Daily Mashriq


بے نظیر بھٹو کا قتل اور چند سوالات

بے نظیر بھٹو کا قتل اور چند سوالات

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی دسویں برسی کے موقع پر جناب زرداری اور بلاول نے گڑھی خدا بخش کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ان سے صرف نظر ممکن نہیں بالخصوص بلاول نے اپنی والدہ کے سفاکانہ قتل پر بہت جرأت کے ساتھ گفتگو کی۔ اصل سوال یہی ہے کہ آخر کیوں پنجابی ذہنیت کا حامل میڈیا محترمہ کے قتل کی سازش کے چند بڑے کرداروں کی پردہ پوشی کے لئے آصف زرداری کو قاتل کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہے۔ عجیب سی بات ہے اگر محترمہ کے قتل کے فوائد زرداری کو ملنے پر زرداری قاتل ہے تو پھر جنرل ضیاء کے قتل کا فائدہ 27 سالوں سے نواز شریف اور اعجاز الحق اٹھا رہے ہیں تو یہ قاتل کیوں نہیں؟ یا پھر یہ کہ اگر مقتول کے ورثاء پر ہی یہ اصول صادق آتا ہے تو انسانی تاریخ کے سارے قتلوں کو پھر سے نہ دیکھ لیا جائے کہ ان کا فائدہ کس کس کو ہوا؟ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ محترمہ کے قتل کی تحقیقات اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں جو لوگ پیپلز پارٹی کو دوش دے رہے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سازش کے بعض کردار ریاست کے اہم ترین اداروں سے تعلق رکھتے تھے۔ جنرل پرویز مشرف ایک مثال ہیں۔ انہیں قانون کے شکنجے سے کون کیسے نکال کر لے گیا۔ کیا کسی میں حوصلہ ہے کہ ایک آزاد کمیشن قائم کرواکے اس امر کی تحقیقات کروالے؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔کیا انصاف کی عدم فراہمی سے عوام الناس میں جو مایوسی بڑھی وہ کسی ادارے کے جوانوں کے مورال سے کم تر ہے؟۔ میری دانست میں ٹھنڈے دل سے ان سوالات پر غور کرنا ہوگا جو محترمہ کے صاحبزادے بلاول نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں اٹھائے ہیں۔ دس برس بعد ایک بار پھر وہی سوال عرض کروں گا کہ ’’ اس غیر ملکی کی نعش کہاں گئی جس کے لیاقت باغ کے سٹیج کے عقبی حصے سے ملنے کا دعویٰ اس وقت وزارت داخلہ کے ترجمان نے کیا تھا؟ صاف سیدھی رائے یہ ہے کہ اگر اس واحد سوال کاجواب مل جائے تو سازش کی کڑیاں ملانے میں آسانی رہے گی۔ جو خواتین و حضرات پچھلے دس برسوں سے محترمہ کے قتل کی سٹوری میں اس عاجز کے اٹھائے ہوئے نکتے کہ قتل کی وجہ میٹل کی گولی یا گاڑی کا لیور نہیں بلکہ بیم گن کا فائر ہے پر دھول اڑاتے ہیں ان سے ایک آسان سوال ہے۔ راولپنڈی کے ہسپتال سے محترمہ کے سر کے متاثرہ حصے کے جو چند اجزاء برطانیہ کی ایک لیبارٹری بھجوائے گئے تھے اس کی رپورٹ کیا ہوئی؟ یہ کہنا کہ زرداری نے پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا مشرف کا لغو ترین دعویٰ ہے۔ انہوں (پرویز مشرف) نے فوری طور پر دو حکم دئیے اولاً پوسٹ مارٹم کے بغیر بی بی کی نعش کو تابوت میں رکھ دیاجائے ثانیاً موقع واردات کو دھو دیا جائے۔ یہاں ایک ضمنی سوال ہے۔ جرم لیاقت باغ کے باہر سڑک پر ہوا سڑک کو دھویاگیا مگر سڑک اور پارک کے درمیان والے درختوں کو غسل دینے کی کیا وجہ تھی؟ کیا فضا میں لیزر بیم گن کے کیمیائی اثرات دھونا مقصود تھا؟ ہم آگے بڑھتے ہیں‘ ان سطور میں قبل ازیں بھی عرض کرچکا ہوں کہ بی بی کے قتل کی سازش کے ریاستی مہروں میں تین افراد کا کردار تحقیق طلب ہے۔ اولاً مشرف‘ ثانیاً اشفاق پرویز کیانی اور ثالثاً وزارت داخلہ کے اس وقت کا ترجمان۔ ان باتوں کو بھی ایک طرف اٹھا رکھئے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے پر جو سوالات بلاول نے اٹھائے ہیں ان کا جواب کیا ہے؟

معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ ریاست آج بھی اس حساس معاملے سے پہلو تہی برت رہی ہے۔ کیوں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دیتے ہوئے بڑوں بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ ایک عامل صحافی کی حیثیت سے میں محترمہ کے قتل کو پاکستان کے خلاف عالمی سازش کا حصہ سمجھتا ہوں۔ ایسی سازش جس کے تانے بانے بننے والوں کے سامنے نتائج کے حوالے سے دو امکانات تھے اولاً یہ کہ اس سانحہ کی دھمک سے پاکستان کے جغرافیئے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اگر جغرافیہ صدمہ جھیل گیا تو دوسری صورت میں پاکستان کے پاس بین الاقوامی سطح پر پہچان رکھنے والی قیادت نہیں ہوگی۔ آئیے ہم پچھلے دس برسوں کے دوران کے پاکستان کے عالمی برادری میں کردار اور دیگر معاملات پر غور کریں۔ یہاں ایک سوال ہے کیا بین الاقوامی شناخت اور تدبر والی قیادت ہوتی تو سی پیک کے مہنگے قرضے لیتی؟ سوچے سمجھے بغیر یہ سماں بنتا کہ ابھی سے خطرات منہ اٹھائے دندنا رہے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا نیا جنم ہوا چاہتا ہے۔ پچھلے دس برسوں کے نقصانات کا حساب دہلا دیتا ہے۔ دستیاب قائدین کس سطح کے لوگ ہیں اس پر لمبی چوڑی بحث بے معنی ہے۔ ستم یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تجربوں اور سازشوں کے نتائج سے سبق نہیں سیکھا۔ اسے اب بھی اپنے گملوں میں لگی پنیری کو لیڈر بنوانے کا بھوت چین نہیں لینے دیتا۔ ہم کیا اس بات پر غور کرنے کی زحمت کریں گے کہ جس اسٹیبلشمنٹ کی اپنے ہمدم و دیرینہ نواز شریف سے نہیں بن پائی اس کی اور کس سے بنے گی؟ آسان سا جواب ہے کسی سے نہیں۔ عمران خان سے جو خدمت لینی تھی لے لی۔ اب انصاف اور احتساب کا گڑ بیچنے کی تیاریاں ہیں اور دوسری طرف شریف فیملی کے معاملات طے کئے جا رہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ کبھی ایک امریکہ ہمارا آقا تھا اب چھوٹے چھوٹے امریکہ بھی آقائوں کی طرح حکم صادر کرتے ہیں۔ غلام ہیں ہاتھ باندھے بھاگتے ہوئے شرف باریابی کے لئے گرتے پڑتے پہنچ رہے ہیں۔ ان حالات میں اہم ترین باتیں تین ہیں اولاً یہ کہ دہشت گردی اولین ترجیح نہیں ثانیاً ریاست اور شہریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کا کسی کو احساس نہیں ثالثاً بلا امتیاز انصاف کی فراہمی کبھی ترجیح تھی نہ ہے اور نہ ہوگی۔ ان حالات میں اگر پیپلز پارٹی نے اپنے ترقی پسندانہ کردار کو مزید نظر انداز کرکے طبقاتی نظام کی مجاوری جاری رکھی تو گھاٹے کا سودا ہوگا اس کے لئے۔

متعلقہ خبریں