Daily Mashriq


معاملہ یہیں ختم ہونا چاہئے

معاملہ یہیں ختم ہونا چاہئے

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا غیر ذمہ دارانہ بیان اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)میجر جنرل آصف غفور کا وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دینا غیر معمولی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جس سے ملک کے ہر درد مند شہری کا مشوش ہونا فطری امر ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے کا موقف ہے کہ ان کے بیان کا مطلب غلط نکالاگیا جبکہ میڈیا نمائندوں کو بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر ریلوے نے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے بلا واسطہ پاکستان آرمی کی کمانڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی ایک منظم اور آئین پاکستان کے تحت چلنے والا ادارہ ہے۔بریفنگ کے دوران جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے اسٹیبلشمنٹ کو ان کی برطرفی کا ذمہ دار قرار دیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ پاک فوج سیاسی بیانات پر اپنا ردِ عمل نہیں دے گی اور خاموشی اختیار رکھے گی، اگر ان کے پاس فوج کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائیں۔ہمارے تئیں سعد رفیق کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار نہ دیا جاتا تو پھر کیا کیا جاتا جبکہ خواجہ سعد رفیق کے بیان کی آڈیو ویڈیو موجود ہے۔ ان کے الفاظ کے مختلف معانی پہنانے کی گنجائش نہیں اور نہ ہی ان الفاظ کی کوئی دوسری تشریح ممکن ہے۔ پاک فوج کے رد عمل کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ یہ کہنے کی ہی گنجائش موجود ہے کہ اس رد عمل کا اظہار ذرائع ابلاغ کی وساطت سے کرنے کی بجائے اگر دیگر ذرائع سے کیاجاتا تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ ذرائع ابلاغ میں کسی بھی رد عمل اور وضاحت سے اس موضوع کا دوبارہ تذکرہ ہوتا ہے اور بسا اوقات یہ ایشو بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں سنجیدہ سعی کے ذریعے اس بیان کی بیان دینے والے سے مختلف وضاحت اور جداگانہ تشریح کے ذریعے غلط فہمی د ور کرنے کا سامان کیاجاتا تو اس کا چرچا ہونے کے عمل سے بچا جاسکتا تھا۔ بہر حال پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی اعلیٰ ترین سطح کے بیان سے پاک فوج کی قیادت کی پوزیشن کی تو وضاحت ہوگئی اور ریکارڈ کی درستگی کے لئے وفاقی وزیر نے اپنے ہی واضح الفاظ کا اپنا مطلب نکال کر گویا اپنے کہے ہوئے الفاظ کی عدم صداقت کا اور موزنیت بلکہ غلط ہونے کا خود ہی اعتراف کرلیا اگر یہی چیز کسی رپورٹر کے سوال کے جواب میں وہ پہلے ہی کرچکے ہوتے اور بیان کی دیگر تشریح اور تاثر کو پہلے ہی رد کردیتے تو پاک فوج کی جانب سے ادارتی رد عمل کی نوبت نہ آتی۔ ہمیں بطور میڈیا پرسنز‘ سیاستدان‘ صحافی اور بطور سول سوسائٹی اس بات کو ذہن میں پختہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اس طرح کی صورتحال میں حد درجہ محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تدوین پر مامور عملے کو کسی سیاستدان کے جملے کو اچھالنے کی بجائے اسے قلمزد کرنے کے اختیار کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ اس طرح کا جملہ محدود ہی رہے جس سے ملک میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کے امکانات ہوں۔ سیاستدانوں کو اس طرح کی ہانکنی نہیں چاہئے اور دیگر متذکرہ عناصر کو اس کو آگے بڑھانے کی بجائے اس حوالے سے ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے جس سے نہ قومی ہم آہنگی متاثر نہ ہونے پائے۔ جہاں تک اختلاف رائے اور اپنے اپنے موقف کا تعلق ہے اس کی گنجائش ہر جگہ ہونی چاہئے لیکن قومی مفاد مقدم رہے اور سنجیدہ معاملات اور اختلافات کی نوعیت کی شدت ہو تو اس پر باہم گفت و شنید کا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ پاک فوج اور عدلیہ سے اختلافات ان کے کردار و عمل پر مناسب الفاظ میں نشاندہی سے زیادہ کی گنجائش نہیں اس لئے کہ اگر خدانخواستہ ان دونوں اداروں کی بھی وقعت نہ رہی حکومت اور پارلیمنٹ کے حوالے سے بھی بے وقعتی کا تاثر سامنے آئے تو ملک کا بے چینی اور عوام میں بے یقینی کی کیفیت جیسی صورتحال سے دو چار ہونا فطری امر ہوگا۔ عدلیہ اور فوج کے ناطقین سے اس لئے زیادہ تحمل کی توقع ہے کہ یہ دونوں ادارے عوام کی امیدوں کا مرکز اور تحفظ کی علامتیں ہیں۔ اگر یہاں سے بھی ترکی بہ ترکی ہونے لگے تو رہی سہی کسر پوری ہونے میں کیا امر مانع رہ جائے گا۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ وطن کا ہر باشندہ پاک فوج کو ملک کا محافظ اور دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار سمجھتا ہے۔ صرف سرحدوں کا دفاع ہی پاک فوج کی ذمہ داری نہیں جب بھی ملک کسی آفت کا شکار ہوا حکومت اور عوام دونوں پاک فوج ہی کی طرف دیکھتے ہیں اور وہیں سے لبیک کی آواز آتی ہے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے اس وطن میں اچھے اور مناسب طریقے سے رہنا بھی ہمارے اختیار میں ہے اور دست و گریباں ہونے کا رویہ بھی اختیار کیاجاسکتاہے تو پھر کیوں نہ اچھے موزوں اور احسن طریقے کو اختیار کیا جائے۔ پاک فوج حکومت پاکستان ہی کا حصہ ہے۔ یہ ہمارے ہی بیٹوں اور بھائیوں سے مل کر بنا ہے اس سے اختلاف اتنا ہی ہونا چاہئے جس طرح گھر کے برتن ٹکرانے کی آواز باہر نہیں جاتی اور صدائے باز گشت بھی پیدا نہیں ہوتی معمولی ارتعاش ساعت دو ساعت بعد دم توڑ دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں