امریکہ یو رپ اور تیسری دنیا

امریکہ یو رپ اور تیسری دنیا

امریکہ اور دو سرے مغربی ممالک کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ ترقی پذیرخصوصاً مسلمان اور غریب ممالک کو معمولی معمولی باتوں پر ہدف تنقید بناتے ہیں۔اپنی ہر چیز کو اچھا اور دوسروں کی ہر چیز کو بُرا کہنا امریکہ اور اہل مغرب کا پراناوتیرہ ہے۔ اپنے آپکو کو مہذب ، اعتدال پسند ، انسان دوست ، دوسرے کا ہمدرد، انسانی حقوق کا علمبر دار گر داننا اور دوسرے ممالک اور خاص طور پر اسلامی ممالک کو انتہا پسند، رجعت پسند اور شدت پسند کہنا امریکہ کی پرانی روش ہے۔ اگر دنیا میں جہالت ، غُربت، بے رو زگاری، مختلف قسم کی بیماریوں اور دوسرے مسائل کو دیکھا جائے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کی بے انتہاء ترقی اور تحقیق کے باوجود بھی ان مسائل میں بتد ریج اضافہ ہو رہا ہے۔غریب ممالک غریب تر اور امیر ممالک امیر تر بنتے جا رہے ہیں۔ Haveاور not Have یعنی غریب اور امیر ممالک کے درمیان فا صلہ مزید بڑ ھتا جا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی سائنسی اور ٹیکنا لوجی کی ترقی کے بل بو تے پر غریب ممالک کے قدرتی وسائل سے بھر پور استفادہ کر کے اپنی معیشت کو دن دگنی رات چو گنی ترقی دے رہے ہیں۔جبکہ اسکے بر عکس غریب اور بالخصوص اسلامی ممالک اپنی بے اتفاقی، سائنس اور ٹیکنالوجی میںپیچھے رہ جانے کی وجہ سے انتہائی بُرے اور نا مسا عد حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔سی آئی اے فیکٹ شیٹ کے مطابق دنیا میں غُر بت کی شرح سے نیچے ممالک میں فلسطین پہلے نمبر پر(81فیصد)، چا ڈ دوسرے نمبر(80فی صد)ہیٹی تیسرے نمبر پر (80 فی صد) جبکہ پاکستان میں غُربت کی شرح 37 فی صد ہے۔اگر دوسری طر ف بے روز گاری کو دیکھا جائے تو بے روز گاری کے لحاظ سے نیورو پہلے نمبر پر(90 فی صد)، فلسطین دوسرے نمبر پر اور اسکی غربت شرح میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا میں شرح اموات میں بوٹس وانا پہلے نمبر پر( 29 فی صد ) ،انگولا دوسرے نمبر پر (25 فی صد)، اورافغا نستان( 25فی صد) تیسرے نمبر پر ہے۔ یونیسیف کے رپورٹ کے مطابق دنیا میں 30ہزار بچے رو زانہ غُربت اور کم غذائیت کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔یو نیسف کی ایک اوررپورٹ کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ایک اعشاریہ پانچ بلین لوگوںکو صا ف پانی اور3بلین لوگوں کو صفائی سُتھرائی کی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ دنیا کے2بلین بچوں میں2ملین بچے سالانہ ہیضے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دنیا کے تین بلین لوگوں کی رو زانہ آمدن2ڈا لر سے کم ہے اور بہت بڑی آبادی غُر بت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے 1.5بلین لوگ اکیسویں صدی کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ترقی یافتہ دور میں بھی ان پڑھ ہیں جو بد قسمتی سے اپنا نام اور دستخط نہیں کر سکتے۔ دنیا میں تقریباً 800 ملین لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ میسرنہیں جبکہ اسکے بر عکس دنیا کے ترقی یا فتہ ممالک کے20فی صد لوگوں کے پاس80 فی صد دولت ہے۔ دنیا کے100مالدار ترین ممالک اور لوگوں میں 51 فی صد ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تفاوت مزید بڑھتا جارہا ہے ۔1960کے اعدادو شمار کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے 20 فی صدمالدار لوگوں کے پاس غریب ممالک کے لو گوں کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ دولت تھی جوبڑھ کر 1997ء میں74گنا 2005ء 80 چند اور 2016 میں 95گنا ہو گئی ہے۔یہ بھی بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ ترقی پذیر غریب ممالک کادنیا کی بر آمدات میں0.4فی صد حصہ ہے ۔ دنیا کے200مالدار ترین لوگوں کے اثاثے تقریباً 2 ٹریلین ڈالر ہیںجبکہ اسکے بر عکس43 ترقی پذیر ممالک کے600 ملین لوگوں کے اثا ثے 140بلین ڈالر ہیں۔یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں ایک بلین لوگ اب بھی انتہائی کم خوراک کا شکار ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ اور یو رپ کے50 ملین لوگوں کے پاس جو دولت ہے وہ ترقی پذیر ممالک کے3 بلین لوگوں سے زیادہ ہے ۔امریکہ اور یورپ غریب ممالک کی باتیں تو کر تے ہیں مگر حقیقت میں غریبوں کے لئے کچھ نہیں کر تے ۔

ایک محتا ط اندازے کے مطابق امریکہ میں کا سمیٹکس پر سالانہ 8 بلین ڈالر ، یورپ میں آئس کریم پر12 بلین ڈالر ، یو رپ اور امریکہ میں فر فیوم پر13بلین ڈالر، پالتو جانوروں کی خوراک اور نگہداشت پر 18بلین ڈالر ، جاپان میں تعیش پرستی پر40 بلین ڈالر ، یو رپ میں شراب نوشی پر 105بلین ڈالر اور دوسری نشہ آوراشیا کے استعمال پر 400 بلین ڈالر جبکہ دفاع پر ایک ٹریلین ڈالر خر چ ہو تے ہیں۔جبکہ اسکے بر عکس تمام ترقی پذیر ممالک میں بنیادی سہولیات پر تقریباً 50بلین ڈالر خر چ کئے جائیں تو انکے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
مگر بد قسمتی یہ ہے کہ امریکہ اور یو رپی ممالک اپنے پالتو جانوروں پر20بلین ڈالر تو خرچ کر سکتے ہیں مگر ان خودغرض،لالچی اور مادہ پرست ، انسانیت اور بشریت کے بنیادی حقوق سے عاری ممالک کو اللہ نے اتنی تو فیق نہیں دی کہ وہ پور ی دنیا کے غریبوں پر50 بلین ڈالر خرچ کرکے انکے مسائل اور مصائب میں کمی کریں۔ غریب ترقی پذیر اور اسلامی ممالک کے وسائل کے لو ٹنے والوں ، انسانی حقوق کے علمبر داروں اور نام نہاد جمہو ریت پسندوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ آخر غریب کو بھی جینے کا حق ہے۔ ان غریبوں کے وسائل کو اتنی بے دردی اور سفاکی سے نہ لوٹا جائے۔

اداریہ