Daily Mashriq


2017ء بھی خالی گزر گیا

2017ء بھی خالی گزر گیا

روز قبل عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کاایک خط بذریعہ ای میل موصول ہوا۔ خط پڑھ کر اپنی بے بسی اور حکمرانوں کی بے حسی پر بہت افسوس ہوا۔ خط میں جو حقائق بیان کئے گئے آپ بھی جان کر افسردہ ہوں گے اور غصہ بھی شاید آئے۔ خط کے مندرجات یہ ہیں۔ ایک اور عیسوی سال2017 اختتام پذیر ہے۔اس سال کے آغاز میں 20 جنوری کو جب باراک اوبامہ اپنی آئینی مدت صدارت پوری کرکے سبکدوش ہورہے تھے تو عافیہ کے امریکی وکلاء اسٹیون ڈائونز اور کیتھی مینلے صدر مملکت ممنون حسین یا وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے ایک خط کے منتظر تھے۔ عافیہ کی صدارتی معافی کے ذریعے رہائی کیلئے عافیہ کے وکلاء مکمل طور پر پرامید تھے۔ ہم اس ایک خط کے حصول کیلئے مارچ 2016 سے 20 جنوری 2017 تک جدوجہد کرتے رہے تھے۔ میںاورعافیہ کے امریکی وکلاء پاکستان کے 22 کروڑ عوام موجودہ صدر مملکت ممنون حسین،سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف،سابق مشیرخارجہ سرتاج عزیز اور سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار سے بار بار رابطہ کرکے ’’ایک خط‘‘ کیلئے درخواستیں اور آخر میں التجائیں کرتے رہے لیکن حکمرانوں کے ’پتھر دل’’ موم‘‘ نہ ہوسکے ۔ ان 9 ماہ میںملک بھر میں عوام،عافیہ موومنٹ کے رضاکاروں اور مختلف سیاسی و دینی جماعتوں نے عافیہ کی حمایت میںجدوجہدکا سلسلہ شروع کیا۔اس دوران میں حیدرآباد، پشاور،لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کئی دیگر شہروں میں گئی اور جہاں پر ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مختلف سیاسی، سماجی اور دینی جماعتوں اور عافیہ موومنٹ کے جلسے، جلوسوں اور ریلیوں میں شرکت اورپریس کانفرنسوں سے خطاب بھی کیا۔ جیسے جیسے امریکی صدر باراک اوبامہ کی سبکدوشی کی تاریخ 20 جنوری نزدیک آتی گئی،ملک کے کونے کونے سے عافیہ کی وطن واپسی کیلئے خط لکھنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بالواسطہ اور بلاواسطہ پیغامات آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ عافیہ کو جلد بارٹر سسٹم کے تحت واپس لانے کی خوشخبری پوری قوم کو دی جائے گی۔ جہاں آپ کے گھرانے نے اتنا صبر کیا اورقربانیاں دی ہیں تو ملک و قوم کیلئے کچھ دن اور صبرکرنے کی قربانی دے دیں۔۲۰جنوری کا دن ہی نہیں گزر گیا، 2017 کا سال بھی گزرنے والا ہے۔’’ کیا یہ 2017 کا المیہ نہیں ہے کہ عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کا ایک اور موقع حکمرانوں اور ارباب اختیار نے گنوا دیا‘‘ جس کے باعث عافیہ کاایک اور سال جرم بے گناہی کی پاداش میں امریکی قید تنہائی میں گزر گیا۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی دیگر سیاستدانوں اور اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح عافیہ کو قوم کی بیٹی کہا تھا۔ 2013 میں برسراقتدار آنے کے فوراََ بعدعافیہ کی والدہ عصمت صدیقی اور بیٹی مریم سے ملاقات میں عافیہ کو 100 دن میں واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ میاں محمد نواز شریف تو اقتدار میں نہیں رہے لیکن ان کی جماعت مسلم لیگ ن اب بھی برسراقتدار ہے۔ میاں صاحب کے پاس غالباََ اپنے وعدوں کی تکمیل کا آخری موقع اب بھی باقی ہے۔گزشتہ ڈھائی سالوں میں عافیہ سے ٹیلی فون پر ہونے والی چند منٹ کی بات چیت کا سلسلہ بھی منقطع ہوچکا ہے۔ اس سے قبل عافیہ کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔ اس سال مارچ کے مہینے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اہلخانہ کو پتہ چلا کہ ہیوسٹن امریکہ کے پاکستانی قونصل خانے کی قونصلر جنرل عائشہ فاروقی عافیہ سے ملاقات کرنے جیل گئی تھیں۔ عائشہ فاروقی کا بیان ہے کہ جنیوا کنونشن کی شق 2047 کا حوالہ دینے پر انہیں ملاقات کیلئے اس بیرک تک لے جایا گیاجہاں عافیہ قید ہے۔ عائشہ فاروقی بتاتی ہیں کہ ’’سلاخوں کے پیچھے بیڈ پر ایک خاتون منہ پر چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھی۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہڈیوں اور گوشت کا ڈھیر بیڈ پر دھرا ہو، بے حس و بے حرکت۔ جیل حکام کی جانب سے بتایا گیاکہ یہی عافیہ ہے‘‘۔ عافیہ کی صحت کی تشویشناک اطلاعات کے بعد حکومت سے کئی بارعافیہ سے ملاقات کرانے کی درخواست کی جاچکی ہے۔ عافیہ کی ضعیف اور باہمت والدہ اپنی بیٹی اوردونوں بچے احمد و مریم اپنی ماںسے ساڑھے 14 سال سے ملاقات کیلئے ترس گئے ہیں۔ میں خود بھی اپنی بہن عافیہ سے ملنا چاہتی ہوں تاکہ بحیثیت ڈاکٹر عافیہ کی صحت کا اندازہ کرسکوں ۔میری حکومت وقت اور ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ ہماری عافیہ سے ملاقات کرانے کا سرکاری طور پر بندوبست کیا جائے جس کے تمام تر اخراجات ہم نجی طور پر برداشت کریں گے ۔ایک بھارتی خاتون کو نیویارک میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی پرمقامی پولیس نے گرفتار کیاتو فوری طور پر انڈیا میں گویا ایک بھونچال آگیا۔ وہاں کی حکومت، اپوزیشن، فوج،ریاستی ادارے، سول سوسائٹی اور عام آدمی قومی یکجہتی کے ساتھ سراپا احتجاج ہوئے۔یہاں تک معاملہ امریکہ سے سفارتی تعلقات توڑنے کی حد تک پہنچ گیا ۔جس پر امریکیوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے ۔ ہر براعظم میں عافیہ کی رہائی کیلئے آواز بلند کی جارہی ہے۔تیزی سے اختتام پذیر اس سال 2017ء میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے ایک اہم اور المناک واقعہ یہ بھی ہے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی قیدناحق کا خاتمہ اور وطن واپسی ’’سابق وزیراعظم نوازشریف یا صدرمملکت ممنون حسین کے ایک خط‘‘ نہ لکھنے کی وجہ سے نہ ہوسکی۔

متعلقہ خبریں