Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت امام جعفر صادق راستے میں جا رہے تھے کہ آپ کو ایک آدمی نے گالی دی۔ آپ نے اسے انعام بھجوا دیا۔ ساتھ میں فرمایا: آپ نے مجھے ایک عیب بتا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے ہزاروں عیب جانتا ہے۔ اس کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے تجھے صرف ایک عیب بتایا ہے باقی نہیں بتائے۔ حضرت امام زین العابدین بن سید نا حسین نے اپنے ایک غلام کو طلب کیا اور دو مرتبہ اسے آواز دی۔ لیکن اس نے لبیک نہ کہا تو حضرت سید نازین العابدین نے اس سے پوچھا کہ تم نے میری آواز نہیں سنی؟

اس نے کہا' کیوں نہیں' میں نے آپ کی آواز سنی تھی۔

انہوں نے پوچھا' پھر تم نے میری آواز پر لبیک کیوں نہیں کہا؟ اس نے کہا کہ مجھے آپ سے کوئی خوف نہیں اور مجھے آپ کے عمدہ اخلاق کا علم ہے اس لئے میں نے سستی کی۔ امام زین العابدین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرا غلام مجھ سے امن میں ہے۔ (برداشت کے حیرت انگیز واقعات)

ملک یمن میں ایک شخص کا باغ تھا۔ وہ اس باغ کے پھل کا ایک بڑا حصہ غریبوں مسکینوں میں صرف کرتا تھا۔ جب وہ مر گیا اور اس کی اولاد اس کی وارث ہوئی تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمارا باپ احمق تھا کہ اس قدر آمدنی مسکینوں کو دے دیتا تھا۔ اگر یہ سب باقی رہے تو کس قدر مال میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ ایک مرتبہ قسم کھا کر یہ کہنے لگے کہ کل صبح چل کر باغ کا پھل ضرور توڑ لیں گے۔ انشاء اللہ بھی نہ کہا اور سو گئے۔ صبح اٹھ کر ایک دوسرے کو چلنے کے لئے پکارنے لگے۔ جب باغ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ باغ تو پورا صاف ہوگیا ہے اور کوئی چیز وہاں موجود نہیں۔اس پر کہنے لگے' ہم راستہ بھول کر کسی اور جگہ آگئے ہیں۔ پھر جب غور کرنے کے بعد یقین ہوا کہ یہی ہمارے باغ کی جگہ ہے' ہم بھولے نہیں ہیں تو کہنے لگے کہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی ہے۔ پھر آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ علمائے کرام نے تصریح کی ہے کہ ان پر عذاب اسی لئے آیا کہ انہوں نے مساکین کا حق جو اللہ نے فرض کیا ہے وہ ادا نہیں کیا۔

فقیہہ ابو للیث سمر قندی سے کسی نے کہا کہ حضرت' اخلاص کے بارے میں بڑا پڑھتے ہیں۔ مثال دے کر سمجھائیں کہ مخلص کون ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: '' تم نے کبھی بکریاں چرائی ہیں؟ اس نے کہا: جی۔ بکریاں چراتے ہوئے کبھی نماز کا وقت آیا؟ کہا جی۔ تو پھر کیسے پڑھتے ہو؟ اس نے کہا کہ مصلیٰ بچھا کے پڑھتا ہوں۔ ارد گرد بکریاں چر رہی ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا: اچھا جب تم نماز پڑھ لیتے ہو تو کیا تمہارے دل میں یہ طمع ہوتی ہے کہ بکریاں میری تعریف کریں گی۔ اس نے کہا' طمع تو کوئی نہیں' بکریوں سے تو کوئی توقع ہی نہیں ہوتی۔ فرمانے لگے کہ جس طرح چرواہا بکریوں کے درمیان بیٹھ کر عبادت کرتا ہے اور اسے بکریوں سے تعریف کی کوئی توقع نہیں ہوتی' مخلص بندہ لوگوں کے مجمع میں بیٹھ کر عبادت کرتا ہے اور اسے کوئی توقع نہیں ہوتی کہ لوگ میری تعریف کریں۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا۔ یہ ہے اخلاص (خطبات فقیر 28' ص40:)

متعلقہ خبریں