نوعمر دہشت گرد

نوعمر دہشت گرد

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی طرف سے ایک نہایت تشویش ناک الرٹ گردش کر رہی ہے کہ بلوچستان ریوولوشنری آرمی نے متعدد نو عمر دہشت گرد پاکستان میں داخل کیے ہیں جنہیںبلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں غیر ملکی کمپنیوں کے دفاتر اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ ان دہشت گردوں کی عمریں دس سے بارہ سال کے درمیان ہیں۔ مقصدکوئی بھی ہو اس کے لیے نوعمر بچوںکو موت کے منہ میں جھونکنا ایسی حرکت ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی ایک ذمہ دار ادارہ ہے جو مشکوک اطلاعات پر الرٹ جاری نہیں کر سکتا۔ اس لیے اب امن وا مان اور قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے اہل کاروں کو نو عمر بچوںکی حرکات و سکنات پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ان بچوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی ہے۔ اس لیے ان راستوں پربھی نظر رکھنا ضروری ہے جو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے لیے خفیہ یا اعلانیہ طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس اطلاع میں یہ بات اہم ہے کہ ان مبینہ دہشت گردوںکی عمریں دس اور بارہ سال کے درمیان ہیں اس لیے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ یہ بچے اپنے سہولت کار بڑوں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں اور ایسے ہی ساتھیوں کے ساتھ مقیم ہوں گے۔ اس سے یہ بھی واضح ہے کہ ان کے بالغ سہولت کار ہی ان کے لیے دہشت گردی کا سامان مہیا کریں گے۔ کیونکہ کوئی بچہ اکیلا مشتبہ سامان کے ساتھ سفر نہیں کرتا۔ اس لیے ایسے گھرانوں اور ٹھکانوں پر نظر رکھنا ہو گی جہاں اجنبی بچے مہمان کے طور پر آئے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی ہو سکتے ہیں جو پچھلے کچھ عرصہ سے اپنے گھروں سے غائب رہے ہیں۔ اگر ان تمام دہشت گردوں کی عمریں دس سے بارہ سال کے درمیان ہیں تو ان کا زیادہ عرصے پوشیدہ رہنا مشکل ہوگا۔ ایسے بچے جب اپنی کمین گاہوں سے نکلیں گے تو مشتبہ حرکات ان سے سرزد ہوں گی۔ جب وہ تنہا اپنے اہداف کی طرف جائیں گے تو بھی پہچانے جائیں گے۔ اس لیے ان کے تنہا حملے کرنے کا امکان کم ہی ہو سکتا ہے۔ یہ بچے اپنے بڑے ساتھیوں کے لیے کیموفلاج یا ڈھال کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس لیے بڑی عمر کے افراد کے ساتھ چلنے پھرنے والے نوعمر بچوں کو بھی نظر میں رکھا جا سکتا ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ جلد ہی یہ کم عمر دہشت گرد قومی سلامتی کے ذمہ دار اہل کاروں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔

اداریہ