Daily Mashriq


بجلی اورگیس کے پری پیڈ میٹرز کی ضرورت

بجلی اورگیس کے پری پیڈ میٹرز کی ضرورت

آج کل دیگر اہم مسائل کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کو بجلی اور گیس کی شدید لو ڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔خیبر پختونخوا میں بھی بے تحاشا لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں پر رہتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں ایتھوپیا یا افریقہ کے کسی پسماندہ علاقے میں رہ رہے ہیں۔ نواز شریف اور عمران خان کی سیاسی چیقلشن الگ بات مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف خیبر پختون خوا کے لوگوں سے الیکشن ہارنے کا بدلہ لے رہے ہیں ۔ اور یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام وزیر اعظم نواز شریف سے اس سلسلے میں بات کیوں نہیں کرتے۔ وفاقی حکومت کے محکموں واپڈا اور سوئی گیس نے بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کرکے اوربلاجواز بھاری بھر بل بھیج کرخیبرپختونخوا کے لوگوں کی زندگی اجیرن کردیہے۔مگر نہ مسلم لیگ(ن) کے ورکروں کو اور نہ ہی انجینئر امیر مقام کو یہ بات سمجھ آتی ہے ۔ اس وقت پاکستان میں بجلی چو ری35سے40 فی صد تک جبکہ گیس چو ری 25 سے30 فی صد تک ہے ۔ گرمی میںجو ن جولائی، اگست ستمبر میں جب بجلی کا استعمال 18 اور19 ہزار میگا واٹ تک بڑ ھ جاتا ہے تو 40 فی صد کے حساب سے 6 ہزار میگا واٹ اور سر دیوں میں جب بجلی کاکل استعمال 12 یا 13 ہزار میگا واٹ ہوتا ہے، تو سر دی میں 4یا ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی چو ری ہوتی ہے۔ اسی طر ح گیس کی 25اور 30 فی صد کے درمیان چو ری ہو تی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سارا بوجھ غریب صا رف پر پڑتا ہے اور اسی طر ح اسکے بھاری بھر بل آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بجلی اور گیس چو ری کو کیسے روکا جائے ۔ اگر ہم کسی بھی مذہب کے ماننے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تو پھر تو ہمیں کسی قانون اور ضابطے کی ضرورت نہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کو نسا راستہ اختیارکیا جائے کہ بجلی اور اور گیس کی 30 سے 40 فی صد بجلی چو ری کو قابو کر کے غریب پر انکا بو جھ کم کیا جائے۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں ہمیں پری پیڈ میٹرکے استعمال کو رواج دینا چاہئے۔ جس طر ح ہم موبائل میں کا رڈلو ڈ کرتے ہیں۔ اسی طر ح ہم پری پیڈ بجلی، پانی اور گیس میٹر کو استعمال کر کے بجلی چو ری کو کم کر سکتے ہیں۔ جس سے ملک میں کا فی حد تک لو ڈ شیڈنگ اور بجلی چو ری پر قابو پایا جاسکے گا۔ اس وقت جن جن ممالک میں پری پیڈ میٹرکا نظام رائج ہے اُن میں امریکہ ، بر طانیہ، آئر لینڈ، سائوتھ افریقہ، نیوزی لینڈ، بھارت، ارجنٹینیا اور اسکے علاوہ بُہت سارے ترقی پذیر ممالک شامل ہیں ۔پائک ریسر چ نے پو ری دنیا میں 30 ملین پری پیڈ میٹر لگائے ہیں اور سال 2017 تک انکی تعداد 500ملین تک پہنچ جائے گی۔پا ئک ریسر چ کے مطابق پری پیڈ میٹر کی ما رکیٹ 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ سالوں میں یہ ما رکیٹ700 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ در اصل ا س سے نہ صرف ملک میں بجلی اور گیس چوری میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ہمارے بُہت سارے سماجی، اقتصادی اور کلچرل مسائل بھی حل ہو نگے۔ہم اکثر اپنا مکان اور دکان کو کسی کو کرائے پر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات یا تو کرایہ دار بھاگ جاتا ہے اور یا بجلی اور گیس بل کسی وجہ سے متنا زعہ ہو جاتا ہے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ آج کل واپڈا ملازمین اور صا رفین کا سب سے بڑا مسئلہ غیر مُنصفانہ بل ہے۔ پری پیڈ میٹر لگانے سے کم ازکم مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان بجلی اور گیس بل پر جو مسائل اور چپقلش ہوتی ہے اُس میں کافیحد تک کمی آئے گی۔علاوہ ازیں ا س سے اقتصادی سر گر میوں میں اضافہ ہو گا اور بجلی کی صنعت پر واپڈا یا مزید جن چند حکومتی کمپنیوں کا قبضہ ہے وہ ختم ہو جائے گا۔ اس وقت پاکستان میں واپڈا کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ صا رفین ہیں اگر اس کام کو پرائیویٹا ئز کیا جائے تو اس سے لاکھوں لوگوں کو نوکریاں ملنے کے امکانات ہیں ۔علاوہ ازیں اس سے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے درمیان اہم اور مُثبت مقابلے کا رُحجا ن پیدا ہو گا اور ملک اور باہر کے صنعت کار بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ پورا کر نے میں اپنا کر دار ادکر تے رہینگے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت کو ملک میں زیادہ سے زیادہ پری پیڈ بجلی، پانی اور گیس کے میٹرز کو رواج دینا چاہئے تاکہ بجلی، گیس اور پانی کی چوری پر قابو پایا جاسکے۔آج وطن عزیز میں مشترکہ گھروں میں بہن بھائی اور رشتہ داروں میں لڑائی جھگڑوں کا سبب بھی بجلی اور گیس بل ہے ۔ جب پری پیڈ میٹر لگائے جائیں گے تو گھر کے اندر کے لڑائی جھگڑوں کے ساتھ ساتھ واپڈا اور صا رفین کے جھگڑے بھی ختم ہوجائیںگے۔

متعلقہ خبریں