Daily Mashriq


جھوٹی خبر کا دھندہ

جھوٹی خبر کا دھندہ

رواں ہفتے میں بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان اک مضحکہ خیز واقعہ دیکھنے کو ملا جب پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک من گھڑت اور جھوٹی خبر کے جواب میں ٹویٹر پر اسرائیل کو جوہری حملے کی دھمکی دی۔ مذکورہ خبر کے مطابق اسرائیل نے پاکستان کو نیوکلیئر حملے کے ذریعے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جس کے جواب میں ہمارے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ٹویٹ کی 'شام میں داعش کے خلاف پاکستان کے کردار پر اسرائیلی وزیرِ دفاع نے پاکستان کو دھمکی دی ہے ۔ اسرائیل بھول گیا ہے کہ پاکستان بھی ایک نیوکلیئرپاور ہے،اس سارے معاملے میںسب سے اہم بات اسرائیل کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکی کی خبر کی اصلیت تھی۔ خواجہ آصف کو ٹویٹ کرنے اور اپنا ردِ عمل دینے سے پہلے اس خبر کی اصلیت کو ضرور جانچنا چاہیے تھا۔ ایک میڈیا تجزیہ کاراور صحافی ہونے کے ناطے میں یہاں پر اپنے وزیرِ دفاع کو ایک اہم نصیحت کرنا چاہوں گا۔ اگر کبھی کسی گمنام ویب سائٹ کے ذریعے کوئی خبر آپ تک پہنچے تو اس پر یقین نہ کریں کیونکہ وہ ویب سائٹ اسی وجہ سے ہی گمنام ہے ۔ جھوٹی خبریں ہم پاکستانیوں کے لئے شاید مزاح کا ذریعہ ہوںلیکن پوری دنیا میں جھوٹی اور من گھڑت خبروں کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ آج کے گلوبل ویلج میں جھوٹی خبر ایک بزنس بن چکی ہے۔ ایسی خبریں مکمل طور پر من گھڑت ہوتی ہیں اور قارئین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے انہیں معتبر صحافت کا رنگ دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اشتہارات حاصل کرکے دولت کمائی جاسکے۔ مشہور برطانوی اخبار گارڈین میں جھوٹی خبروں کے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جھوٹی خبریں دراصل معتبر ویب سائٹس کے ڈیزائن کی طرز پر بنائی جاتی ہیں۔ اگر ہم اس جھوٹی خبر کی بات کریں جس کا جواب خواجہ آصف نے دیا ہے تو وہ خبر کچھ یوں ہے ''اسرائیلی وزیرِ دفاع : اگر پاکستان نے کسی بھی وجہ سے شام میں اپنی افواج بھیجیں تو ہم اس ملک کو نیوکلیئر حملے کے ذریعے تباہ کردیں گے''۔ یہ من گھڑت خبر awdnews .comنامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی جس میں اسرائیلی وزیرِ دفاع کا نام بھی غلط لکھا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اس ویب سائٹ نے کوئی جھوٹی خبر شائع کی ہو ۔ اس سے پہلے بھی مذکورہ ویب سائٹ نے ایک بڑی جھوٹی خبر شائع کی تھی جس کا عنوان تھا 'ہیلری کلنٹن ٹرمپ کے خلاف فوجی بغاوت کی سازش کر رہی ہیں'۔مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی گمنام ویب سائٹ ایسی خبر شائع کرتی ہے ، مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی معتبر ویب سائٹ تصدیق کئے بغیر ایسی خبر کو اُٹھا کر شائع کردیتی ہے ۔خواجہ آصف کو مذکورہ خبر پر اپنا ردِ عمل دینے سے پہلے اس کی تصدیق کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ دنیا کی اہم شخصیات جھوٹی خبر کا شکار ہوئے ہوں۔ جھوٹی خبروں کی وجہ سے ہی بہت سے ماہرین امریکن الیکشن پر سوال اُٹھا رہے ہیں کیونکہ انہی جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی بدولت ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ جھوٹی خبروں کے حوالے سے سب سے زیادہ مشہور ہونے والی خبر کا تعلق بھی امریکہ سے ہے ۔ یہ خبر 4 دسمبر کو ایک ویب سائٹ پر شائع ہوئی جس کے مطابق شمالی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک ایسی جگہ پر فائرنگ کی جو مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال کا ہیڈ کوارٹر تھی اور جس کی سرپرستی ہیلری کلنٹن کر رہی تھیں۔ جب کسی بھی جھوٹی خبر کو کسی مشہور شخصیت کی جانب سے دہرایا جاتا ہے تو اس خبر کو نئی زندگی مل جاتی ہے ۔' 'ڈیموکریٹک سینٹرز فلوریڈا میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں' 'یہ ایک جھوٹی خبر تھی لیکن اس خبر کو مائیکل فلن کی جانب سے دہرایا گیا جو نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے لئے ٹرمپ کے نامزد امیدوار ہیں۔'بز فیڈ' کے ایک تجزئیے کہ مطابق امریکی الیکشن مہم کے آخری تین ماہ کے دوران نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور سی این این سے زیادہ جھوٹی خبروں نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی جو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیئے باعثِ تشویش ہے۔ جھوٹی خبر کے کاروبار میں بہت زیادہ پیسہ ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں ملوث ہورہے ہیں۔ لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے مطابق اس نے جھوٹی خبروں کی ویب سائٹس پر اشتہارات کے ذریعے ایک مہینے میں 30,000 ڈالر کمائے۔ جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی ویب سائٹس بنانے کا کاروبار صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے ۔ ایک خبر کے مطابق امریکی انتخابی مہم کے دوران سو سے زائد جھوٹی خبروں کی ویب سائٹس مقدونیہ میں بیٹھے ہوئے نوجوان چلا رہے تھے جن کی عمریں انیس سال سے کم تھیں۔اب یہ کہا جارہا ہے کہ فیس بک جھوٹی خبروں کے معاملے پر قابو پانے کے نئے اقدامات کررہی ہے اور ایسی خبروں کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے تصدیق کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ گوگل کروم کے ایسے تین نئے پلگ ان بھی سامنے آئے ہیں جو برائوزنگ کرتے وقت جھوٹی خبروں سے بچنے کے لئے ہماری مدد کرتے ہیں۔ جہاں دنیا میں صحافت ترقی کررہی ہے اور صحافت کی نئی قسمیں سامنے آرہی ہیں وہیں پر ہمیں جھوٹی خبروں سے بچائو کے اقدامات بھی کرنے ہوں گے ۔ اس حوالے سے تصدیق کے بغیر خبر چلانے کے عمل پر قدغن لگایا جانا نہایت ضروری ہے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں