ٹرمپ بازیاں

ٹرمپ بازیاں

امریکا میں ایک طرف ان دنوں شدید برفباری اور ژالہ باری ہو رہی ہے تو دوسری جانب سے ٹرمپ سیا سی گولہ باری کر رہے ہیں۔ ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکا کو تنہا کر نے پر تلے ہوئے ہیں ، چھ مسلمان ممالک پر ویزہ کی جو پا بندی عائد کی گئی ہے اس سے خود امریکا پریشان ہو گا کیو ں کہ اس کو ہنر مند اور باصلا حیت افراد کی دستیا بی معطل ہو جائے گی۔ انٹر نیٹ کی سب سے بڑی سرچ ایجنسی گوگل نے اس بند ش پر اعتراض کیا ہے گوگل سرچ انجن کے ایگزیکٹیوافسر اوسندر پچائی نے سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلا ف صدر امر یکا کے متنا زعہ امیگریشن حکم کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے کا فی صلا حیت رکھنے والو ں کو امریکا لانے میں رکاوٹیں پید ا ہو ں گی۔ اسی طر ح دیگر ادارو ں میں بھی صورت حال گمبھیر ہو رہی ہے ۔فیس بک کے سی ای او ما رک زکر برگ نے بھی امیگریشن کی نئی پا بندیو ں پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا امیگریشن کا ملک ہے جس پر اس کو فخر کرنا چاہیے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے صدارت کاعہدہ سنبھالا ہے ، تب سے جو اقداما ت کیے ہیں ان میں رنگ ونسل کے تعصب کے علا وہ عالمی حکمر انی کا تکبر بھی عیا ں ہے ، گو ٹرمپ عوامی سطح پر ایک متنا زعہ صدر ہیں جس دن انہو ں نے حلف اٹھا یا اسی رو ز امریکی صدارتی محل کے سامنے ایک اطلا ع کے مطا بق بیس لا کھ افر اد نے ٹرمپ کے خلا ف مظاہر ہ کیا تھا ، ان کی مد مقابل امید وار ہیلر ی کلنٹن نے ٹرمپ سے اٹھائیس لا کھ ووٹ زیادہ لیے مگر وہ الیکٹورل ووٹ میں شکست کھا گئیں ، جس کے بعد عوام کی جانب سے ٹرمپ کے خلا ف احتجا جی مظاہر و ں کا سلسلہ شروع ہو ا ، مگر ہیلر ی کلنٹن نے ان احتجا جی مظاہر و ں سے کوئی سیاسی فائد ہ اٹھانے کی سعی نہ کی۔ عمران خان کو سیاست کا درس ہیلری کلنٹن سے لینا چاہیے کہ انہوں نے قوم کے چار سال سڑکو ں پر محض الزاما ت لگا لگا کر ضائع کیے ، قومی اسمبلی میں انہوں نے اور ان کی پا رٹی نے کوئی کا رکر دگی نہیںدکھا ئی جب کہ پا رلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے تنخواہیں اوردیگر مراعات وصول کرتے رہے ۔اب جبکہ انہوں پا نا ما لیکس کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کا در وازہ کھٹکھٹا یا ہے تو ان کو یہ بھی معلوم ہو نا چاہیے کہ درو ازے پر دستک کے بھی اصول ہو تے ہیں وہ ہر رو ز سپر یم کو ر ٹ کی سماعت کے بعد اپنی عدالت لگا کر فیصلے سنا تے رہتے ہیں ۔ غالباً ان حالا ت کی وجہ سے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کر اچی میںسارک ممالک کی لا ء کا نفرنس کی پچیسویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے کہا ہے کہ عدلیہ کی بنیا دی ذمہ داری جلد اور فوری انصاف فراہم کر نا ہے ، ہر سائل کا حق ہے کہ اس کو انصاف ملے ، اسی طرح بنیادی حقو ْق پر عمل درآمد کر انا بھی عدلیہ کا فر ض ہے ۔موصوف نے فرمایاکہ عدالتی نظام پر حملے ہو رہے ہیں ، عدلیہ کسی دباؤ کے بغیر فیصلہ کرنے کی پا بند ، آئین نے انتظامیہ کو اختیارات سے تجا وز سے روکنے کااختیا ر دیا ہے ، ایسے میں جو عنا صر پا نا ما لیکس اور ایسے دیگر مقدمات پر اپنی اپنی عدالتیںلگا ئے ہوئے ہیں عدلیہ کو چاہیے کہ وہ ا س کا نو ٹس لے ۔ ٹرمپ با زیو ں کا پا کستان کے سیا ست دانو ں کو ادراک کر نا چاہیے کہ آئندہ ٹرمپ کی پالیسیو ں کی وجہ سے کیا صورت حال رہے گی ، ٹرمپ نے اپنی کا بینہ کے لیے انیس وزراء کو چنا ہے جو اس وقت کا نگر س کی کمیٹیوں کے شدید احتسابی سوالا ت کو بھگت رہے ہیں ، ان میں سے سترہ سفید فام نسل سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ دو سیا ہ فام کو محض منہ دھو نے کی غر ض سے شامل کر لیا گیاہے ۔ وزراء کے انتخاب سے امریکا واضح طورپر نسلی تعصب میں بٹ گیا ہے۔ امریکا میں سفید نسل کی اکثریت ہے اور ان میںتعصب کو ٹ کو ٹ کر بھراہو اہے یہ تعصب آج کا نہیں ہے صدیو ں پر انا ہے۔ نئے امریکی صدر کیا چاہتے ہیں یہ راز نہیںہے انہو ں نے خود کو امر یکا کا صدر کم بلکہ عالمی حکمران زیادہ سمجھ رکھا ہے اور اسی بنیادپر وہ فیصلے کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ نے بھا رت کے وزیراعظم نریند ر مو دی کوعہد ہ صدارت سنبھالنے کے بعد فو ن کیا تو بھا رتی وزیر اعظم سے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور بھا رت مل کر عالمی کر دار ادا کریں گے ، عمو ما ً ایسے موقع پر حالا ت حاضر ہ کے مطا بق اظہا ر خیال کیا جا تا ہے اور مسائل کے حل میںتعاون اور عالمی امن کی کا وشو ں کی بات ہوتی ہے۔ امریکا اور روس کے تعلقات میں کشیدگی کوئی پو شید ہ بات نہیں ہے مگر روس نے جس طر ح ڈونلڈ کی کا میابی کا جشن منایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی صورت حال کا مستقبل میں کیا حلیہ ہو گا۔ رو س یہ سمجھتا ہے کہ امریکا سوویت یو نین کا شیر ازہ بکھر نے کا ذمہ دار ہے اور وہ یہ بھی چاہتا ہو گا کہ اس شکست کا بدلہ بہر طور کسی طرح نکلے چنا نچہ یہ فطری بات ہے کہ بدلہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ اس کی ریا ستیں بھی بکھر جائیں ، اور ڈونلڈ کی پالیسیاں یہ ہی بتا رہی ہیں کیو ں کہ چو مکھی لڑنے والے عالمی لیڈر سے خو د اس کے اتحادی نا راض ہیں روس ، بھا رت ، اور اسرائیل جہا ں ڈونلڈ سے خوش لگ رہے ہیں وہا ں میکسیکو نے تشویش کا ا ظہار کیا ہے جرمنی کے وائس چانسلر نے ڈونلڈ کے اقتدار کو ہٹلر کی آمریت سے تعبیر کیا ہے۔ جر منی اورامریکا کے مستقبل کے تعلقات میں زبردست تنا ؤ پید ا ہو نے کے امکا نا ت ہیں کیو ں کہ جر منی نے پید اوار ی لا گت میکسیکو میں کم ہو نے کی وجہ سے اپنی کا ریں بی ایم ڈبلیو، واکس ویگن اور ڈائملر وغیر ہ کے لیے میکسیکو میں فیکٹریا ں لگا رکھی ہیں ، جبکہ ان جرمن گا ڑیوں کی امریکا میں ما نگ بہت زیا دہ ہے۔ چنانچہ ڈونلڈ امریکی کا ر سا ز ادارو ںکو تحفظ فراہم کر نے کی غر ض سے میکسیکو سے برآمد ہو نے والی جرمن گا ڑیو ں پر بھا ری ڈیوٹی لگانے والے ہیں جس کی وجہ سے تنا ؤ میں اضافہ ہو گا۔ فرانس بھی کچھ کچھ ناراض لگ رہا ہے گویا ایک طر ف وہ اسرائیل ، بھارت اور روس کو گلے لگا رہا ہے تو دوسری جانب اپنے اتحادی بگڑے نظر آرہے ہیں ۔مگر
'' سمند ر بہت بڑ ا ہو تا ہے مگر پانی اتنا ہی ملتا ہے جتنا لے سکتے ہیں ''

اداریہ