئے تو آپ اپنے بھا ئی (پیو ٹن) کو مد د کے لیے حاضر پا ئیں گے۔ اس مو قع پر آرتھو ڈکس مذہبی رہنما ؤں نے ان سے کہا تھا کہ مسیحیو ں کی حفاظت کو اپنی خارجہ پا لیسی کا رہنما اصول بنالیجئے، تو پیو ٹن نے پر اعتما د لہجے میں کہا کہ ایسا ہی ہو گا اس میں شک کر نے کی گنجائش نہیں ہے ، ادھر روس کے بین المذاہب امو ر کے چیئرمین لوسف ڈسکین کا فرما نا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسیحیوں کے ساتھ معاونت کا وعدہ کا فی قدیم ہے۔ روس میں سوویت یو نین کا شیر ازہ بکھر جا نے کے بعد صرف یہ انقلا ب نہیں آیا کہ روس سے کمیو نزم کو چلتا کر دیا گیا بلکہ کمیونسٹ دور میں ضبط شدہ تما م مذہبی عما رتو ں ، علا متو ں کو کلیسا کے حوالے کر نا شروع کر دیا گیا ہے۔ پیو ٹن کی ان نو ازشوں کی بنا ء پر پیو ٹن کے آبائی قصبہ پیٹرزبرگ میں پیوٹن کا ایک ایسا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس میں پیو ٹن کے تن کی رومن مسیح بادشاہو ں کے لباس سے زبائش کی گئی ہے ،گویا پیو ٹن جمہوریہ روس کا حکمر ان نہیں ہے بلکہ وہ ایک مسیح بادشاہ ہے جس نے صلیبی جنگو ں کی قیا دت کی تھی ۔ سقوط سوویت یو نین کے بعد وہ اپنی تقاریر میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مسیح اقدار کے پا سبان ہیں چنا نچہ آرتھوڈکس کلیسا کی اب سعی یہ ہے کہ روس کو تیسرا روم تسلیم کر لیا جا ئے اور مسیح عالمی قیا دت اب روس کے ہا تھ میں ہو نی چاہیے اوریہ کو شش کوئی آج کی نہیں ہے بلکہ سلطا ن محمد دوم کے زمانے سے کا وشیں کی جا رہی ہیں۔ آرتھو ڈکس کلیسا کا مو قف ہے کہ مغرب صدیو ں سے اس کا مخالف ہے اور اس کو دبا کر رکھنا چاہتا ہے ۔ آرتھو ڈکس عقائد کے لحاظ سے اور اخلا قی طورپر مغرب سے بہتر ہیں کیونکہ وہ ہم جنس پر ستی ، اور اخلا قی بے راہ روی کے شدید مخالف ہیں اور ا س کومذہب کے خلا ف قرار دیتے ہیں۔ علا وہ ازیں وہ سیا ست کومذہب ہی کا حصہ قرار دیتے ہیں ، چنا نچہ اب جہا ںبھی روس کے فوجی مشن جا رہے ہوتے ہیں تو ان کو رخصت کر تے وقت کلیسا کے نمائندے موقع پر مو جو د ہو تے ہیں اور دعائیہ کلمات سے رخصت کر تے ہیں۔

امریکیو ں کو اب خد شہ ہے کہ نا ئن الیو ن کے بعد بش نے جس مقد س جنگ کا اعلا ن کیا تھا وہ کہیں روس منتقل نہ ہو جا ئے اور اس کی قیادت امر یکا کے ہا تھو ں سے نہ نکل جا ئے چنا نچہ تجزیہ نگا رو ںکے مطابق نیا سال عیسوی ایک ہنگا مہ خیز سال ہو گا اور خا ص طو رپر امت مسلمہ کے لیے بڑی آزما ئش لیے ہو گا کیو ں کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تو مانتے ہیںکہ روس ایک برائی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ ایک چھو ٹی برائی ہے جب کہ دونو ں بڑی برائی کے خا تمے پر متفق ہیں ، اس لیے روس سے پنگالینے کی بجا ئے اس کے ساتھ مل کر مشترکہ دشمن کاپہلے قلع قمع کرنا ہو گا چنا نچہ شام کے مسئلے پر امر یکا اور اس کے اتحادی خا مو ش رہے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ با طل قوتیں اپنی تدابیر کر تی ہیںاور قادرالمطلق اللہ بزرگ برتر کی اپنی حکمت ہوتی ہے چنانچہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے حالا ت کی وجہ سے ہجرت کا جو ایک سمند ر رواں ہو ا ہے اس نے یو رپی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، یو رپ میں اس وقت ایک ملک جر منی ہے جہا ں مہا جر ین کی پذیرائی کی جا رہی ہے گزشتہ دوسالوں میں دنیا میں ایک کڑور چوبیس لاکھ افراد نے ہجرت کی ہے اور اس وقت سب سے بڑی تعداد یو رپ گئی ہے جہا ں ان کی آمد کو روکنے کی سعی کی جا رہی ہے ، صرف جر منی اپنے آئین پر عمل کر رہا اور مہا جر ین کو جگہ دے رہا ہے ، ویسے خود جر منی کی ضرورت بھی ہے کیو ں کہ وہا ں شرح پید ائش اور شرح امو ات میں بہت نما یا ں فر ق ہے اگر ایسی صورت حال رہی تو جر منی کی آبادی قلیل تر ہو کر رہ جائے گی۔ ساٹھ کی دہا ئی میں جر منی میںافرادی قوت کی بے انتہاکمی واقع ہو ئی تھی جس کی بنا ء پر امریکا نے دنیا بھر سے افرادی قوت کو سمیٹا تھا ۔خاص طورپر ترکی سے بڑی تعدا د میں افرا دی قوت حاصل کی تھی۔ یہی افرادی قوت آج جر منی کی تعمیر وترقی میںکر دار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اب سیا سی کر دار میں بھی نمایاں ہو چلی ہے ، اس وقت جو نئے مہاجرین جرمنی میںوارد ہو رہے ہیںآئند ہ ان کا بھی جرمنی سمیت یورپ میں اہم کر دار ہو گا اسی لیے کسی نے خوب کہا ہے کہ

وہ کتا بوں میں درج تھا ہی نہیں

جو پڑھا یا سبق زما نے نے !!

متعلقہ خبریں