Daily Mashriq

یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے

یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے

اسمبلی میں جو ہنگامہ بپا ہوا اس حوالے سے مسلسل بات چیت جاری ہے۔ کبھی فوٹیج دیکھتے ہیں' کبھی لوگوں کے بیانات سنتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ حکومتی اراکین نے بے وجہ ہی جھگڑا کرلیا۔ عباسی صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے بڑی نرمی سے بات کی جبکہ اسپیکر کہتے ہیں کہ معزز اراکین اسمبلی کا خیال ہے کہ غلطی دونوں جانب سے ہوئی۔ پہل کس نے کی؟ کیا ہوا' اصل وجوہات کیا تھیں' کون ذمہ دار تھا میرے خیال میں یہ سب فروعی باتیں ہیں۔ اور سچ پوچھئے تو میں سمجھتی ہوں کہ اس سارے معاملے کو یوں طول دینا یا اتنی اہمیت دینا کہ لوگ اس حوالے سے چھان بین کریں یا تجزئے کریں کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ تو ایسے ہی ہیں شاہ کی وفاداری میں آپے سے نکلے ہوئے۔

افسوس تو اس بات کا ہونا چاہئے کہ ہم نے ان لوگوں کو ووٹ دئیے ہیں۔ ان کو اپنے مستقبل کے فیصلوں کے اہل سمجھا' ان پر اعتماد کیا۔ یہ لوگ تو ایوان میں مل بیٹھنے کے اہل نہیں۔ یہ بات کریں تو ان کی باتوں سے فضولیات کی بو آتی ہے۔ یہ لوگ ہمارے نمائندہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ یہ ہمارا آئینہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ پاناما کیس سے زیادہ تو اس ملک کے لوگ اس وقت اس کشمکش کا شکار ہیں۔ بد عنوانی کی بات نہیں بدعنوان تو یہ سارے ہی ہیں۔ جسٹس کھوسہ نے بھی عدالت میں اس بات کی تصدیق کردی جب انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کو کہا کہ 62,63 کی بات ہوگی تو یہاں صرف سراج الحق ہی باقی رہ جائیں گے۔ وہ بالکل درست کہتے تھے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو انہونی ہو' اچنبھے کی ہو یا ہمارے لئے نئی ہو۔ ہمارے لیڈران کا یہی حال ہے۔ جس ملک کے وزیر اعظم پر بد عنوانی کا الزام ہو اس کا کیس عدالت میں ہو اور اس میں یہ اخلاقی جرأت نہ ہو کہ وہ دیگر کئی اور ملکوں کے سیاست دانوں کی طرح مستعفی ہوجائیں جن کے جھوٹ عوام کے سامنے ہوں لیکن انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے لئے اپنی صفوں میں پیادے کھڑے کئے ہوں' جو صبح و شام مغلظات سے اس قوم کے کانوں میں سیسہ بھرتے ہوں۔ جس ملک کی اپوزیشن میں شائستگی ہی نہ ہو اور اس کھیل کا آغاز ہی انہوں نے گالم گلوچ سے کیا ہو اس ملک کے عوام میں اتنی سمجھ بوجھ تو ہونی چاہئے کہ ان میں سے ہر ایک یہ ارادہ کرلے کہ وہ کم از کم ایسے لوگوں کو اب ووٹ نہ دیں گے۔ وہ یہ ٹھان لیں کہ چونکہ ان نمائندوں نے خواہ وہ کسی کی صف میں بھی کھڑے ہیں' عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اس لئے ان کے رویے سے اپنا اختلاف اور نا پسندیدگی ظاہر کرنے کے لئے وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔ یہ درست ہے کہ بد لحاظی کی اس سیاست میں کئی پارلیمانی سیکرٹری بھی ابتداء میں پیش پیش رہے ہیں اور انہیں بعد میں ان کی اس بدتمیزی کے جواب میں انعام و اکرام سے نوازا گیاہے لیکن یہ بات واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ جمہوری بادشاہت میں ' بادشاہ سلامت اس قدر مطلق العنان نہیں ہوسکتے جتنے گزشتہ زمانوں میں ہوا کرتے تھے۔ اب بادشاہوں کو بھی عوام کی مرضی کا کچھ نہ کچھ خیال رکھنا پڑتا ہے۔
اب ضروری ہے کہ بادشاہ سلامت کو یہ بھی سمجھ آجائے کہ عوام حساب بھی مانگیں گے اور بد تمیزی و بد لحاظی پر اپنا رد عمل بھی ظاہر کریں گے۔ پاکستان کے عوام میں ابھی یہ شعور پور ے طور اجاگر نہ بھی ہوا ہو کہ ان کے ووٹ میں کتنی طاقت ہے اس کے باوجود وہ اپنے بہت سے حقوق سے آگاہ ہوچکے ہیں۔ بحیثیت قوم ہمارا ایک المیہ ہے جس کی جڑیں ہمارے ماضی میں ملتی ہیں۔ بر صغیر میں انگریزوں کی حکومت میں مسلمانوں نے تو انگریزی تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کی اور معیشت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ اس کے کئی نقصانات ہوئے۔ آگے نکل جانے والوں کے حسد نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے' سمجھ بوجھ اور سیاسی فہم میں بھی پیچھے رہ گئے۔ جس وقت بر صغیر میں 1885ء میں کانگریس کی بنیاد رکھی گئی اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اپنی ہی کسمپرسی میں گم تھی۔ 1906ء میں مسلم لیگ تو بن گئی لیکن مسلمان اپنے ہی کشمکش حیات کے بھنور میں الجھے ہوئے تھے۔ مٹھی بھر لوگوں کی کوششوں سے پاکستان بن گیا لیکن مسلمان قوم نہ بن سکے اور پھر پے در پے مار شل لائ۔ سیاسی حس تو بہت دیر سے بیدار ہوئی پھر طفل مکتب ہی رہی۔ اب بھی ہمیں نہ تو اپنے حقوق کا بھرپور اندازہ ہے اور نہ ہی ہم سیاست دانوں کی گرفت کے خیال سے آزادہوئے ہیں۔ قریباً ڈیڑھ سو سال سے پژمردہ معیشت کی قید میں محصور اس قوم کو اپنی طاقت کا احساس نہیں۔ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ وہ چڑیاں ہیں جو اپنا جال لے کر اڑ بھی سکتی ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ جمہوری نظام کے سیاست دان کو عوامی مرض کا غلام ہونا پڑتا ہے۔ ان کے غلط روئیے عوام کو منحرف بھی کرسکتے ہیں اور سیاست دانوں کا مستقبل ختم بھی ہوسکتا ہے۔ ابھی تک ہمیں اپنی اس طاقت کا احساس نہیں اور ابھی یہ اعتماد ہونے میں کچھ عرصہ لگے گا۔
جب ایک بار کسی سیاست دان کو اپنے حلقے میں کئے اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے ' جب ایک بار ایوان کے فلور پر بد تمیزی کرنے کی پاداش میں کسی سیاستدان کو اپنا اگلا الیکشن ہارنا پڑے' جب کسی جلسے میں مخالفین کے بارے میں برا بولنے کے بعد اگلی بار اس جلسے میں لوگ نہ جائیں تو ان سیاست دانوں کو سمجھ آسکتی ہے۔ تب انہیں معلوم ہوگا کہ عوام اب یہ سب برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن جب تک یہ آگہی ووٹ دینے والوں میں نہ ہوگی' جب تک یہ طاقت کا احساس ووٹ دینے والوں میں نہ جاگے گا اس وقت تک عدالتوں کے فیصلوں سے بھی کچھ نہ ہوگا۔ اس وقت تک یہ سب ایسے ہی رہے گا۔ یہ حل تو خود ہی تلاش کرنا ہے۔ یہ فیصلے ہمارے روئیے بہتر کرسکیں گے۔

اداریہ