ایوان کے تقدس کا سوال

ایوان کے تقدس کا سوال

فرانسیسی لیڈر چارلس ڈیگال کا کہنا ہے کہ جب حالات کے چیلنج کا سامنا ہوتو مضبوط اعصاب کا مالک اور صاحب کردار لیڈراپنے آپ پر تکیہ کرتے ہوئے ان چیلنجز سے نکلنے کی تدبیر کرتا ہے۔ خود انحصاری کے خوگر لیڈر کو مشکلات میں ایک خاص کشش محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ صرف مشکلات کا مقابلہ کرکے ہی وہ اپنی صلاحیتوں کی آزمائش اور افزائش کر سکتاہے۔ فیصلے کی گھڑی میں وہ گھبراتا نہیں، بلکہ پہل کاری سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کرتا ہے۔ سیاست میں خطرات مول لینے سے مراد حوصلہ مندی اور درست وقت پر فیصلہ کرنے کا ارادہ اور اہلیت ہے۔ حوصلے پر گفتگو کرتے ہوئے ایک مرتبہ چرچل نے کہا '' ہمت و حوصلے کے بغیر دوسری تمام اچھی خصوصیات بے معنی ہو جاتی ہیں۔'' ان تمام تر حقائق کے برعکس گزشتہ روز پاکستان کی پارلیمنٹ میںارکان اسمبلی کے درمیان جو ہنگامہ آرائی ہوئی اسے پوری قوم نے دیکھا۔ حزب اختلاف اور حکومتی جماعت کے مابین قومی اسمبلی کے اجلاس میںہونے والی ہاتھاپائی نے اس تاثر کواور مستحکم کر دیا کہ دونوں جماعتیں پانامہ لیکس کے حوالے سے بے صبری پر اُتر آئی ہیں۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف اب دلائل کی جنگ ہار کر ایک دوسرے کے خلاف ناقابل برداشت اقدامات کی طرف مائل ہیں۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے جو ہنگامہ آرائی پورے ملک میں ہوئی اس سے کسی بڑے نقصان کا خدشہ ہوچلا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جب خدشات کو منڈلاتے دیکھا تو پانامہ لیکس کیس کی سماعت کی حامی بھرلی، جسے حزب اختلاف اور حکومتی جماعت دونوں نے قبول کیا۔ پانامہ لیکس کیس کی ابتدائی سماعتوںکے بعد اس کیس کی سماعت یومیہ بنیادوں پر ہونے لگی، چونکہ کیس انتہائی اہم ہے وقت کے وزیر اعظم اوران کی فیملی کے ملوث ہونے کے الزامات ہیں اس لیے اعلیٰ عدلیہ ٹھوس ثبوتوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس تناظر میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں جماعتیں مدعی اور مدعا علیہ اپنے حصے کے ثبوت فراہم کرتیں اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کیا جاتا۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی ایوان بالا میں دونوں جماعتیں گتھم گتھا نظر آئیں تو اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ اسمبلی میں عوام کا مینڈیٹ لے کر جانے والے ارکان اسمبلی کے پاس اتنا حوصلہ بھی نہیں ہے کہ وہ آپس میں بیٹھ کر شائستگی سے بات کر سکیں۔ ایوان میں لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا جب حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پانچ ارکان نے اسپیکر سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرانے کی اجازت مانگی، اسمبلی میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے خطاب کے دوران یہ معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب تحریک انصاف کے ارکان نے حکومت اور وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف نعرے بھی لگانے شروع کر دیے۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے اس ہنگامہ آرائی پر موقف اختیار کیا کہ شاہد خاقان عباسی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر تحریک انصاف کے ارکان خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے محرکات جوبھی ہوں مگر یہ بات بالکل واضح تھی کہ ارکان اسمبلی کسی کے قابو میںنہیں آ رہے تھے یوں کسی ایک گروپ پر اس ہنگامہ آرائی کی ذمہ دار ی ڈالنا قرین قیاس نہ ہو گا۔ ارکان کی ایک دوسرے پر مکوںکی بارش میں سپیکر نے سیکورٹی گارڈ کو بلایا، اور جب دیکھا کہ بار بارکی تنبیہہ کے باوجود پرامن رہنے کی اپیل کاکوئی اثر نہیں ہو رہا تو اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی معطل کردی۔ واضح رہے کہ اسمبلی میں دنگل کی اصل وجہ پانامہ لیکس ہی تھی۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے درخواست کی تھی کہ وہ تحریک استحقاق پیش کرنے والے ہر رکن کو بولنے کے لیے دو دو منٹ دیں جس کے بعد حکومت اپنا موقف پیش کرے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کو ئی نئی بات نہیں بلکہ سیاسی جماعتوںکے ارکان ایک دوسرے کے خلاف انتہائی غیر شائستہ جملوں کو اچھالنے سے لے کر انہیں طنز کا ہدف بنانے کی بہت پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔مگر پاکستان کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ حکمران جماعت کے سربراہ اوروزیراعظم نواز شریف پانامہ لیکس کے معاملے میں تحریک انصاف کی سخت ترین تنقید کی زد میں ہیں۔ نواز شریف ایک طرف اپنے پورے خاندان کے ساتھ عدالتی دباؤ میں ہیں تو دوسری طرف انہیں سیاسی طور پر مسلسل بدعنوانی کے الزامات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے، جس نے انکی اخلاقی اساس کو کمزور کر دیا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف اس دباؤ میںدکھائی دیتی ہے کہ اگر ان کی مسلم لیگ ن کے خلاف مسلسل محاذ آرائی کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہ نکل سکا تو انہیں مستقبل میں سخت سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا نتیجہ انتخابی ناکامیوں کی صورت میںنکل سکتا ہے۔ ان حالات کے باعث دونوں جماعتیںاپنے اپنے سیاسی مستقبل کے دباؤ میں ایک دوسرے کو کوئی گنجائش دیتی دکھائی نہیںدے رہیں' جس کے اثرات اب عدالتی محاذ سے پارلیمانی محاذ پر بھی پڑ رہے ہیں۔ عوام چونکہ سادہ لوح ہوتے ہیں وہ اس تفصیل میںنہیں پڑتے کہ غلطی کس کی تھی اورلڑائی کیوں ہوئی' ایک عام شخص صرف یہی سوچتا ہے کہ ایوان میںارکان اسمبلی سے اس طرح کی ہنگامہ آرائی کی توقع نہیں کی جا سکتی جس سے ایوان کا تقدس پامال ہو۔ 

اداریہ