توانائی کی جامع پالیسی

توانائی کی جامع پالیسی

وزیر اعظم نواز شریف سمیت حکمران مسلم لیگ کے قائدین کے ایسے بیانات اکثر دیکھنے میںآتے ہیں کہ 2018ء تک توانائی کے بحران پر قابو پالیا جائے گا اور لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ توانائی کو ترستی قوم کے لیے یہ بیانات خوش آئند نظر آتے ہیں کہ آخر کار حکومت کی طرف سے توانائی کا بحران ختم کرنے کے لیے کوئی ٹائم فریم دیا جا رہا ہے۔ تاہم وزراء اور سرکاری ذمہ دار یہ وضاحت نہیںکرتے کہ ملک میں توانائی کی ضرورت کتنی ہے اور کتنی میسر ہے اور یہ کہ 2018ء تک یہ ضرورت کتنی ہو جائے گی اور اس سال کے بعد ضرورت میں کتنا اضافہ متوقع ہے۔صنعت' زراعت او رعام زندگی کے لیے توانائی کی ضرورت کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت نہیںہونی چاہیے تاہم اس کی صورت حال کے بہتر ہونے کے بارے میں سرکاری ترجمان عوام کوتفصیل کے ساتھ اعتماد میں لیتے نظر نہیںآتے جو ایسے وعدوں کی یاد دلاتے ہیں جو پورے نہ ہو سکے۔ اس لیے حکومت کے ترجمانوں کو عوام کی معلومات کے لیے یہ واضح کرنا چاہیے کہ ملک کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پر پورا اترنے کے لیے جن منصوبوں پر کام ہو رہا ہے ان سے کتنی توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ دوسرے ان بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ توانائی کی فراہمی کی پالیسی 2018ء کے عام انتخابات کے ساتھ منسلک ہے، جب حکمران پارٹی کہہ سکے گی کہ عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا گیا ہے ۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی ہے اس لیے حکمران جماعت کو اعتماد کا ووٹ دیا جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ توانائی کی فراہمی کے لیے کوئی ٹائم فریم ہونا چاہیے لیکن عام انتخابات کے سال کے ساتھ اس کا وابستہ ہونا حکومت کے اقدامات کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔ اور یہ بھی تاثر دیتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ توانائی کی فراہمی قومی خوش حالی کے لیے ضروری ہے جس کی ضرورت 2018ء کے بعد بھی نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اس میں اضافہ ہو تا رہے گا۔ حکومت کے اقدامات پر عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ توانائی کے لیے جن منصوبوں پر حکومت عمل کر رہی ہے ان کی تفصیل پارلیمنٹ میں لائی جائے اور توانائی کی پالیسی پر سیر حاصل بحث کی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کوئلہ سے حاصل کی جانے والی کتنی توانائی کب تک میسر آئے گی اور ماحول پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ایٹمی توانائی میں اضافے کی کیا منصوبہ بندی ہے جو ماحول دوست ہے۔ ماحول دوست پانی سے حاصل ہونے والی توانائی کے ذرائع کو بروئے کار لانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متبادل توانائی پر کتنی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت کے توانائی سے متعلق بیانات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ زیادہ تر زور کوئلے سے تیار کی جانے والی توانائی پر ہے۔ حتیٰ کہ گلگت بلتستان میں بھی جہاں آبی گزرگاہوں سے چھوٹے چھوٹے پلانٹ لگا کر اتنی توانائی حاصل کی جا سکتی ہے کہ جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ملکی ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تھرمل بجلی کا بندوبست کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں چند سال پہلے متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں صوبے کی آبی گزرگاہوں پر بیس سے زیادہ مقامات پر ہائیڈل پاور پلانٹ لگانے کے امکانات ایک سروے کے بعد سامنے آئے تھے۔ اور چند مقامات کی فیزیبلٹی رپورٹ بھی امکان غالب ہے کہ تیار کی گئی تھی۔ اس کے بعد سیاسی تبدیلی آ گئی اور یہ خبریں مفقود الخبر ہو گئیں۔ یہ امکانات بھی خبروں کا حصہ بنے کہ ملک کے ایک ہزار میل لمبے ساحل سے سمندر کی لہروں سے بجلی تیار کی جا سکتی ہے۔ اس امکان کو حقیقت بنانے کے لیے کیا کیا گیا اس کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہ آئیں۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ ملک میں سورج سے روشن وسیع علاقہ ہے جہاں سے شمسی توانائی تیار کی جا سکتی ہے۔ اب سی پیک کے معاہدے کے تحت کہا جارہا ہے کہ شمسی توانائی کا ایک پارک بنایا جارہا ہے۔ اس سے کتنی بجلی تیار ہو گی اس پر کیا لاگت آئے گی اور اس کی دیکھ بھال پر کتنا خرچ آئے گا یہ عام معلومات کا حصہ نہیں ہے۔ یہ بھی سنا گیا کہ متبادل توانائی کمیشن نے نہروں کے بہاؤ سے بجلی تیار کرنے والا چھوٹا ٹربائن تیار کر لیا ہے ۔ لیکن یہ چھوٹے ٹربائن کہاں لگے اس کی کوئی خبر نہیں۔ شاید ان کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔ ایسے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد شروع کر لیا جاتا تو آج توانائی کا بحران شدید نہ ہوتا۔نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو توانائی کا شدید بحران اور اس پر عوام کا شدید احتجاج ورثے میں ملا ۔ موجودہ حکومت کو توانائی کا بحران اور اس پر عوامی احتجاج ہی ورثے میں نہیں ملا بلکہ اس ورثے میں توانائی کے حوالے سے وہ مطالعات اور منصوبے بھی ملے تھے جن پر مشرف دور سے کام ہو رہا تھا۔ سابق امریکی وزیر توانائی بھی پاکستان آئے تھے اور انکے ساتھ شمسی توانائی کے بارے میں مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس دور میں خیبرپختونخوا کی آبی گزرگاہوں سے بجلی پیدا کرنے کے مطالعات بھی ہوئے تھے جن کا ذکرسطور بالا میں کیا جا چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں ایران کے ساتھ 22ملین مکعب فٹ گیس کی فراہمی کا معاہدہ بھی ہوا تھا۔ بھاؤ بھی طے پا گیا تھا۔ سابق صدر ایران محمود احمدی نژاد کے دور میں اس معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے تھے جس کے مطابق پاکستان اور ایران نے اپنے علاقے میں تنصیبات تعمیر کرنی تھیں ۔ ایران اپنے ذمے کا کام کر چکا ہے لیکن پاکستان میں اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ اس کے بارے میں ایران نے یہ معاہدہ منسوخ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان میں پائپ لائن نہ بچھانے کی وجہ ممکن ہے امریکی دباؤ ہو ۔ تاہم خود امریکہ نے جب ایران پر پابندیاں ختم کر دیں تو معاہدے پر عمل درآمد شروع کیا جا سکتا تھا۔ لیکن قرائن سے ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت کی توانائی پالیسی کا ہدف، توانائی بحران سے پیدا ہونے والے عوامی احتجاج سے عہدہ برآء ہونا ہے جب کہ توانائی پالیسی نہ صرف آج کی ضرورت کے حوالے سے بنائی جانی چاہیے بلکہ مستقبل کے ترقی پذیر پاکستان کی ضرورت کو مدِنظر رکھ کر بنائی جانی چاہیے تھی۔ اس میں توانائی کے فوری اور مستقبل میں دستیاب وسائل اور ذرائع کا احاطہ کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن حکومت نے جلد از جلد بحران پر قابو پانے اور احتجاج سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوئلے سے تیار کی جانے والی بجلی پر زیادہ انحصار کیا ہے۔ کوئلے سے تیار کی جانے والی بجلی ایک تو آبی گزرگاہوں سے تیار کی جانے والی بجلی سے مہنگی پڑتی ہے۔ دوسرے اس سے ماحول پر برااثر پڑنے کا اندیشہ ہے جس کی وسعت کا اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا۔ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ توانائی محض آج کی ضرورت نہیں بلکہ مستقبل میں اس کی ضرورت کے بڑھنے کے امکانات ہیں۔ توانائی پر پارلیمنٹ میں سیر حاصل بحث ہونی چاہیے اور توانائی کی فراہمی کو انتخابی ' سیاسی تقاضوں سے منسلک کرنے کی بجائے مستقبل کی ضروریات اور اس کے تابع ہونا چاہیے اور اس میں ماحول دوست توانائی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

اداریہ