Daily Mashriq


''عدم رواداری ،تعلیم اور سماج''

''عدم رواداری ،تعلیم اور سماج''

معاشرے میں پھیلی بے شمار سماجی برائیوں کو عموماًاس ڈر سے بیان نہیں کیا جاتا کیونکہ ان برائیوں کا تعلق ہم سے ہوتا ہے۔ سماج کی بعض بیماریوں کو مذہب کی وجہ سے بھی ذکر نہیںکیا جاتا کہ ہم میں سے ہر کسی کا کوئی نہ کوئی مسلک ہوتا ہے اور ہم حتی الوسع اپنے مسلک کو ہی درست تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح ہماری سیاست ' تعلیم اور دیگر شعبہ ہائے زندگی بھی مختلف گروہ بندیوں کی جکڑ میں ہوتے ہیں ،ان سماجی برائیوں کے خلاف لکھنے اورآواز اٹھانے کی ہمارے معاشرے میں کسی کو ہمت نہیں ہوتی۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سماجی برائیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ مگر احمد اعجاز نے بڑے سلیقے سے سماجی برائیوں کو نہ صرف بیان کیا بلکہ ان کا سدباب اور پرامن حل بھی پیش کیا ہے۔ وہ اپنی کتاب ''عدم رواداری' تعلیم اور سماج'' میں لکھتے ہیں: تعصب صرف پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں یہ دنیا کے بیشتر انسانوں کا مسئلہ ہے البتہ پاکستانی اس کو بہت عزیز جانتے ہیں۔ تعصب ہی وہ منفی جذبہ ہے جو ہمیںشناخت کے بحران کے حوالے کر چکا ہے۔ ہمیں جان لینا چاہیے کہ تعصب' تشدد کے لیے راہ ہموار کرتا ہے کیونکہ یہ نفرت پیدا کرتا ہے اور نفرت تشدد پر اُبھارتی ہے۔ ہم محسوس کریں یا اس احساس کو جھٹک دیں لیکن یہ حقیقت اٹل درجہ رکھتی ہے کہ ہماری سماجی زندگی کے نظام میںسب سے زیادہ گنجائش تعصب کے لیے رکھی گئی ہے۔ یہ کئی زاویوں سے پھوٹتا ہے مگر نظریاتی زاویے سے پھوٹنے والا تعصب سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ یہ تعصب ہی ہے جو دوسروں کی جانیں لے لیتا ہے اور املاک کو آگ لگوا کر خاکسترکر دیتا ہے۔ ہمارے دیہاتوں میں ،پرانے زمانے اور ان دنوںمیں بھی گندم کی فصل تیار ہو کر گٹھوں کی صورت جب ایک جگہ اکٹھی کردی جاتی ہے تو راتوں رات اس کو آگ لگا دینے کا واقعہ کہیں نہ کہیں رُونما ہو جاتا ہے۔ کسی متوسط طبقے اور محنتی کسان کی اُس سال بھر کی کمائی کو آگ مقامی بڑا کسان یا جاگیردار نہیں' تعصب لگواتا ہے۔ یہ اَمر ذہن نشین رہے کہ تیار فصل کولگنے والی آگ کے شعلے کھیتوں سے عموماً باہر نہیں نکل پاتے مگر کسی مذہبی مقام سے پھوٹنے والی تعصب کی معمولی چنگاری شہر کے شہر جلا کر بھسم کر دیتی ہے اور یہ چنگاری وقتی طورپر مدہم تو پڑ جاتی ہے مگر کبھی بجھتی نہیں۔ تعصب کا کام فیصلہ سنانا ہے اور مکالمے کا در بند کرنا ہے۔ تعصب دوسرے کی آزادی اور رائے کو لغو گردانتا ہے ، یہ خوشی اور عزت کا ازلی دشمن ہے۔ پاکستانی سماج، مذہبی ، معاشرتی، معاشی، ثقافتی ، لسانی اور دیگر نوع کے مختلف تعصبات میںلتھڑا ہوا سماج ہے۔ یہاں پر سانس لینے والے لوگوں کی زندگی تعصبات کی بدولت اجیرن ہو چکی ہے۔ ملک کے ایک کونے میں اگر لسانی تعصب نے تشدد کی صورت پیدا کرکے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تو کسی دوسرے کونے میں مذہبی تعصب نے زندگی کا دائرہ تنگ کیے رکھا۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ علاقوں میں مخصوص تعصبات کی شدت زیادہ ہے۔ لیکن مجموعی طور پر پورا ملک تعصبات کی لپیٹ میں ہے۔

پاکستانی سماج کو ترقی دینی ہے تو رواداری کو بروئے کار لانا ہوگا۔ سماجی ترقی کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے، پائیدار امن کے لیے تنازعات کو ختم کرناہوگا۔ یہ تنازعات اِنفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں عدم رواداری کوفروغ دینا بہت آسان کام بن چکا ہے، آخر ایسا کیوں؟ ایسا اس لیے کہ اپنے سوا کسی کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ عدم رواداری کے خاتمے کے لیے ریاستی قوانین میں رواداری کو بنیادی قانون کا درجہ دلوانا ہوگا۔ کسی بھی ریاست کے قوانین میںیہ درج ہونا چاہیے کہ ''اس ریاست کے ضابطے میں ہر فرد کو آزادی حاصل ہے اور ریاست کے نزدیک تمام جماعتیں اور گروہ، جو مختلف النسل ' عقیدہ ' زبان ،مذہب ہیں، سب برابرکے درجہ کے حامل ہیں۔''عدم رواداری تعصبات سے پھوٹتی ہے اور تعصبات کی بنیاد وہ رویے ٹھہرتے ہیں جو موروثی بھی ہوتے ہیں اور غیر موروثی بھی۔ پاکستانی معاشرے میں دونوں نوع کے رویوں کو مضبوط بنانے کے لیے فضا ہمیشہ سازگار رہی ہے۔ عدم رواداری پاکستانی معاشرے میں کیسے پیدا ہوئی ' اس سے زیادہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عدم رواداری کس حد تک معاشرے کے اندر سرایت کر چکی ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کرلینا ضروری ہیں۔ احمد اعجاز نے سماج سے عدم رواداری کو ختم کرنے کیلئے اپنی کتاب میں متعدد حل بھی پیش کئے ہیں جن کی تفصیل کی ان سطور میں گنجائش نہیں ہے ۔احمد اعجاز کی اس کتاب کا مطالعہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو اس لئے بھی کرنا چاہئے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہمارے سماج میں پھیلی بے شمار برائیاںکون کون سی ہیں اور ان برائیوں سے ہم اپنے سماج کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں