Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سعید بن مسیبؒ مشہور تابعی تھے بلکہ انہیں سید التابعین (تابعین کا سردار) بھی کہا جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سمیت بڑے بڑے صحابہ کرامؓ کے شاگرد تھے۔ ان کے علم کا چرچا دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ جلیل القدر تابعی تھے اور حضرت قتادہؒ کہا کرتے تھے کہ میں نے حضرت سعید بن مسیبؒ سے زیادہ علم رکھنے والا کسی اور کو نہیں دیکھا۔ خود حضرت سعید بن مسیبؒ کہا کرتے تھے :

حضرت سعید بن مسیبؒ حلم کے ساتھ ساتھ عمل بھی کیا کرتے تھے بلکہ ان کا بیان ہے:

’’40سال سے کوئی با جماعت نماز مجھ سے فوت نہیں ہوئی۔‘‘ علاوہ ازیں رسول اکرمؐ کی احادیث کے متعلق جب آپؒ سے سوال کیا جاتا تو نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ جواب دیا کرتے تھے۔ جان کنی کے عالم میں ایک حدیث کے متعلق آپؒ سے پوچھا گیا تو آپؒ نے فرمایا:

’’ مجھے اٹھا کر بٹھا دو!‘‘

’’ مجھے اٹھا کر بٹھا دو!‘‘

لوگوں نے عرض کیا : آپ تو سخت مریض ہیں۔

آپ نے فرمایا:

’’ مجھے اٹھا کر بٹھا دو۔ مجھ سے میرے حبیبؐ کے کلام کے بارے میں پوچھا جائے اور میں لیٹ کر جواب دوں یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘تاریخ بیان کرتی ہے کہ عظیم فاتح سلطان محمود غزنویؒ کو ایک بار عجیب وہم نے گھیر لیا لیکن یہی وہم بعد میں ایسا تریاق ثابت ہوا کہ ان کی شخصیت ہی بدل گئی۔ سلطان محمود غزنویؒ کی صورت اچھی نہ تھی۔ ایک روز وہ اپنے حجرہ خاص میں نماز پڑھ رہے تھے کہ دو غلاموں نے ان کے سامنے آئینہ اور کنگھی لا کر رکھ دی۔ اسی وقت ان کا وزیر احمد حسن حجرے میں آیا اور تعظیم بجا لایا۔ سلطان محمودؒ نے نماز پڑھ کر اپنی قبا پہنی اوپر کلاہ رکھی‘ پھر آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے احمد حسن سے دریافت کیا ’’ کیا تم بتا سکتے ہو کہ اس وقت میرے دل میں کیا خیال ہے‘‘۔

وزیر نے کہا’’ سلطان معظم‘ خود ہی بتائیں۔‘‘

سلطان محمود نے کہا ’’ میں ڈرتا ہوں کہ لوگ مجھ کو اپنا دوست نہیں سمجھتے ہوں گے کیونکہ لوگ ایسے بادشاہ کو اپنا دوست سمجھنے کے عادی ہیں جس کی صورت بھی اچھی ہو۔‘‘احمد حسن نے کہا’’ سلطان معظم‘ ایک ہی کام سے لوگ آپ کو اپنی جان اور اپنے زن و فرزند سے زیادہ عزیز رکھ سکتے ہیں اور آپ کا فرمان آگ اور پانی پر بھی جاری ہوسکتا ہے۔‘‘

سلطان نے پوچھا’’ وہ کیاکام ہے؟‘‘

احمد حسن نے کہا’’ دولت کو اپنا دشمن سمجھیں‘ پھر تمام لوگ آپ کے دوست ہو جائیں گے۔‘‘

سلطان محمودؒ کو یہ بات پسند آگئی اور اس کے بعد ہی ان کا ہاتھ بخشش اور خیرات کے لئے کشادہ ہوگیا۔ انہوں نے دلوں کو فتح کیا۔ سترہ حملے کرکے ہندوستان فتح کیا۔ آج مسلمان اس عظیم مسلمان فاتح پر فخر کرتے ہیں جس نے اپنی ظاہری خوبصورتی کے بجائے باطنی خوبیوں سے کارہائے نمایاں ادا کئے۔

متعلقہ خبریں