Daily Mashriq


خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم

یہ بات بھی آج کل کے فیشن میں شامل ہے کہ آپ لوگوں کو یہ تاثر دیں کہ ہم بہت مصروف ہیں بس سر کھجانے کی فرصت نہیںبہت سے لوگ ملنا چاہتے ہیں ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ آرام و سکون سے بیٹھ کر اپنے لوگوں سے گپ شپ کا لطف اٹھائیں لیکن بس کیا کریں مصروفیت اتنی زیادہ ہے کہ کسی دوسری طرف دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ ہمارے کالم نویس دوست خالد سہیل ملک کواللہ پاک نے بڑی فراخدلی کے ساتھ حس مزاح سے نوازا ہوا ہے وہ دوران گفتگو ایسے نپے تلے جملوں کا استعمال کرتے ہیں کہ حریف کے لیے دامن بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر انہیں کوئی کہے کہ یار مصروفیت بہت زیادہ ہے تو وہ ایک بلند بانگ قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں جناب آپ کو کیا پتہ مصروفیت کس چڑیا کا نام ہے یہ تو کسی کالم نویس سے پوچھیے کہ مصروفیت کیا ہوتی ہے۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو سینکڑوں موضوعات دامن دل کشادہ کیے ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ ما بدولت کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ کس کو شرف بازیابی بخشیں! اور پھر اخبار کے لیے لکھنا کوئی مذاق تو نہیں ہے ہر طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ بہت دیکھ بھال کر بات کرنی پڑتی ہے ۔ لوگوں کے آبگینے بڑے نازک ہوتے ہیں۔ 

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

اور پھر ایک دن کی بات تو نہیں ہے کہ آپ نے ایک ہی مرتبہ رو کر دل کا بوجھ ہلکا کردیا کہانی ختم اور پیسہ ہضم ۔ یہ تو روز کا رونا ہے ہم تو الیکٹرانک میڈیا بھی نہیں ہیںکہ سیاستدانوں کا مذاق اڑا کر دل کا بوجھ ہلکا کرلیں ٹاک شو کی دکان سجا کر بیٹھ جائیں چند مخصوص چہروں سے لوگوں کی ملاقات بار بار کروائیں شو کے دوران ہماری پوری کوشش ہو کہ مہمانان گرامی کو آپس میں الجھا کر خود مزے سے مسکراتے رہیں یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کریں کہ ہمارے ٹاک شو کا کوئی افادی پہلو بھی ہے یا ہم ویسے ہی لوگوں کی تفریح طبع یا کمپنی کی مشہوری کے لیے اپنا دیدار کرواتے ہیں! ہمارے ایک برطانیہ پلٹ مہربان کا فرمانا ہے کہ وہاں اگر کسی سیاستدان کا کوئی کمزور پہلو عوام کے سامنے آجائے تو یوں سمجھیے کہ اس کا سیاسی کیریر ہی ختم ہوگیا یہاں مہمان کو بلا کر اس کا سارا کچا چٹھاعوام کے سامنے طشت ازبا م بھی کردیا جائے تو وہ ہنستا مسکراتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اپنے حلقے میں اس کی پذیرائی برقرار رہتی ہے کسی کی کرپشن کو معاشرے کا اٹوٹ انگ سمجھ کر ذہنی طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ آپ کھربوں روپے کی کرپشن بھی ثابت کردیں تو کوئی مضائقہ نہیں کسی کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ اپنی اپنی استطاعت کی بات ہے کسی کے بس میں ایک ارب کی کرپشن ہے تو وہ ڈنکے کی چوٹ پر کر رہا ہے اور اگر کوئی پانچ سو روپے کا چور ہے تو وہ دل وجاں کی پوری توانائیوں کے ساتھ اس میں مگن ہے ہم تو سیاستدانوں کی بدعنوانیوں پر انگشت نمائی کرنے والوں کو ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ انہیں برانہ کہو یہ تو ہمارا آئینہ ہیں جیسی روح ویسے فرشتے والی بات ہے۔ہم تو الیکٹرانک میڈیا کی نقل بھی نہیں کرسکتے ہم نے تو گھنٹہ گھر کے نیچے بیٹھے ہوئے مزدوروں پر بھی لکھنا ہوتا ہے ہمیں تو روٹیوں والے کی دکان کے سامنے بیٹھی ہوئی خواتین اور بچوں پر بھی لکھنا ہوتا ہے جو خیرات کی روٹیاں لینے پر مجبور ہیں۔ ہمیں تو پشاور میں بڑے بڑے پلوں کے نیچے چھپ کر بیٹھے ہوئے ان ہیروئن پینے والوں پر بھی لکھنا ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر کلیجہ دہل جاتا ہے۔اگر ہم کالم نویس کے ارشادات زریں سناتے رہے تو ہمارا کالم ختم ہو جائے گا اور جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں وہ رہ جائے گی۔ہمارا ایک دوست ہے جس کا قد اڑھائی فٹ ہے یہ پہلے پشاور میں ایک انٹرنیشنل فائیو سٹار ہوٹل کے دروازے پر کھڑا ہو کر آنے جانے والے معزز مہمانوں کے لیے دروازہ کھولتا تھا وہ اس کے چھوٹے قد کو دیکھ کر مسکرانے لگتے۔ ایک انسان کی معذوری سے دوسرے انسان کی تسکین کا سامان ہو جاتا پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ بڑی کوشش کی افسران بالا کی منت سماجت کی کہ بھئی ہمیں نوکری نہ دو ان معززین کے لیے ہی ہمیں دروازے پر پھر سے کھڑا کردو جو ہمیں دیکھ کر بے ساختہ مسکرانے لگتے ہیں لیکن اس کی داد رسی کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔کل ہمیں کہنے لگا کہ آپ تو کالم لکھتے ہیں بس اپنے کالم میں اتنا لکھ دیجیے کہ ہم چھوٹے قد کے لوگ کسی سے خیرات نہیں مانگتے پیشہ ور گداگروں کی طرح لوگوں سے لپٹ لپٹ سوال نہیں کرتے بس اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں دیکھ کر کوئی ہمارا مذاق نہ اڑائے ۔ جس بازار میں سے گزرتے ہیں لوگ ہم پر آواز ضرور کستے ہیں اگر کسی گلی میں داخل ہو جائیں تو بچوں کی فوج ظفر موج ہمارے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے۔ دو چار من چلے طالب علم اکٹھے جارہے ہوں تو ہمیں دیکھ کر ان کی رگ ظرافت ضرور پھڑکتی ہے اور ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے ایک آدھ چپت تو ضرور رسید کردیتے ہیں۔ ان سے بس اتنا کہہ دیجیے کہ ہمارے بھی آپ کی طرح جذبات و احساسات ہیں ہم بھی اللہ کی مخلوق ہیں یہ تو اس کی حکمت کے کرشمے ہیں جو ہم اتنے چھوٹے ہیں ہم دوسروں کے لیے بھی امتحان ہیں اور اپنے لیے بھی بس لوگوں سے کہہ دیجیے کہ ہماری دل آزاری نہ کریں ۔

متعلقہ خبریں