کیا کوئی ربط ہے؟

کیا کوئی ربط ہے؟

دنیا میں واقعات کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ اس زبان میں بھی ایک تاریخ تحریر ہو رہی ہوتی ہے۔ کئی بار اس زبان میں ایک ایسی کہانی سنائی جا رہی ہوتی ہے جسے نہ تو ہم اس وقت سمجھ پاتے ہیں اور معاملات کی قربت ہمیں درست طور اس مشاہدے سے بھی محروم کردیتی ہے۔ میں سوچتی ہوں شاید ہمارے ارد گرد ایسے کتنے ہی واقعات روز وقوع پذیر ہوتے ہیں جن کے نتائج شاید آج سے کئی دہائیاں بعد بیٹھے مورخ کو دکھائی بھی دیں گے اور سمجھ بھی آئیں گے لیکن ہم اس ساری سمجھ فہم و فراست سے آج قاصر ہیں۔ شاید اسے ہی تاریخ کا فیصلہ بھی کہاجاتا ہے۔
پاکستان میں احتساب کی ایک ہوا چل نکلی ہے۔ ہم اپنے حکمرانوں کااحتساب کر رہے ہیں ہر وہ شخص جو کسی طور بھی ہمیں لوٹتا رہا ہے ہم اس کا احتساب چاہتے ہیں کیونکہ اب ہم قوم بننا چاہتے ہیں۔ ایک مستقبل چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی کل ایسا بھی ہو جو ہمارے لئے خوش آئند ہو۔شاید اسی ایک خواہش نے ہم میں سے ہر ایک کی نبض تیز کر رکھی ہے۔ یا شاید یہ وقت کا انتقام ہے۔ وہ لوگ جو اقتدار کی تمام تر طنابیں اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے اور انہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی اس ملک و قوم کی بھلائی کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ یہ ملک ‘ اس کے غربت کے بوجھ تلے سسکتے عوام ان کے لئے محض تماشا ہی رہے۔ یہ اپنے مفادات کے ہی متولی رہے ہیں۔ اب یہ احتساب کی زد میں ہیں۔ وہ صحافی جس نے دنیا میں پاناما لیکس کا سہرا اپنے سر باندھا وہ پاکستان سے بہت دور ایک کار دھماکے کا شکار ہو کر چل بسا لیکن دنیا کے کئی ملکوں میں اس کی خبر نے ہلچل مچا دی۔ میاں نواز شریف بھی اسی پھندے کا شکار ہوئے اور پھر کئی کہانیاں افشاء ہونی شروع ہوگئیں۔ قومی احتساب کمیشن کی باگ ڈور بھی جسٹس جاوید اقبال کے ہاتھ تھما ئی گئی تاکہ نیب بھی اپنے قیام کا کوئی مقصد تو پورا کرسکے۔ میاں صاحب نے اس ملک کو جب جب اپنی جاگیر سمجھا اس کی کہانیاں اور کرامات لوگوں کے سامنے آنے لگیں تو انہیں لگا کہ اگر وہ نہ رہے تو یہ ملک بھی نہ رہے گا حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں شاید انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک سرکاری افسر کے حوالے سے ایک فائل پر لکھا تھا ’’ یہ قبرستان ان لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں جنہیں ناگزیر سمجھا جاتا تھا‘‘۔ ان کی بات کی سچائی سے کبھی کوئی انکار نہیں کرسکا۔ میاں صاحب پریشان تو ہیں لیکن اپنا ہی کیا دھرا ہے جس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ نیب اور بھی کئی اعلیٰ سیاسی شخصیات کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ شہباز شریف‘ یوسف رضا گیلانی‘ اسحاق ڈار‘ راجہ پرویز اشرف جیسے لوگوں کے نام فہرست میں شامل ہیں۔ کئی سرکاری افسران بھی اپنا کیا بھگتنے کو تیار ہونے والے ہیں۔ لیکن احتساب کی یہ کہانی صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں۔
احتساب کی ایک لہر سعودی عرب میں بھی اٹھی ہے جبکہ شاہی خاندان کے ہی گیارہ شہزادوں اور درجنوں اور دیگر لوگوں کو احتساب کی مہم کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ اس کے حوالے سے کئی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ کہنے والوں کا خیال یہ بھ ہے کہ شاید احتساب کی اس مہم کی آڑ میں شہزادہ محمد بن سلمان کے تخت کی راہ ہموار کی گئی ہے لیکن حقیقت سے مفر بھی ممکن نہیں۔ احتساب تو کسی کے بھی معاملات کو سچائی کی کسوٹی پر پرکھنے کا نام ہے۔ اب کوئی اس میں کھوٹا ثابت ہو جائے تو اسے محض انتقامی کارروائی کا ہی نام کیسے دیاجاسکتا ہے۔ بہر حال اس صورتحال کو ایک جانب رکھتے ہوئے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب میں بھی احتساب کا آغاز ہوچکا ہے۔ ولید بن طلال‘ مطب بن عبداللہ‘ فہد بن عبداللہ جیسے نام اب احتساب کی زد میں ہیں۔ محمد بن سلمان صرف اپنے ملک میں کبھی نہ ہوئے احتساب کے داعی کے طور پر سامنے آئے ہیں بلکہ انہوں نے ملک میں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت بھی دی ہے اور وہ دہائیوں کے بعد سعودی عرب میں سینما کا آغاز بھی ہو رہا ہے ۔ احتساب کی اس لہر کو کیسے بھی عنوان دینے کی کوشش کی جائے یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس سے پہلے کبھی سعودی شاہی خاندان میں کوئی فرد احتساب کی زد میں نہیں آیا۔ بات صرف ان دو ہی ملکوں تک محدود ہوتی تو شاید میں اسے اتفاقیہ بات تصور کرتی کچھ ایسی ہی صورتحال چین میں دکھائی دیتی ہے۔ جب سے صدر ژی جنگ پنگ نے چین میں اقتدار سنبھالا ہے گزشتہ پانچ سالوں میں انہوں نے170 کے قریب وزیروں مشیروں کو بدعنوانی سے وابستہ معاملات پر ان کے عہدوں سے فارغ کیا ہے اور قریباً 1.34 ملین دیگر کم تر عہدوں کے افراد کابھی احتساب ہوا ہے اس ساری کارروائی کے نتیجے میں لوگوں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ اگرچہ صدر ژی جنگ پنگ پر احتساب کی اس کارروائی کے باعث یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو کمزور کرنے کی کوشش کو احتساب کا لبادہ اوڑھا رہے ہیں لیکن بات پھر بھی وہی ہے کہ جہا ں رائی نہ ہو وہاں پہاڑ نہیں بنایا جاسکتا اور پھر احتساب کا یہ سلسلہ کسی دوسرے بڑے سلسلے کی کوئی کڑی تو نہیں۔ وہ سلسلہ جو پاکستان میں بھی دکھائی دے رہا ہے اور سعودی عرب میں بھی سر اٹھا رہا ہے یا پھر یہ صدی کمالات کی کوئی صدی ہے جو اس دنیا کے چہرے کے خدو خال بدل دینے والی ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے۔ شاید آج ان معاملات کی قربت ان کے اصل اثرات سے آگاہی کو ہماری فہم سے بالا تر کئے ہوئے ہے کون جانے کیا ہونے والا ہے۔

اداریہ