قوم حقیقی احتساب کی بہت دیر سے منتظر ہے

قوم حقیقی احتساب کی بہت دیر سے منتظر ہے

سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان کی جانب سے ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کے بارے میں ریمارکس اپنی جگہ احسن ضرور ہیں لیکن اس طرح کے ریمارکس تقریباً عدلیہ سمیت سبھی کی طرف سے دئیے جاتے ہیں عوام کا بھی بنیادی مطالبہ احتساب کا ہے لیکن احتساب کا وہ عمل جس کی قوم کو توقع ہے ابھی دور دور تک نظر نہیں آتا۔ جج جرنیل اور جرنلسٹس بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں چونکہ ر ائے عامہ کی نظر ان پر زیادہ ہوتی ہے اور ان کے اثر انداز ہونے کے مواقع بھی کئی گنا ہیں لہٰذا اگر ان ’’جیموں‘‘ سے ابتداء کی جائے تو احسن ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں کوئی مقدس گائے اور کوئی مقتدر نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ سپریم کورٹ اور فوج کا احتساب کا ایک اپنا نظام ضرور موجود ہے لیکن یہ کافی نہیں بدلتے حالات میں انگشت کے اشاروں کو نیچے کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ نہ صرف ججوں اور جرنیلوں کو احتساب کے قانون کے دائرے میں لایا جائے بلکہ ان کا عملی احتساب ہونا بھی چاہئے۔ علاوہ ازیں میڈیا کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہئے تاکہ وطن عزیز میں کوئی ایک بھی ایسا شعبہ اور ادارہ باقی نہ رہے جو احتساب کے دائرہ اختیار سے باہرہو۔ اگر دیکھا جائے تو جج ‘ جرنیل اور جرنلسٹ ہی وہ برادری اور ادارے ہیں جن کی شفافیت اور راست گاری پورے معاشرے پر اثر انداز ہونے والی چیز ہے۔ ان کا کردار جتنا صاف ستھرا اور انگشت نمائی سے بالا تر ہوگا معاشرہ میں تطہیری عنصر کا تناسب اسی قدر زیادہ ہوگا۔ ان اداروں کے احترام میں بھی مزید اضافے کے لئے ضروری ہے کہ یہ ادارے مثالی کردار کا مظاہرہ کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اداروں میں شفافیت کا خیال رکھا جاتا ہے اور عوام ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن کبھی کبھار اس قسم کے کردار بھی سامنے آتے ہیں جو ان اداروں ہی کے نظام احتساب کی زد میں آتے ہیں اور ان کو نرم یا سخت سزا بہر حال ملتی ہے لیکن یہ ادھورا احتساب کافی نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ خود احتسابی کے احسن عمل کے تحت ان اداروں کو از خود اس امر کی پیشکش کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کو احتساب کے کسی قانون کی زد میں آنے پر کوئی اعتراض نہیں وطن عزیز میںاحتساب کے نعرے بھی لگتے ہیں اور مطالبہ بھی ہوتا ہے لیکن احتساب کا حقیقی عمل کب شروع ہوگا قوم اس کی بہت دیر سے منتظر ہے۔
وردی پوشوں کی قانون شکنی
خیبر پختونخوا پولیس کے فیس بک پیج پر گرفتار خواتین کی تصاویر کی نمائش قانون و اخلاق اور پختون ثقافت و روایات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اس سے پولیس کے غیر ذمہ دارانہ کردار اور وردی پوشوں کی قانون شکنی غفلت اور غیر ذمہ داری کی انتہا کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات اور سدھری ہوئی پولیس کا تذکرہ کئے بغیر حکمران جماعت تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی تقریر مکمل نہیں ہوتی۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو بھی کے پی پولیس کی کارکردگی پر بڑا مان ہے اعداد و شمار بھی یہی بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف جرائم کی شرح میں حوصلہ افزا کمی ہوئی ہے لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس سے وابستہ توقعات کے عشر عشیر کے بھی پورا نہ ہونے کی بات غیر حقیقت پسندانہ نہ ہوگی۔ اگر خیبر پختونخوا پولیس کی کاوشوں یا حالات میں تبدیلی کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے تو دوسری جانب اسی پولیس کے ماتھے پر چند کلنک کے داغ ایسے بھی لگے ہیں جس کی مثالی پولیس سے تو درکنار بگڑی ہوئی پولیس سے بھی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔ گزشتہ روز اشرف روڈ پر تاجروں اور ٹریفک اہلکاروں میں تلخی کے بعد ٹریفک پولیس کے اہلکار کی مجمع پر فائرنگ کے واقعے کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی۔ اگر قانون شکنی کامظاہرہ وردی پوشوں ہی سے سرزد ہونے لگے تو کسی اور سے توقع ہی کیا رکھی جائے۔ ڈیرہ میں مظلوم لڑکی کے مقدمے میں پولیس کا کردار کسی طور مناسب نہ تھا اسی طرح خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں شکایات اور نشاندہی کے باوجود فحاشی کے اڈوں کے خلاف کارروائی میں پولیس کی غفلت کسی سے پوشیدہ نہیں بلکہ اس ضمن میں پولیس کا اپنا کردار بھی شکوک سے پاک نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پولیس میں اصلاحات کا عمل ہی کافی نہیں اسے دیانتدار اور ذمہ دار بنانے پر پوری توجہ کی ضرورت ہے۔ پولیس کے حوالے سے اس وقت تک کسی رائے کو درست قرار نہیں دیا جانا چاہئے جب تک عوام خود اس کی گواہی نہ دیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ خیبر پختونخوا پولیس کی اصلاح کے صرف دعوے ہی نہیں کئے جائیں گے بلکہ عملی طو پر اس کو اس قابل بنایا جائے گا کہ عوام اس پر اعتماد کریں اور پولیس عوام کے اعتماد کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

اداریہ